کیا اداسی جدید انسان کا مقدر ہے؟

 کبیر علی

kabir ali

نفسیات اور دیگر سماجی علوم کے ماہرین کی یہ کوشش رہی ہے کہ بنیادی انسانی جذبات کی کوئی فہرست تیار کی جا سکے۔ مثال کے طور پہ جدید فلسفے کے سرخیل رینے ڈیکارٹ نے چھ "سادہ اور بنیادی" انسانی جذبات کی فہرست بنائی جن میں حیرانی،محبت، نفرت، مسرت، خواہش اور اداسی کے جذبات شامل ہیں۔ اسی طرح دیگر ماہرین مثلا ہیوم، ہابز اور اسپنوزا وغیرہ نے بھی اسی نوعیت کی فہرستیں بنانے کی کوشش کی۔ اگرچہ ابھی تک کسی حتمی فہرست پہ اتفاق نہیں ہو سکا۔۔ تاہم اکثر فہرستوں میں اداسی کا جذبہ شامل کیا گیا ہے
فی الوقت یہ سوال ہمارے سامنے ہے کہ کیا ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز ترقی نے اداسی کو جدید انسان کا مقدر ٹھہرا دیا ہے؟ فرض کیجئے کہ آپ سوشل میڈیا کی معروف ویب سائٹ فیس بک پہ فعال ہیں، اب دیکھیے کہ اداسی کن کن راہوں سے آپ تک پہنچتی ہے۔ آپ نے پانچ سال قبل اپنے ایک عزیز کی نا گہانی وفات کی جو خبر فیس بک پہ دی تھی، آج فیس بک نے "میموری" کے فیچر کے تحت آپ کو دوبارہ یاد کروا دی اور آپ کے زخم دوبارہ ہرے ہو گئے۔ اسی طرح دوستوں کے ساتھ ایک خوشگوار ملاقات کا جو "سٹیٹس" آپ نے جاری کیا تھا، وہ بھی فیس بک نے آج آپ کو دوبارہ دکھا دیا اور آپ اس بات کو یاد کر کے اداس ہوتے ہیں کہ سبھی دوست اپنی اپنی دنیاؤں میں بکھر کے رہ گئے ہیں۔ اور اب فقط یادوں کی گرد میں کچھ دھندلی تصویریں باقی رہ گئی ہیں۔
سوشل میڈیا کی حیثیت ایک آئینے کی سی ہو گئی ہے جو صبح و شام ماضی کے نشیب و فراز پہ ایک رواں کمنٹری جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ اپنے استعمال کرنے والوں کو انکے ماضی کا ایک ایک لمحہ دکھاتا ،یاد دلاتا رہتا ہے اور یوں ہم وقت کو گزرتے ہوئے باقاعدہ محسوس کر سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی اس جست سے قبل وقت کے گزرنے کا احساس اتنا واضح نہیں ہوتا تھا۔ برسوں دور رہنے کے بعد کوئی دوست ملاتو اس نے کہہ دیا کہ" یار! تم تو کافی بدل گئے ہو، پہچاننے میں ہی نہیں آ رہے، بال بھی بیچ بیچ میں سفید ہونے لگے ہیں" تب آپ غور کرتے تھے کہ ہاں ، بہت برس بیت گئے۔ مگر آج کی نسل اپنے بچپن، لڑکپن اور نوجوانی کے ایام کو ہر لمحہ اپنے سامنے بکھرا ہوا محسوس کرتی ہے۔ وہ دیکھ سکتی ہے کہ کس طرح وقت نے آہستہ آہستہ اس کے چہرے پہ بے رحم لکیریں کھینچ کے اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔ آج کی نسل وقت کے اس بہاؤ کی وجہ سے اداس ہے، جو اپنے راہ میں آنے والی ہر چیز کو روند کے آگے نکل جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *