طلاق۔ ۔ ۔طلاق۔ ۔ ۔ طلاق(پہلا حصہ)

مہک ایس شیخ

naqab

فری کی شادی ہوئی تو پہلے ہی رات شوہرنے ایک کاغذ اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔وہ ہونقوں کی طرح اس کا منہ دیکھتے رہ گئی۔وہ تحکمانہ لہجے میں بولا:اسے پڑھو۔فری کبھی اُسے دیکھتی اور کبھی کاغذ کو ۔کاغذ پرجو کچھ لکھا تھا،اس میں چیدہ چیدہ چیزیں یہ تھیں۔میں صبح کاناشتہ ساڑھے سات بجے کرتا ہوں اور ناشتے میں دہی کا ایک چھوٹا پیلا لازماً لیتا ہوں،دوپہر کا کھانا پونے دو بجے اور رات کا کھانا سوانو بجے کھاتا ہوں۔کھانے کے ساتھ اچار ،پودینے کہ چٹنی اور سلاد ضرور کھاتا ہوں۔مجھے گرم اور خستہ پاپڑ جیسی روٹی پسند ہے۔چائے میں چینی پون چمچ سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ناشتے سے قبل جوتے ریک میں اور کپڑے کھونٹی پر لٹکے ہوئے ہونے چاہیں۔کپڑوں کی کریز ایک ہو ،بالکل تلوار کی دھار کی طرح،ایک سے زائد کریزیں مجھے غصہ دلا دیتی ہیں۔جوتوں کی پالش ایسی ہونی چاہئے کہ اس میں سے مجھے اپنا منہ نظر آئے۔باتھ روم کے دھبے دیکھ کر میں بہت ڈسٹرب ہوتا ہوں۔میری مرضی کے خلاف کوئی بات ہو جائے تو مجھے غصہ بہت جلد آ جاتا ہے ۔ہمیشہ میرے غصے سے بچنا،کیونکہ غصے میں مجھے اچھے برے کی تمیز بھول جاتی ہے۔میری موجودی میں ٹی وی پر صرف خبروں کے چینل چلنے چاہیں۔عورتوں کے رونے دھونے والے ڈرامے مجھے قطعی پسند نہیں ہیں۔یہ مجھے غصہ دلانے کاسبب بنتے ہیں۔
ایک چھناکا ہواوریکدم سارے شیشے تڑخ گئے ۔زندگی کے آئینوں میں بہت سی لمبی تڑوں کے جال پھیل گئے۔آئینوں میں نظر آنے والا کوئی بھی عکس سالم نہیں تھا۔ہر تصویر ٹکڑوں میں بٹ گئی تھی ۔کوئی اس طرح بھی کرتا ہے!فری خود پڑھی لکھی تھی۔ایم بی اے تک تعلیم حاصل کی تھی اُس نے ۔ بظاہر وہ بھی پڑھا لکھا تھا۔مگر اس طرح تو کوئی جاہل سے جاہل بھی نہیں کرتا۔لوگ نوکر بھی رکھتے ہیں تو اُس کی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ تن خواہ کا بھی ذکر کرتے ہیں۔اس کی سہولتوں کے بارے میں بھی وضاحت کرتے ہیں۔ٹھیک ہے شادی سے پہلے اُس کے گھر والوں نے بتا دیا تھا۔وہ لوگ فری سے جاب نہیں کروائیں گے ،مگر یہ کیسا انسان تھا!یہ کوئی موقع تھا ایسی باتوں کا؟فری کویکدم بہت رونا آ گیا۔وہ زہریلے لہجے میں بولا :میں نے کہا ہے ناں مجھے یہ عورتوں کے رونے دھونے والے ڈرامے بالکل پسند نہیں ہیں،یہ میرے غصے کا سبب بنتے ہیں۔اس کی شکل اچھی نہیں تھی۔رنگ کالا تھا۔دانت بھی غیر متوازن تھے۔ظاہری بد صورتیوں کے باوجود کم از کم زبان تو اچھی ہونی چاہیے تھی۔فری نے گھر میں کبھی بھائی کے جوتے بھی پالش نہیں کئے تھے اورُ اس نے آتے ہی جوتے پالش کرنے کا حکم دے دیا تھا۔فری نے جتنے بھی محل بنائے تھے ،ایک لمحے میں منہدم ہو گئے تھے۔مستقبل کے پیڑ پر پھوٹنے والی ہر کونپل جھلس گئی تھی۔
فری کے سسرالی خاندان میں اُس کا میاں سب سے چھوٹا تھا۔دو بھائی بڑے تھے ،جن کی شادیاں ہو چکی تھیں۔ایک چالیس سالہ کنواری بہن گھر میں دھندناتی پھرتی تھی جبکہ بڑی دو بہنوں کی شادیاں ہو چکی تھیں۔ساس تیس سال سے شوہر سے الگ رہ رہی تھی۔ فری کے باپ نے یہ سوچ کر بیٹی بیاہ دی تھی کہ ٹھوکریں کھایا ہوا، تعلیم یافتہ انسان جہاندیدہ اور بہتر عادات وخصائص کا مالک ہو گا۔مگر وہ اکیلا کیا سبھی گھر والے احساس کمتری کے مارے ہوئے نفسیاتی مریض تھے۔نمازیں پڑھتے تھے تو خیال کرتے تھے اسلام نے انہیں عورتوں کو مارنے ،زد وکوب کرنے اور ان کی ہتک کرنے کا لائسنس دے رکھا ہے۔ قرآن اور حدیث سے ثابت کرتے کہ اللہ اور رسول ﷺنے عورتوں کو مارنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ بات سبحان اللہ سے شروع کرتے اور الحمدللہ پر ختم کرتے تھے۔
فری نے سسرال آ کر سنا کہ گالیاں کیسے ادا کی جاتیں ہیں۔سارے گھر میں گندے اعضاء کے نام اس طرح لئے جاتے جیسے باورچی خانے میں استعمال ہونے والی ترکاریوں کے لئے جاتے ہیں۔وہاں گالیاں دی نہیں جاتی تھیں بلکہ اس گھر میں گالیاں ایجاد کی جاتی تھیں۔شادی کے ایک ہفتے بعد ہی سسرال والوں نے گھر میں کام کرنے والی دونوں ملازماؤں کو چھٹی کروا دی۔ایک دن شوہر نے فری کو طعنہ دیا:ان پڑھ اور جاہل کام والیاں تم سے بہتر جوتے پالش کر دیتی تھیں۔۔۔تم سے تولیٹرین بھی ٹھیک طرح سے صاف نہیں ہوتی!
اور جواب میں فری نے پہلی بار زبان کھولی :بہتر تھا تم نے شادی بھی کام والیوں سے کر لی ہوتی۔میری تعلیم جوتے پالش کرنے کی تو نہیں تھی۔ نہ ہی میں نے لیٹرین کی صفائی میں ایم بی اے کیا ہوا ہے۔سچ سُن کر اُسے واقعی بہت غصہ آ گیا۔الٹے ہاتھ کا طمانچہ فری کے گال پر پڑا تو دانتوں تلے زبان آ کر کٹ گئی۔کان نے سننا بند کر دیا۔اُسے اپنی سدھ بدھ نہ رہی ۔غلیظ گالیاں ،خونخوار آنکھیں اور چلتے ہوئے ہاتھ۔۔۔گھر کا کوئی بھی فرد اُسے بچانے نہیں آیا۔شائدیہ اُن کے گھر کا معمول تھا۔
اُس دن اُس کا ہاتھ اُٹھا تو پھر اٹھتا ہی چلا گیا۔فری نے سب کچھ خود ہی سہہ لیا اور اپنے والدین کو کچھ بھی تو نہیں بتایا۔ابھی تھوڑا عرصہ پہلے اس کی ایک سہیلی کا باپ ان حالات کو برداشت نہ کرتے ہوئے اس دنیا سے چل بسا تھا۔زندگی میں اس سے قبل اُس کی سہیلی کے باپ کو دل کی کوئی بیماری نہیں تھی،پھرنجانے کیوں اُسے ہارٹ اٹیک ہو گیا! وہ نہیں چاہتی تھی کہ اُس کے باپ کے ساتھ بھی کوئی ایسا ہی سانحہ پیش آئے ۔ابھی تو فری کی دو چھوٹی بہنیں اور بیٹھی ہوئی تھیں۔اُس نے دھمکی دی کہ وہ فری کے باپ سے بات کرے گا۔یہ سن کر فری کے لئے جیسے آسمان شق ہو گیا۔اُسے لگا جیسے واقعی اس کا باپ وفات پا گیا ہے۔
فری اس کی منت سماجت کرنے لگی:خدا کے لئے ۔۔۔چاہئے مجھے جان سے مار دو مگر میرے پاپا کو کچھ مت بتانا۔۔۔وہ مر جائیں گے، پلیز ۔۔۔!تم جیسا کہو گے میں ویسا ہی کروں گی ۔فری کے منہ سے ٹھیک طرح سے الفاظ بھی ادا نہیں ہو رہے تھے۔وہ فری کی کمزوری جان کر خباثت سے مسکرایا۔
اب فری پر تشدد کرنے کے لئے اُس کو کوئی وقت ،کوئی بہانہ بھی نہیں چاہیے تھا؟وہ تفریحاً بھی تشدد کرنا شروع کر دیتا۔وہ اُسے زچ کرنے کا کوئی بہانہ جانے نہ دیتا۔وہ باتھ روم میں جانے سے پہلے حکم دیتا کہ لیٹرین کو صاف کرے۔باتھ سے نکل کر وہ پھر اُسے لیٹرین صاف کرنے کا کہتا۔فری نے ایک دنُ اس کی شکایت اپنی ساس اور جیٹھ سے کی ۔وہ ہنس دیے،جیٹھ بولا:تم نے اپنا گھر بسانا ہے کہ نزاکتیں دکھانی ہیں۔وہ تو تمہاری ایگو ،تمہاری خودداری ختم کر رہا ہے۔میری بیوی ایک کارخانے دار کی بیٹی ہے،اُس نے آج تک ایسے نخرے نہیں دکھائے،لڑکی تم کیا چیز ہو!وہ خود ستائشانہ لہجے میں فخر سے بولا:جو کچھ میری بیوی کے ساتھ اس گھر میں ہوا ہے ۔۔۔!تم اگر اُس کی جگہ پر ہوتیں تو خود کشی کر لیتیں۔فری تو اس غلط فہمی کا شکار تھی کہ اُس کی ساس اور جیٹھ اپنے بھائی کو ڈانٹیں گے۔مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ تھا۔
فری اپنے کمرے میں آکر بیڈ پر گر پڑی۔اُس روزوہ جی بھر کر روئی۔شام کو وہ گھر آیا تو ماں نے آتے ہی اُس کے کان بھرے۔اُس نے پتلون سے بیلٹ نکال لی اور اُس کے وجود کو دُھن ڈالا۔وہ فریاد کرتی رہی معافیاں مانگتی رہی مگر کس سے ۔۔۔وہ انسان نہیں تھا،ایک باؤلا کتا ،ایک بھیڑیا،ایک وحشی درندہ تھا۔وہ تو ایک نفسیاتی مریض تھا۔وہ جتنا روتی ،چلاتی وہ اتنا ہی وحشی ہوتا جاتا۔وہ اُس کی چیخ و پکار سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ وہ گندی گالیوں کے ساتھ اُس کو تشدد کا نشانہ بناتا رہا ۔ایسی گالیاں جواُس نے کبھی نہیں سنیں تھیں۔وہ اُس کی بہنوں کے باقاعدہ نام لے کر گالیاں دے رہا تھا۔وہ چیختی ،چلاتی رہی مگر کوئی اس کی مدد کو نہیں آیا۔انسانیت کی اس سے بڑی تذلیل اور کیا ہو گی کہ فری نے چلانے کے لئے منہ کھولا تھا کہ اُس نے اپنے جوتے کی لمبی نوک اُس کے منہ میں ٹھونس دی۔اس اثنا میں اس کی ماں اور بہن بھی آگئیں تھیں،جو پاس کھڑیں اس کا تماشا دیکھ رہی تھیں۔
پھر وہ خود ہی تھک گیا۔ پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان ماں کی گالی دے کر بولا:تمہیں جراٗت کیسے ہوئی بھائی جان سے شکایت کر نے کی! میں ابھی تمہارے ۔۔۔باپ کو فون کرتا ہوں کہ اس ۔۔۔۔کو یہاں سے لے جائے۔
فری نے اپنی ساس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے:ماں جی خدا کے لئے اسے روکیئے ۔۔۔میرا باپ مر جائے گا۔اُس کی ماں نے فری کے باپ کو ایک غلیظ گالی دی:نی ۔۔میں کہوں وہ کل کا مرتا ابھی مر جائے۔
اگلے دن اُس نے فری کی ہتک کرنے کا ایک نیا طریقہ نکالا۔وہ باتھ روم میں گیا تو پاٹ کے باہر گندگی پھیلا کر آ گیا اور ایک شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ اُسے صفائی کرنے کا آرڈینیس جاری کیا۔وہ اپنی بے بسی اور بے کسی پر سسک پڑی ،اس نے فریاد کی :تت۔۔تم جاؤ میں بعد میں صاف کر لوں گی۔
آج پہلی بار اُس نے بات مان لی۔بولا: میرے آنے سے پہلے کمرے اور باتھ کی صفائی شیشے کی طرح ہونی چاہیے۔فری نے اثبات میں سر ہلایا۔وہ چلا گیاتو وہ دھاڑیں مار مار کر بین کر کر کے روئی۔اُسے کسی نے چپ نہیں کروایا۔
پھراُس نے تعزیر کا ایک اور طریقہ نکالا۔وہ وقتاً فوقتاً کمرے کے فرش پر تھوک دیتااور اُسے مجبور کرتا کہ اس کے سامنے صاف کرے۔وہ گھر آتے ہی کمرے کے فرنیچر کو ہاتھ لگالگا کر دیکھتا کہ کہیں گرد تو نہیں لگی ہوئی۔اگر کہیں گرد کا شائبہ بھی ہو جاتا تو وہ بیلٹ نکال لیتا۔ اْس کی ماں نے بھی ساتھ دیتی۔ماں غلیظ گالیاں دیتی جاتی اور وہ اُسے مکوں اور گھونسوں سے مارتا جاتا۔وہ یہ بھی خیال نہ کرتا کہ کوئی چوٹ اس کے جسم کے نازک حصے پر بھی لگ سکتی ہے۔فری اُن کی مار سے بچنے کے لئے پیشاب کا بہانہ کر کے باتھ روم میں گھس جاتی اور کافی دیر تک باہر نہ آتی۔اُس کی چالیس سالہ کنواری بہن نے بہتان لگایا کہ وہ باتھ روم میں جا کر کسی کو فون کرتی ہے۔ فری بے چاری باتھ روم میں ہوتی اور وہ لوگ باہر بیٹھ کر اُس کا انتظار کرتے رہتے۔
وہ شوخی میں ہوتا تو اپنے خاندان کا ذکر بڑے فخر سے کرتا۔وہ کہتا :میں محکمہ تعلیم میں سترہویں گریڈ کا آفیسر ہوں ،میں آج تمہیں طلاق دے دوں تو مجھے ہزاروں رشتے مل سکتے ہیں۔تم سوچو کہ تمہارا کیا بنے گا؟!ایک مطلقہ کو کون قبول کرے گا؟اُس دن تو اُس گریڈ سترہ کے آفیسر نے شرافت اور اونچے خاندان کا سب سے بڑا ثبوت دیا،جب ایک تقریب میں جاتے ہوئے سگیاں پل کے اوپر گاڑی روک اُس نے بالوں سے پکڑ کر فری کو باہر نکالا اور جوتے مارنے شروع کر دئیے ۔راہ چلتے ہوئے لوگوں نے اُسے بڑی مشکل سے پکڑا اور شرم دلائی ۔
فری نے گھر آ کررات ایک عالم دین کو میسج کیا کہ اُس کا شوہر اُسے گندی گالیاں دیتا ہے اور ہر وقت تشدد کا نشانہ بناتا ہے ۔ شریعت میں اس کا کیا حکم ہے ؟نیزان حالات میں اُسے کیا کرنا چاہئے؟ عالم دین نے فری کو ایک وظیفہ بتایا کہ ہر نماز کے بعد وہ باقاعدگی سے اس کا وردکرے اور جب شوہر کو مارنے پیٹنے کا دورہ پڑے تو وہ اونچی آواز میں متعلقہ وظیفہ پڑے ۔اس کے علاوہ عالم دین نے شرعی مسئلہ بیان کیا کہ شوہر بیوی کو اتنا مار سکتا ہے کہ چہرے پر نشان نہ پڑے اور ہڈی نہ ٹوٹے۔۔۔۔!!میسج پڑھ کر فری کے لبوں پر مسکراہٹ تیر گئی۔ عین اسی لمحے وہ اندر آ گیا ،بربریت سے پھنکارا:یہ کس یار کو میسج کئے جارہے ہیں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *