تذبذب اور کنفیوژن کا فائدہ اور نقصان

انجم نیاز

Anjum Niaz
اگر آپ کو طالبان کے ایک سابق رکن سے یہ سننے کو ملے کہ اس نے تحریکِ طالبان اس لیے چھوڑ دی کہ اس کی قیادت تذبذب کا شکارتھی اوریہ کہ اس میں کسی فیصلے پر پہنچنے کی ہمت نہ تھی، تو آپ کو حیرت تو نہیں ہوگی؟گمان ہے کہ طالبان کا سابق رکن بھی اپنی قیادت کو اسلام آباد کی قیادت کی طرح کنفیوژن کا شکار سمجھ رہا ہو جو اہم فیصلے وقت پر نہیں کرپاتی اور قیمتی وقت گنوا دیتی ہے۔ طالبان کے ایک سابق رکن کا کہنا ہے کہ وہ اور اس کے بہت سے ساتھی معمول کی زندگی بسرکرنا چاہتے ہیں کیونکہ جس مقصد کے لیے اُنھوں نے تحریک میں شمولیت اختیار کی تھی، اس کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ طالبان کے نمائندے کا کہنا ہے وہ شریعت (اپنی من پسند) کا نفاذ چاہتے تھے لیکن اب ان کو احساس ہورہا ہے کہ یہ اس طریقے سے ممکن نہیں۔
طالبان کے رکن کی کچھ ذرائع سے باتیں سن کر یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ وہ اور اس کے ساتھی چاہتے تھے کہ وہ بھرپور قوت استعمال کرتے ہوئے ریاستِ پاکستان کو اپنی بات ماننے پر مجبور کردیں لیکن ان کی اعلیٰ قیادت نے یہ بات نہ مانی ۔ شاید اس کے پیشِ نظر کی ’’سیاسی‘‘ مصلحت تھی۔ اس کاکہنا تھا کہ پاکستان کے سول حکمران بدعنوان ہیں، اس لیے زیادہ ترلوگ ان سے تنگ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ کسی ’’متبادل‘‘ کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ اس ضمن میں انہیں متبادل سیاسی قوتوں پر بھی اعتماد نہیں رہا کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ یہ باری کا کھیل ہے۔ طالبان کے نمائندے کا کہنا تھا کہ ان کی طرح پاکستان کے لوگ بھی اس بات پر قائل ہوتے جارہے ہیں کہ انتخابات مسلے کا حل نہیں، حصہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں صرف دولت مند افراد حصہ لے سکتے ہیں۔ رزقِ حلال انتخابی سرگرمیوں پر اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ الزامات نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ ووٹ ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں، اس کے لیے نیک اور صالح افراد کو ہی سامنے آنا پڑے گا۔
طالبان کی حکمتِ عملی سے ناراض ان کے منحرف ساتھی نے تسلیم کیا کہ ان عسکری قوت پاک فوج کے مقابلے میں کچھ نہیں لیکن اس نے معنی خیز مسکراہٹ سے کہا کہ اس جنگ کومرتکز کرنے کی بجائے پھیلایا جائے گا۔ ملک بھر میں ہمارے حامی موجود ہیں اور وہ ہر نما ز کے بعد ہماری کامیابی کے لیے دعاگوہوتے ہیں۔ چونکہ ان سے کوئی باز پرس نہیں کرتا، اس لیے گمان ہے کہ لوگ ہماری کامیابی کے متمنی ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ جب بہت سی سیاسی اور مذہبی جماعتیں ہماری حامی ہیں توفوج ہمارے خلاف فیصلہ کن کاروائی کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچے گی۔ اس کے علاوہ عدلیہ کی تلوار بھی دفاعی اداروں کے سر پر لٹکائی جاچکی ہے۔ جب ان کو چلائی جانے والی ہرگولی کا حساب دینے کا دھڑکا لگارہے گا، ہر گم شدہ فرد کی بازیابی یقینی بنانا ہوگی(چاہے وہ ہمارے ساتھ افغانستان کیوں نہ جاچکا ہو) تو اُنہیں ہمارے خلاف ہتھیار اٹھانے سے پہلے سو بار سوچنا پڑے گا۔
طالبان کے رکن کو اس بات پر افسوس تھا کہ جب فضا اس قدر سازگار ہے توان کی قیادت عملی طورپرسامنے آکر پاکستانیوں کو اعتماد میں کیوں نہیں لیتی۔ اسے یقین تھا کہ اس صورت میں پاکستان میں اسلامی نظام (ان کی مرضی کا) کے نفاذ لازمی ہوجائے گا۔ جب وہ اس وعدے سے سامنے آئیں گے تو لوگ ان کی بات مانیں گے۔ اس کا کہنا تھا کہ ماضی میں ان کے پاس بھی سنہری موقع تھا جب سابق حکومت این آر او اور پھر میموگیٹ کے الزام کی زد میں بوکھلاہٹ کا شکار تھی جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں اسے عدالت میں گھسیٹ کر بے توقیر کرکررہی تھیں تو وہ وقت قیادت (طالبان ) کے سامنے آنے کا تھا، لیکن افسوس وہ موقع ضائع کردیا گیا۔ قسمت ایسے مواقع بار بار عطانہیں کرتی۔
طالبان کے نمائندے کواپنی قیادت سے یہ بھی شکایت تھی کہ وہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ پاکستان میں ملاوٹ زدہ اشیا فروخت ہوتی ہیں، پانی ملا دودھ اور گوشت ، جعلی ادویات، مشہور برانذز کی نقول فروخت ہوتی ہیں۔امیر غریب کافرق بڑھتا جارہا ہے، رشوت اور بدعنوانی عام ہیں ، بنائے گئے قوانین کا کوئی احترام نہیں کرتا تو انقلاب کے اس سے زیادہ موزوں اور کون سا وقت ہوگا؟ لیکن پھر وہی شکایت... جب قیادت ہی نااہل ہوتو پھر کسی اورسے کیا شکوہ؟
جب پوچھا گیا کہ جب وہ موجودہ تحریکِ طالبان سے ناخوش ہے تو وہ کیا وہ کوئی الگ تحریک بنانے کا سوچے گا تو اس نے نفی میں جواب دیا۔ اس نے کہا کہ ان کی تحریک سیاسی بنیادوں پر نہیں چلائی جارہی۔ وہ احتجاجاً الگ ہوا ہے لیکن جب وہ دیکھے گا کہ ان کی قیادت اب دانشمندی سے آگے بڑھ رہی ہے تو وہ پھر اسے اپنی خدمات غیر مشروط طور پر پیش کردے گا۔ اس کا کہنا تھا کہ ان کے نظریات ایک ہیں، بس طریقِ کار پر فرق ہے۔ یہ فقرہ سن کر مجھے ایسا لگا کہ جیسے میںیہ بات پہلے بھی کسی سے سن چکی ہوں۔ قارئین آپ نے بھی سنی ہوگی۔ مجھے یاد نہیںآرہا، آپ کو یاد آجائے تو مجھے ضرور بتائیے گا ، لیکن اگر آپ بھی میری طرح خائف ہوں تو پھر بھول جانے کی اداکاری ہی بہترین حکمتِ عملی ہے۔ جب پوچھا کہ پاکستانی میڈیا میں بھی ان کے لیے بہت سی حمایت پائی جاتی ہے تو اس نے نفی سے سرہلاتے ہوئے کہاکہ اگرچہ میڈیا پر بہت سے حلقے ہمہ وقت طالبان کے گن گاتے ہوئے ان کے خلاف فوجی اپریشن کی مخالفت کرتے ہیں یا اس جنگ کو امریکی جنگ (اس پر اس نے زوردار قہقہہ لگایا ) قرار دیتے ہیں لیکن یہ لوگ ناقابلِ اعتبار ہیں کیونکہ ایسے لوگ ....(یہاں جو اس نے مثال دی وہ ناقابلِ اشاعت لیکن قابلِ فہم ہے)۔ تاہم اس نے تسلیم کیا کہ ان افراد نے ڈرون حملوں کے دوران، جب کہ ان کی تحریک حقیقی مشکلات کا شکار تھی، ان کے حق میں اتنی آواز بلند کی کہ پاک فوج کو اس موقع پر کاروائی سے باز رہناپڑا ورنہ اگر طالبان کو شکست دی جاسکتی تھی تو وہ سنہری وقت تھا۔
عزیز قارئین نمائندہ فرضی ہوتو ہو، یہ انٹرویو حقائق پر مبنی ہے۔ دراصل ہم ایک ایسی جنگ لڑرہے ہیں جسے ہارنے کا ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں لیکن ہم ابھی تک کنفیوژن کا شکار ہیں۔ تاہم یہ جان پر خوشی ہوئی کہ ایسی ہی کنفیوژن ادھر بھی پائی جاتی ہے۔ تاہم ایک دھڑکا سادل کو لگارہتا ہے کہ ہمارے معاملات ، جن کی نشاندہی کی گئی،ا ن کو مزید حوصلہ دیں گے اور ہوسکتا ہے کہ ہم سے پہلے ان کی کنفیوژن دور ہوجائے۔ گویا اب یہ معاملہ دو کنفیوژنز کا ہے ... دیکھنا یہ ہے کہ کس کی پہلے دو ر ہوتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *