گدھے ہمارے بھائی ہیں

MHTمستنصر حسین تارڑ

تو بارے گدھوں کے کچھ بیاں ہو جائے کہ گدھا سب جانوروں سے کام کا اور فعال جانور ہے۔۔۔ شاید میں پہلا خودساختہ دانشور ہوں جس نے یہ حقیقت دریافت کی ہے کہ بیشتر امریکی گدھے ہیں بلکہ بصد ادب عرض کرتا ہوں کہ فی زمانہ صدر اوباما سب سے بڑے گدھے ہیں کہ ڈیموکریٹ پارٹی کا امتیازی نشان گدھا ہے۔۔۔ اور پچھلے دو الیکشنوں میں امریکی عوام نے ڈیموکریٹس کو ووٹ دیا ہے یعنی گدھے کو پسند کیا ہے۔۔۔ اوباما ظاہر ہے اس پارٹی کے سربراہ ہونے کے ناتے بجا طور پر سب سے بڑھے گدھے کہلائے جانے کے حقدار ہیں۔۔۔ ادھر ہماری حکمران پارٹی کا نشان شیر ہے۔۔۔ یعنی شیروں کی حکومت ہے لیکن یہ عجیب سے شیر ہیں کہ اپنے ملک کے معاملات چلانے کے لئے گدھوں سے نہ صرف مشورہ لیتے ہیں، ان کے احکامات کے سامنے دُم ہلانے لگتے ہیں بلکہ امداد کی بھیک والا کشکول بھی گدھوں کے سامنے دراز کرتے ہیں۔۔۔ گدھے مہربانی کرتے ہیں اور شیروں کے کشکول میں کچھ ڈالر ڈال دیتے ہیں جس سے گلشن کا کاروبار چلتا رہتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ گلشن فیض صاحب والا یا والی نہیں ہے۔۔۔ شنید ہے کہ ایک عمر رسیدہ طوائف گلشن نام کی تھی جس کے ہاں نہ کوئی آتا تھا اور نہ کوئی جاتا تھا، اگر کوئی بھولا بھٹکا آتا تھا تو دوبارہ نہ آتا تھا تو اس نے بیکاری سے تنگ آ کر اپنے کوٹھے کے باہر ایک تختی آویزاں کر دی جس پر لکھا تھا، چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے۔۔۔ چنانچہ کاروبار چل نکلا۔۔۔ ویسے آپ نے بھی غور کیا ہو گا کہ حکمران پارٹی کا نشان ایک چیتا ہے، شیر نہیں۔۔۔ بہرطور یہ محکمہ انسداد بے رحمی برائے حیوانات کا کام ہے کہ وہ ہمارے حکمرانوں کو سمجھاتے کہ حضور آپ نے اپنی رہائش گاہ کے باہر ببرشیروں کے مجسمے سجا رکھے ہیں جبکہ بیلٹ پیپر پر تصویر ایک چیتے کی ہوتی ہے۔۔۔ بہرطور بیان گدھوں کا ہو رہا تھا جو ان دنوں ہمارے ان داتا ہیں اور بیچ میں شیر دُم ہلانے لگے۔۔۔ میں گدھوں کی فضیلت کے بارے بہت سے تاریخی اور مذہبی حوالے دے سکتا ہوں۔۔۔ اور ان میں سب سے افضل خرِ عیسیٰ ہے جس کے بارے میں ایک فضول سی روایت ہے کہ خرِ عیسیٰ اگر مکہ بھی گیا اور لوٹا تو ایک خر یا گدھا ہی رہا۔۔۔ اب آپ ہی انصاف فرمایئے کہ مکہ سے لوٹنے پر وہ غریب کیا ہو جاتا، اونٹ ہو جاتا، زرافہ ہو جاتا، گدھا گیا تھا تو گدھا ہی واپس آنا تھا ناں۔۔۔ جیسے لاکھوں لوگ مکہ جاتے ہیں تو واپسی پر انسان ہی رہتے ہیں ناں۔۔۔ گدھے بے چارے کو کیوں موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے۔
حیوانات کی تعداد کے حوالے سے ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق پاکستان میں آبادی کے تناسب سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ گدھے پائے جاتے ہیں۔۔۔ اور سب کے سب گدھے نہیں ہوتے ان میں یقیناًگدھیاں بھی شامل ہیں ورنہ اتنے گدھے کہاں سے آ جاتے۔۔۔ دیگر پاکستانیوں کی مانند گدھے بھی خاندانی منصوبہ بندی پر یقین نہیں رکھتے۔۔۔ ان میں ان کی کچھ بدنی مجبوریوں کا بھی عمل اور بہت سارا دخل ہے۔ خرِ عیسیٰ کے علاوہ تاریخ عالم میں سب سے مشہور ملّا نصرالدین کا گدھا ہے۔۔۔ حکایت ہے کہ ایک پڑوسی ملّا سے اس کا گدھا مانگنے کے لئے آیا تو ملّا نصرالدین نے کہا کہ افسوس اسے تو میرا ایک دوست ابھی ابھی مانگ کر لے گیا ہے۔ اس دوران گھر کے اندر بندھے گدھے نے ڈھینچوں ڈھینچوں کا الاپ شروع کر دیا تو پڑوسی نے کہا، ملاّ جھوٹ بولتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی، گدھا بول رہا ہے اور تم کہتے ہو کہ اسے تمہارا کوئی دوست لے گیا ہے تو ملاّ نصرالدین نے نہایت سنجیدگی سے کہا۔۔۔ شرم تو تمہیں آنی چاہئے۔۔۔ میری زبان کا اعتبار نہیں کرتے گدھے کی زبان پر اعتبار کرتے ہو۔۔۔ صرف ہم پاکستانی ہیں جو امریکی گدھے کی زبان کا ہی اعتبار کرتے ہیں اور پچھلے چھیاسٹھ برس سے کرتے چلے آئے ہیں۔۔۔ اگر نصف شب کے قریب وہ فون کر کے کہتا ہے کہ تم ہمارے ساتھ ہو یا نہیں، ہاں یا نہ میں جواب دو تو ہمارے کمانڈو جنرل کھڑے ہو کر سلیوٹ کر کے کہتے ہیں، قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے۔۔۔ اور ہم افغانستان سے بیاہے جاتے ہیں۔
ہم نے اپنے گدھوں کی قدر اس لئے بھی نہیں کی کہ ہم اکثر نہایت لاڈ سے اپنے بیٹوں کو ’’کھوتے دا پُتر‘‘ کہتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ اگر وہ پُتر ہیں تو آپ کے ہیں۔۔۔ چنانچہ میں نے کبھی بھی اپنے بیٹوں کے ساتھ اس نوعیت کا لاڈ نہیں کیا۔۔۔ البتہ پچھلے دنوں جب میرا پوتا یاشار منہ بسور رہا تھا اور دنیا کا سب سے پیارا بچہ لگ رہا تھا تو میں نے کہا ’’اوئے کھوتے‘‘ تو وہ ایک انگریزی میڈیم، پنجابی تو کیا اردو بھی نہ جانے کہنے لگا ’’دادا یہ کھوتا کیا ہوتا ہے؟ تو میں نے کہا، بیٹے کھوتا کا مطلب ہے ڈنکی۔۔۔ تو وہ بے حد خوش ہوا۔۔۔ کہ دادا آئی لَو ڈنکیز۔۔۔ کیا بابا بھی ایک ڈنکی ہیں۔۔۔ تب میں نے اسے ڈانٹ دیا کہ خبردار جو میرے بیٹے کو ڈنکی کہا تو۔۔۔ کیونکہ ازاں بعد مجھے بھی ڈنکی ہو جانا تھا۔
لاہور کی سڑکوں پر اکثر ایک دلچسپ منظر نظر آتا ہے اور میری مراد جاوید نظر سے نہیں ہے۔۔۔ یعنی ایک گدھا گاڑی پر اتنا بوجھ لاد دیا جاتا ہے کہ یکدم اس کے آگے بندھا گدھا فضا میں معلق ہو جاتا ہے۔۔۔ اور ہوا میں ٹانگیں چلانے لگتا ہے۔ گاڑی بان اسے گردن سے پکڑ کر نیچے لاتا ہے اور جونہی چھوڑتا ہے وہ سامان کے بوجھ سے پھر سے فضا میں اٹھ جاتا ہے۔۔۔ بے شک گدھے کی اس معلق حالت میں ایک بے چارگی ہوتی ہے لیکن جس طور وہ ٹانگیں چلاتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ خلا میں رقص کر رہا ہے اور تب آپ پر کھلتا ہے کہ رقص کو اعضاء کی شاعری کیوں کہا جاتا ہے، تھوڑے لکھے کو بُہتا سمجھیں کہ گدھے کے اعضاء ہی تو اس کا سب سے قیمتی اور قابل رشک اثاثہ ہوتے ہیں۔۔۔ شاید اس لئے کہ بقول غالب، گدھے آم نہیں کھاتے۔ اگر اس بین الاقوامی سروے کے مطابق پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ گدھے پائے جاتے ہیں تو وہ کیا جانتے کہاں کہاں پائے جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *