میں بےچارا ٹیلر ماسٹر

razia syed

میں بے چارہ ایک ٹیلر ماسٹر ہوں اور عید کے دنوں کے قریب تو میں اور بھی بے چارا ہو جاتا ہوں کیوں تو اسکا جواب یہ ہے کہ میں لیڈیز ٹیلر ہوں ۔۔ خیرکیا بتائوں آج کا تو دن ہی منہوس ہے صبح سویرے کسی برے کا منہ ہی دیکھا تھا اب یاد آیا کہ میں نے شیشے میں اپنا منہ ہی دیکھا تھا لیکن کل بھی تو میں نے اپنی صورت ہی دیکھی تھی تو دکان پر ستر سوٹ سلنے کے لئے آئے تھے عید ہے ناں جناب اور ہمیں بھی حق حاصل ہے کہ ہم بھی عید منائیں ۔
آج کا دن مجھے برا اس لئے لگ رہا ہے کہ پہلے تو دکان کھولتے ساتھ ہی مسز الیاس آگئیں ان کے کپڑے میں نے کل ہی سی دئیے تھے اور کہا تھا کہ ’’دیکھیں جی آپ اور آپ کی بہنوں کے کپڑوں کے لئے الگ سے درزی بٹھایا تھا میں نے‘‘ ( خیر یہ تو میں ہی جانتا تھا کہ میں نے درزی صرف بٹھایا نہیں تھا بلکہ اس بچے سے کٹائی بھی کروا لی تھی جو بٹن ٹانکنے آتا تھا اب آپ خود بتائیں کہ کاکے کی ماں مجھے کہہ کے گئی ہے کہ عید تک اسکو ٹرینڈ کر دو تو اب میرا کوئی قصورجو میں نے اس سے مسز الیاس کے تمام کپڑے کٹوا بھی لئے ؟ ) اب میں لاکھ صفائیاں دے رہا ہوں لیکن مسز الیاس خیر اب آپ ان کی زبانی میری عزت افزائی ملاحظہ کرلیں۔
’’درزی صاحب ( یہ محترمہ جب خفا ہوتی ہیں تو مجھےٹیلر ماسٹر کی جگہ درزی صاحب کہتی ہیں ) آپ نے سمجھ کیا رکھا ہے کہ ہم تمھارے پرانے کسٹمر ہیں تو تم جو چاہو گے کر لوگے آئندہ سے تو بھائی تم سے پوچھنا ہو گا کہ کپڑے دے رہے ہیں خود سیو گے یا کسی اور کو زحمت دو گے ؟ ہم بھی کہیں کہ ہمارے کپڑے اتنی جلدی کیسے سل گئے یہ نہیں معلوم کہ یہ معجزہ بھی ہو گا کہ اب یہ بٹن لگانے والا استاد بھی بن جائے گا ؟ ۔‘‘( اب کیا بتائوں وہ چار قمیضیں میرے سر منڈھ گئی ہیں کہ شام تک ہی ٹھیک کر کے دے کے جائو بھلا اب کوئی پوچھے کہ کپڑے عید پر پہننے ہیں یا ؟ )
مسز الیاس کے جاتے ہی میں نے سگریٹ سلگایا اب کیا کروں میں ہوں درزی روزہ نہیں رکھتا ، روزہ میں ان خبطی عورتوں سے کون جھک جھک کرے خواہ مخواہ سنا جاتی ہیں مجھے ۔
اف ابھی میں نے سانس ہی لیا تھا کہ خالہ حمیدہ آگئی ، اب میں چھپ بھی نہیں سکتا کہیں بھی کیوں کہ ان کو تو بال کی کھال نکالنے کی عادت ہے اور میری دکان پر تو ایک سٹول ایک تختہ اور تھوڑی سی جگہ ہے جہاں میں ہی اپنی کارکردگی دکھا سکتا ہوں ۔ چلو دیکھو اب یہ کیا کہے گی ۔
’’اوئے منڈیا میں تنیوں کی کہہ کے گئی ساں ، میں نائٹ سوٹ سواناں سی نائٹی نہیں جہیڑا ایڈا وڈا گلا سی دتا ای‘‘ ۔‘( او لڑکے میں تمہیں نائٹ سوٹ سینے کو کہہ کے گئی تھی نائٹی نہیں جو تم نے اتنا بڑا گریبان سی دیا ہے ) ‘
خالہ کو میں نے بہت احترام سے سمجھایا کہ’’ خالہ دیکھو درزی اور نائی دو ایسی معزز شخصیات ہوتی ہیں کہ جن کے ہاتھ کی قینچی کے غلط چل جانے سے فیشن بن جاتا ہے اسلئے آپ غصہ نہ کریں ۔آپ مجھے فالتو کپڑا لا کے دے دیں میں گلے پر لگا کے وہ ’’ ٹائی ٹینک ‘‘ والی ہیروئین کیٹ وینسلٹ والا ڈئیزائن بنا دوں گا ‘‘
’’ناں توں ہن رہن دے ’’ ٹی ٹی نک ‘‘آلے کپڑے میں نئں پانڑیں تسی لوکاں دی تے شرم حیا مک گئی خالہ کپڑا لائو بنا دیتا ہوں وڈا آیا ٹیلرماسٹر ایڈی عقل ہوندی کہ پہلے ہی ناں صحیح سیندا ، لے پھڑ انیوں یا تے اپنڑی کار آلی دا ایپرن بنڑاں یا نکے بچے دا پیممپر ہاں تے نالے سنڑ ہزار روپیہ آرام نال دے جاویں راتی نیں تاں تراخالو ہی لووے ترے کولوں پیسے َ‘‘
(نہیں اب تم رہنے دو ، میں نے ٹائی ٹینک والے کپڑے نہیں پہننے ، تم لوگوں کی شرم حیا ختم ہو گئی ہے ، بڑا ٹیلر ماسٹر آٰیا تم میں عقل ہوتی تو پہلے ہی ٹھیک نہ بنا دیتے ، اب اسے پکڑو اور اپنی بیوی کے لئے ایپرن بنا دو یا بچوں کے پوتڑے ، میرے ہزار روپے آرام سے دے دینا ورنہ تمھارا خالو آکے تم سے پیسے وصولے گا َ )
اب ایک تیسری بے عزتی بھی آج کی تاریخ میں لکھی تھی ۔ چنٹی بٹیا اور بختاور بیگم میں نے سوچا کہ چلو یہ آرہی ہیں اب تو میرا موڈ کچھ بہتر ہو گا لیکن مجھے یہی لگ رہا تھا کہ آج مجھے بے عزتی کے انہی پکوڑوں سے روزہ کھولنا ہو گا بھئی جھوٹ موٹ کا ، خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے کیا ہوا جو میں روزہ نہیں رکھ سکا تو افطار تو کھائوں گا ہی ۔
خیر قصہ مختصر چنٹی بٹیا تو آتے ہی میری دکان پر پائوں مار مار کر زور سے رونے لگیں ، میں نے کہا کہ’’ بھی حوصلہ کرو حوصلہ کیا ہوا ،‘‘ انکل آپ کو نہیں پتہ میں کہہ کے بھی گئی تھی کہ میرے لئے کیپری سئیں آپ نے پالازو سی دیا ‘‘، اوہ بیٹا کیا ہو گیا ،اس دفعہ پلازو ہی پہن لو ۔
اپنی چنٹی بٹیا نے ممی کی طرف دیکھا اور کہا ’’ممی ممی دیکھو انکل کیا کہہ رہے ہیں میری شرٹ کے ساتھ سجتی ہی کیپری ہے اونہہ مجھے نہیں پتہ وہی سی کے دیں ‘‘۔
’’اوہ میرے خدایا میں کتھے چلا جاواں تسی دسو باجی میں کیا کروں‘‘ ( گبھراہٹ میں میرے منہ سے پنجابی اور اردو مکس زبانیں نکل رہی تھیں ) اب باری ہے ممی کے بولنے کی
’’لک ٹیلر ماسٹر آپ کو انفارم بھی کیا تھا کہ یہی سی کے دیں اب اگر میری ڈاٹر کی فرمائش ہی پوری نہ ہوئی تو آپ کا فائدہ سب ٹیلرز کو چھوڑ کے آپ کے پاس آتے ہیں اور اس پہ آپ کے نخرے ، پتہ تو ہے پھر آپ کو خواجہ صاحب کا بیٹی کی ایک بات پوری نہ ہو تو وہ بھی خفگی کرتے ہیں ۔اسے نہیں پتہ کیا کہ پلازو اور کیپری میں کیا فرق ہوتا ہے ؟ چنٹی نے خود ہوم اکنامکس میں ایم ایس کیا ہے ( اب میں ان کو کیا کہتا کہ اگر چنٹی بی بی نے ایم ایس کیا ہے تو قنیچی بھی خود ہی پکڑ لیں ۔ )
’’اوہ باجی اب بس بھی کردیں دیکھیں ابھی ستر سوٹ سلنے کو رہتے ہیں وہ یاد ہے ناں آپ کو انگلینڈ والی باجی سارے سال کے سوٹ سلوا کے لے جاتی ہیں ‘‘۔
’’بس کرو تم ، زیادہ کہانیاں نہ سنائو ، اس لندن پلٹ کے لئے تم ہمارے ساتھ یوں کرو گے تو پھر بیٹا اپنی مارکیٹ بھول ہی جانا ۔ ‘‘
بیگم بختاور خواجہ تو یہ کہہ کر چلی گئی ہیں لیکن میں سوچ رہاہوں کہ عید کے دنوں میں ٹیلر ماسٹری چھڈ نا دیواں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *