رات کے گیارہ بجے

Photo Attaul Haq qasmi sbگزشتہ روز میرے ایک دوست نے فون کیا۔ میں نے کہا’’رات کو گیارہ بجے کے بعد فون کرنا‘‘ اور فون بند کردیا۔ایک دوست ملنے آئے، میں نے انہیں دروازے ہی سے رخصت کردیا اور کہا’’رات کو گیارہ بجے‘‘ کے بعد تشریف لائیں، آرام سے بیٹھ کر باتیں ہونگی۔بچوں نے سکول کا کام کرنے کے لئے بستے کھولے تو میں نے انہیں ڈانٹ کر کہا’’یہ کام کرنے کا‘‘ وقت ہے، رات کو گیارہ بجے کے بعد کرنا۔والد ماجد جن کی عمر ماشاء اللہ86برس ہے، سونا چاہ رہے تھے مگر انہیں نیند نہیں آرہی تھی، میں نے ’’کہا‘‘آپ گیارہ بجے کے بعد سونے کی کوشش کریں، انشاء اللہ نیند آجائے گی۔ایک دوست کا فون آیا کہیار مجھے بخار سا ہورہا ہے گھر پر کوئی نہیں ہے اگر ہوسکے تو مجھے ڈاکٹر سے دوا لادو’’ میں نے کہا‘‘میں حاضر ہوں، مگر تم کوشش کرو کہ بخار تمہیں رات کے گیارہ بجے کے بعد چڑھے کہ اسی میں تمہارا فائدہ ہے۔میرے دوست اور عزیز و اقربا میری طرف سے عائد شدہ اس عجیب و غریب ٹائم کی پابندی سے بہت نالاں تھے، چنانچہ میں نے اپنی پوزیشن صاف کرنے کا فیصلہ کیا۔
دوست کا فون آیا تو میں نے اس سے گپ شپ کرنا شروع کردی، چند لمحوں کے بعد اس نے کہا’’یار یہ جو تم نے گانوں کی ٹیپ لگائی ہوئی ہے، خدا کے لئے اسے تو بند کرو یا اسے آہستہ ہی کردو، تمہاری آواز سنائی نہیں دے رہی‘‘ میں نے کہا’’برادرم! یہ گانوں کی ٹیپ نہیں، سلطان باہو کا کلام گایا جارہا ہے‘‘ اور یہ آواز میرے کمرے سے نہیں، برابر والی مسجد سے آرہی ہے۔دوست نے کہاٹھیک ہے، میں تھوڑی دیر بعد فون کرلوں گا! میں نے کہا ’’تھوڑی دیر بعد ‘‘نہیں، رات کے گیارہ بجے کے بعد کرنا، کیونکہ یہ پروگرام رات گیارہ بجے تک جاری رہتا ہے۔ایک دوست ملنے کے لئے آئے تو میں نے انہیں دروازے ہی سے رخصت کرنے کی بجائے ڈرائنگ روم میں بٹھایا، چائے منگوائی اور گپ شپ شروع کردی، تھوڑی ہی دیر بعد وہ ناراض ہوگئے اور کہنے لگے ’’یہ تم نے کیا کہا کہ تم دوزخ میں جاؤ گے؟‘‘ میں نے کہا‘‘برادر! یہ میں نے نہیں کہا برابر والی مسجد کے مقرر صاحب کہہ رہے ہیں‘‘!یہ سن کر انہوں نے معذرت کی اور کہا’’میں پھر کسی وقت آجاؤں گا تاکہ آرام سے باتیں تو ہوسکیں‘‘! میں نے کہا’’رات کے گیارہ بجے کے بعد آنا کہ یہ سلسلہ‘‘ اس سے پہلے ختم نہیں ہوتا۔
بچوں نے سکول کا کام کرنے کے لئے بستے کھولے تو میں نے انہیں پچکار کر کہاشاباش اچھے بچوں کی طرح اب سکول کا کام کرکے ہی اٹھنا!مگر تھوڑی ہی دیر بعد انہوں نے بستے بند کردئیے اور کہاابو اسے منع کرو، ہم سے سکول کا کام نہیں ہورہا میں نے کہابیٹے میں کیسے منع کرسکتا ہوں، میں نے مرنا ہے۔ تم سکول کا کام رات کے گیارہ بجے بعد کرلینا۔والد صاحب عشاء کی نماز پڑھ کر سونے لگے تو میں نے انہیں کہاآپ سکون سے گہری نیند سوئیں میں آپ کو صبح تین بجے جگادوں گا، کیونکہ اس وقت علامہ صاحب نے بھی جاگنا ہوتا ہے! مگر کچھ دیر بعد والد صاحب بے آرام سے ہو کر اٹھ بیٹھے اور کہنے لگے میں رات کو گیارہ بجے کے بعد ہی سوؤں گا۔بخار والے دوست کا فون اگلے روز خود ہی آگیا، اس نے کہایار تم ٹھیک کہتے تھے، رات کو گیارہ بجے سے پہلے بیمار نہیں ہونا چاہئے، میرے محلے میں بھی چاروں طرف لاؤڈ سپیکر فٹ ہیں، ان کی وجہ سے بخار تیز ہوتا گیا، لیکن رات گئے جب لاؤڈ سپیکر خاموش ہوئے میرا بخار اترنا شروع ہوا اور اب اللہ شکر ہے ، میں ٹھیک ہوں، آئندہ میں کوشش کروں گا کہ رات کو گیارہ بجے سے پہلے بیمار نہ پڑوں۔
دوستوں کو تو میں نے مطمئن کردیا کہ میں انہیں رات کے گیارہ بجے کے بعد کا ٹائم کیوں دیتا ہوں ، مگر میں نے اپنے طور پر سوچا کہ انسان کو حالات کے مطابق خود کو ایڈجسٹ کرنا چاہئے ،چنانچہ مسجد کے میناروں میں مشرق، مغرب اور شمال جنوب کی طرف فٹ چاروں لاؤڈ سپیکروں سے خود کو غافل کرکے میں سرشام ہی اپنے لکھنے کی میز پر بیٹھ گیا اور کالم لکھنے کی تیاریاں کرنے لگا، مگر مجھے یوں لگا جیسے میرے کمرے کے اندر جلسہ ہورہا ہے، چنانچہ میں نے سوچا کہ لاؤنج میں بیٹھ کر لکھنا چاہئے، مگر لاؤنج میں اصل آواز کے علاوہ آواز کی گونج بھی سنائی دے رہی تھی، اس پر میں نے باورچی خانے کا رخ کیا کہ چولہے کے پاس بیٹھ کر لکھ لوں گا لیکن جب میں چولہے کے پاس بیٹھا تو مجھے محسوس ہوا جیسے یہ آواز چولہے کے اندر سے آرہی ہے، اب لے دے کر گھر کا غسل خانہ رہ گیا تھا، میں نہانے کی چوکی پر بیٹھ گیا مگر مقرر کی آواز میں اتنی کڑک تھی کہ اس سے پیدا ہونے والی تھرتھراہٹ سے چوکی اپنی جگہ سے اٹھ کر فضا میں بلند ہونے لگی، اس پر میں نے گھبرا کر گھر کی چھت کا رخ کیا، مگر وہاں تو جیسے کہرام مچا ہوا تھا، چنانچہ میں ہڑ بڑا کر نیچے آگیا اور دوبارہ اپنی لکھنے کی میز پر آکر بیٹھ گیا اور قارئین میں اپنی لکھنے کی میز پر بیٹھا ہوں اور کالم لکھ رہا ہوں اور اس وقت رات کے با رہ بجے ہیں!(قند مکرر)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *