ٓٓمایوسی کا پنچ نامہ...ذراہٹ کے

Yasir Pirzadaیاسر پیر زادہ

ہر انسان کی زندگی میں کم از کم تین ایسے مرحلے آتے ہیں جب وہ شدید مایوسی کا شکار ہوتا ہے۔ایک،جب زندگی اسے مسلسل ناکامی سے دوچار کرتی ہے اور وہ تھک ہار کر جدوجہد ترک کردیتا ہے۔دوسرا،جب وہ زندگی میں کامیابی کو چھونے لگتا ہے مگر اچانک اپنے سے زیادہ ذہین اور کامیاب لوگوں کو دیکھ کر ان سے حسد کرنے لگتاہے اور پھر دلبرداشتہ ہوکر بیٹھ جاتا ہے ،اور تیسرا جب وہ محبت میں ناکام ہوتا ہے ۔
دنیا میں ناکام انسان تلاش کرنا مشکل کام نہیں ،ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں ،مایوسی ان میں اس قدر کوٹ کر بھری ہوتی ہے کہ بعض اوقات اس مایوسی کے اثرات کئی مربع فٹ تک محسوس کئے جا سکتے ہیں ،تاہم صرف ناکام شخص کوکلی طور پر مورد الزام ٹھہراناٹھیک نہیں کیونکہ یہ دنیا اس قدر سفاک جگہ ہے کہ یہاں کوئی بھی شریف آدمی زیادہ عرصے تک محض اپنی شرافت کے بل بوتے پر زندہ نہیں رہ سکتا ہے، ضروری ہے کہ شرافت کے ساتھ ساتھ اس کے پاس کوئی ایسی گدڑ سنگھی بھی ہو جو اسے بے رحم معاشرے میں عزت سے جینے کے قابل بنا سکے۔ بعض اوقات زندگی میں کامیابی کے لئے کچھ لوگوں سے نفرت کرنا بہت ضروری ہو جاتا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ کچھ لوگوں سے آپ کی نفرت زندگی میں کامیابی کا باعث بن جاتی ہے (ممکن ہے آپ کو نفرت کا لفظ پسند نہ آئے ٗیہاں نفرت سے مراد venomہے)۔ اپنے اردگرد موجود لوگوں پر نظر دوڑائیں اور پھر ان افراد کی فہرست مرتب کریں جو زندگی کی دوڑ میں آپ سے میلوں آگے ہیں،تاہم یہ فہرست بناتے وقت خیال رہے کہ ان میں صرف ان لوگوں کو شامل کریں جو آپ کے خیال میں او ل درجے کے بیہودہ اور ذہنی لحاظ سے پست ہیں، آپ کو یہ دیکھ کر دلی صدمہ ہوگا کہ ایسے لوگوں کی تعداد کم نہیں۔ تاہم مزید مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ زندگی کی جس جنگ کو لڑتے لڑتے آپ تھک چکے ہیں وہ اسی صورت جیتی جا سکتی ہے اگر آپ ان لوگوں کو دیکھ کر عبرت پکڑیں اور صبح نہار منہ تین مرتبہ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر یہ جملہ دہرائیں :’’کبھی کبھی میں سوچتا ہوں زندگی سے ہار مان لوں، پھرخیال آتا ہے کہ نہیں، مجھے بہت سے خبیث اور بے ہودہ لوگوں کو غلط ثابت کرنا ہے۔‘‘ اس کے بعد آپ کا دن خوشگوار گذرے گا‘ مایوسی آپ سے دور بھاگے گی اور یہ خیال آپ کو تقویت دے گا کہ اگر دنیا میں اس قسم کے اوسط درجے کے لوگ کامیاب ہو سکتے ہیں تو آپ کی کامیابی کے امکانات تو ان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں۔ یاد رہے کہ ایسے لوگوں کی فہرست ہر وقت آپ کی جیب میں ہونی چاہئے اور دن میں اسے ایک مرتبہ جیب سے نکال کر ضرور پڑھنا چاہئے ٗاس فہرست میں چھپا ہوا زہر(venom )ہی آپ کے لئے تریاق کا کام کرے گا‘ اپنے مقابلے میں کم ذہین اور نااہل لوگوں کی کامیابی آپ کو چین سے بیٹھنے نہیں دے گی اور آپ کی یہی بے چینی اور تڑپ آپ کی کامیابی کی ضمانت بن جائے گی۔ اس کلیے پر عمل درآمد کے ضمن میں ایک بات کا خیال رہے کہ اپنی کسی ناکامی کا جواز اس بات میں ہرگز نہ تلاش کیا جائے کہ جن لوگوں کی آپ نے فہرست بنائی تھی آپ ان کا مقابلہ اس لئے نہیں کر سکتے کیونکہ وہ لوگ دو نمبر کام کرتے ہیں اور آپ فرشتے ہیں۔ یاد رہے کہ میٹرک کی سند میں عمر کم کروانے سے لے کر امتحان میں نقل کرنے تک اور نوکری کے حصول کے لئے تجربے کا جھوٹا سرٹیفکیٹ بنوانے سے لے کر ویزے کے لئے جعلی دستاویزات تیار کرنے تک ہم وہ تمام دو نمبرکام کرتے ہیں جہاں ہمارا بس چلتا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ زندگی میں کامیابی کے لئے غیر قانونی ہتھکنڈے اپنانا جائز ہے، اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ناکامی کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔
انسان کو اس وقت بھی خاصی مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ کامیابی کے قریب تو ہوتا ہے مگر اپنے سے زیادہ قابل اور بظاہر عقل مند لوگوں کی چکاچوند اسے حسد میں مبتلا کر دیتی ہے اور وہ بجائے محنت کرنے کے یہ سوچ کر دلبرداشتہ ہو جاتا ہے کہ وہ ان لوگوں جتنا ذہین نہیں لہٰذا کامیابی کے اس معیار کو کبھی نہیں چھو پائے گا سو سر پٹخنے کا کیا فائدہ! یہ بات سوچتے ہوئے لوگ اگر ایک فقرہ یاد رکھیں تو شائد انہیں افاقہ ہو جائے :’’زندگی میں عدم تحفظ کا احساس اس وقت شدید ہو جاتا ہے جب ہم اپنی درپردہ جدوجہد کا تقابل دوسروں کی ظاہری چکا چوند سے کرتے ہیں۔‘‘ اکثر لوگ دوسروں کی چمچماتی گاڑیاں اور محل نما کوٹھیاں دیکھ کر آہیں بھرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کاش میں بھی ایسا ہی نصیب لے کر پیدا ہوا ہوتا ٗحالانکہ یہ دعا کرنے سے پہلے تھوڑی سی تحقیق کرنا بہت ضروری ہے ٗکیونکہ جس شخص کی ظاہری آن بان دیکھ کر قسمت پر رشک کیا جاتا ہے اس کی زندگی کی بیلنس شیٹ میں صرف اثاثے ہی نہیں قرضے بھی ہوتے ہیں ٗدنیا کا بڑے سے بڑا چارٹرڈ اکائونٹنٹ بھی ایسی بیلنس شیٹ نہیں بنا سکتا جس میں صرف assetsہوں اور liabilitiesنہ ہوں، تو کیا کُل کائنات کے ’’چارٹرڈ اکائونٹنٹ ‘‘سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ایسی بیلنس شیٹ بنائے جس کی دونوں سائیڈز برابر نہ ہوں! دراصل ہم یہ جاننا ہی نہیں چاہتے کہ بظاہر دولت مندنظر آنے والا شخص (ضروری نہیں کہ وہ کامیاب بھی ہو) اس مقام تک کتنی کڑی محنت کے بعد پہنچا اور اب بھی وہ اس مقام کو برقرار رکھنے کے لئے کتنے پاپڑ بیلتا ہے۔ دوسری طرف ہمیں اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا ادراک ہوتا ہے اس لئے لاشعوری طور پر جب ہم ایک نظر اپنی نالائقیوں پر ڈالتے ہیں اور دوسری نظر لوگوں کی ظاہری شان و شوکت پر تو دراصل ہم اپنی بیلنس شیٹ کے قرضوں کا دوسرے شخص کے اثاثوں سے موازنہ کر رہے ہوتے ہیں ،ایسا کرتے وقت ہم اس شخص کی liabilitiesکا شمار کرنا بھول جاتے ہیں جن میں اس کی بیماریاں، نا خلف اولاد ، سرکش بیوی یا خاوند ضرور ہوتا ہے ۔آئندہ جب بھی آپ اپنے سے زیادہ ’’چوکس‘‘ شخص کو دیکھیں تو اس کی قسمت پر رشک کرنے سے پہلے ایک دفعہ اس کی اور اپنی بیلنس شیٹ ضرور ’’ٹیلی‘‘ کر لیں ،ایسا نہ ہو کہ آپ کی بیلنس شیٹ کی قیمت اس سے زیادہ ہو!
مایوسی کی تیسری بڑی وجہ محبت میں ناکامی ہے ،جو شخص محبت میں تازہ تازہ ناکام ہوتا ہے اس کے سامنے لاکھ سر پٹکیں، سچی محبت کا فلسفہ سمجھائیں یاروحانیت کی طرف قائل کرنے کی کوشش کریں ،اس کی سوئی تب تک وہیں اٹکی رہتی ہے جب تک اسے یہ پتہ نہیں چل جاتا کہ جس کی خاطروہ اس قدر ہلکان ہوتا رہا ہے وہ تو اطمینان سے اپنے خاوند کے ساتھ گاڑی میں نئی نویلی دلہن بنی گھومتی پھرتی ہے اور آپ ہیں کہ ہاتھوں میں جام لئے دیوداس بنے بیٹھے ہیں۔دنیا بھر کے ناکام عاشق اور محبوب ننانوے فیصد کیسوں میں نہ صرف خوش و خرم زندگی گذارتے ہیں بلکہ انہیں یاد بھی نہیں رہتا کہ کسی زمانے میں و ہ جس کے لئے جیتے مرتے تھے اس کا نک نیم کیا تھا ! مگر یہ اسی صورت ممکن ہے اگر مایوسی کا وہ دور صبر سے گزار لیا جائے، جو ایک فیصد لوگ صبر نہیں کر پاتے ، وہ جلد باز ہوتے ہیں جو محبوب کی خوشیاں دیکھنے سے پہلے ہی اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں ،حالانکہ ایسے لوگ اگر کچھ عرصہ ٹھہر جائیں تو انہیں یہ جان کربے حد تقویت ملے کہ ان کی محبوبہ (اپنی) شادی کے پہلے ہی سال چاند سے بیٹے کی امّاں بن گئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *