’’گائیکی‘‘

ali raza ahmed

حاضر دماغی یاWitt کو نچلے لیول پر بڑا سراہا جاتا ہے لیکن جیسے جیسے اوپر جائیں ایک حاضر دماغ کواپنے دشمنوں میں اضافہ ہی اضافہ نظرآتا ہے کیونکہ اس کے جوابی جملوں کو برداشت کرنے والا بالآخرخود کو احمق تصور کرنے لگ جاتا ہے چنانچہ حاضر دماغ کی کمبختی شروع ہو جاتی ہے۔جب سوال بھی ایسا ہو بتاؤ گائے کس چیز سے نفرت کرتی ہے ؟ ’’ گائیکی‘‘ سے گائیکواڑ صاحب... ایک شخص کا گیس کا بل زیادہ آ گیا دفتر جا کر یوں گویا ہوا...باؤ جی! دیکھنا میرے گھر کی پائپ غلطی سے کہیں دوزخ کو تو نہیں لگ گئی۔
حاضر دماغی اور حاضر جوابی میں شاید فرق معمولی ہو لیکن بڑوں کے آگےWitt بھراجواب دینا جس میں’’ وٹامن ‘‘بھی ذرا ہائی ہوں بذات خود ایک اخلاقی جرم ہے جس کی شاید کوئی قانونی طور پر سزا تو نہیں ہوتی لیکن کئی قسم کی سزاؤں کا سامنابھی کرنا پڑ جاتا ہے۔اگر جوابی وار ملاوٹ ، بناوٹ اورکھچاوٹ سے بھرپور ہو تو وہ گراوٹ کا شکار ہو کروہیں سپرد آفرین ہو جاتا ہے۔ایک جگہ لکھا تھااگر آپ خود کو گڑھے میں محسوس کرتے ہیں تو ۔۔۔۔ فوراً کھدائی بند کر دیں۔حاضر دماغی کی کئی قسمیں ہوتی ہیں اوریہ ضروری نہیں ہوتا کہ سیاسی حاضر دماغ ایک بچے کو بھی فورا مطمئن کر سکے اور دوسری طرف چوری کے بعدکئی دفعہ چور کی حاضر دماغی بھی سامنے آیا کرتی ہے۔ بڑے بڑے ملزم اپنی حاضر دماغی کی وجہ سے بری کر دیے گئے ہیں۔ایک خاص موضوع کی حاضر دماغی شایددوسری جگہ کام نہیں آیا کرتی۔ چارٹرڈ اکاؤٹینسی کے پر چے میں پوچھا گیا کہ France کا کپٹیل کیا ہے طالبعلموں کا جواب حاضر تھا ’’پیرس ‘‘جس کی وجہ سے سب فیل ہو گئے اور ممتحن نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے کہا حالانکہ جواب صرف Fتھا طالب علم پتا نہیں کیوں پریشان ہو گئے۔یورپ میں عام تصور یہی ہے کہ ڈکشنری میں بھی پہلے
Hardworkبعد میںLuck کے الفاظ آتے ہیں اورمحنت پر زور دیا جاتا ہے لیکن پاکستانیوں کی قسمت اس لحاظ سے اچھی ہے کہ ہماری اردو کی ڈکشنری میں قسمت پہلے اور محنت بعد میں دکھائی دیتی ہے۔ باپ نے اپنے بچے کوڈانٹتے ہوئے کہاکہ شرم کرو جارج واشنگٹن تماری عمر میں کمانے لگ گیا تھا بچہ: ابو جی اس بات کا کیا کریں کہ وہ آپ کی عمر میں امریکہ کا صدر بھی بن گیا تھا۔حاضر جوابی کے لئے بعض اوقات جواب دینا بھی ضروری نہیں ہوتا اور خاموشی کی گونج حاضرجوابی سے زیادہ تیز وتند ثابت ہوتی ہے اور اس سلسلے میں کیا گیا ایک چھوٹا سا اشارہ بڑا تیکھا ہوتا ہے۔سردار :تم شادی شدہ ہو؟ ہا ں ہمار ا عورت سے شادی ہوا ہے دوسرسردارا:کیامرد سے بھی شادی ہوتا ہے۔ ہاں ہماری بِلو کا ہوا ہے۔شادی ایک ایسی کوالیفیکیشن ہے جس سے مرد اپنی ’’بیچلر‘‘ ڈگری کھو دیتا ہے اور عورت ’’ماسٹر ‘‘کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے ۔یہ بھی ضروری نہیں کہ ایک حاضر دماغ بیوی ساس کے لئے بھی حاضر دماغ ثابت ہو۔لڑکی کا باپ :میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی ایک غلیظ کے ساتھ زندگی گزارے ۔لڑکا:انکل جی اسی لئے میں اسے بیاہ کر لے جانا چاہتا ہوں۔میرے خیال میں یہ لڑکے کی طرف سے حاضر دماغی کا ناجائز استعمال ہے۔
مالک اپنی فیکٹری کا دورہ کر رہا تھا اس نے غور کیاکہ ایک مزدور کھڑکی سے باہر کا نظارہ لے رہا تھا۔ مالک نے غصے سے پوچھا تمہاری کتنی تنخواہ ہے ۔اس نے کہا تین ہزار۔ اس نے کہا کہ مجھ سے ابھی تین ماہ کے نو ہزار لو اور یہاں اب کبھی نظر نہ آنا ۔اس نے پیسے پکڑے اور سر جھکا کر چلتا ہوا۔اتنے میں چوکیدار گویا ہوا اس پیزا والے کو اتنی ٹپ کیوں دے دی سر؟
کمال حاضر دماغی صرف ڈرائیور میں نظر آیا کرتی ہے جب آپ یہ خبر پڑھتے ہیں کہ ٹرین ڈرائیور نے کمال حاضر دماغی کا مظاہر کرتے ہوئے ایمرجنسی بریک لگائی اور گدھے کو بچا لیا۔وقارمجروح کے مطابق گدھے کو بچانے کی کیا ضرورت تھی حالانکہ رپورٹر نے حاضر دماغی مظاہرہ یہ کیا کہ اس نے ایک بیوقوف کو جو کہ ریلوے لائن کو فٹ پاتھ سمجھ رہا تھا گدھا قرار دے دیا ۔سردارجی کا بیٹا گھر میں دوعدد نئے بستر بچھا رہا تھا سردار نے پوچھا بیٹا یہ بستر کیوں بچھا رہے ہو:بیٹا پتا چلا ہے کہ امی جی کا بھائی اور ماموں آ رہے ہیں۔سردارجی: بیٹا ایک اور بچھا لو میرا سالا بھی آ رہا ہے۔بڑے کہتے ہیں کہ لفظوں سے زیادہ لہجہ اہم ہوتا ہے اور اسی وجہ سے کئی دفعہ حاضردماغ کو بھی لاغر دماغ میں شمار کیا جا سکتا ہے اور عین اس وقت جب اس کی حاضر دماغی پر اس کا سخت لہجہ غالب آجائے۔باکسر محمد علی پر جب اس کے مخالف نے فقرا کسا تو اس نے کہا دھیان کرنا میرے جوابی وار سے دواء بھی بیمار ہو جاتی ہے.. سنا ہے اکثرحاضر دماغ لوگ غریب کے غریب رہ جاتے ہیں لیکن یہودی کس قسم کی حاضر دماغی کی وجہ سے سارے نظام زر پر چھائے ہوئے ہیں ؟...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *