ایک اداس کالم!

Photo Attaul Haq qasmi sbجس روز کالم لکھنے کو جی نہ چاہے، وہ دن میری زندگی کا بہت اداس دن ہوتا ہے، مگر میں اس کے باوجود لکھنے بیٹھ جاتا ہوں لکھنے بیٹھ تو جاتا ہوں مگر ذہن کی سلیٹ بالکل صاف ہوتی ہے، چنانچہ سمجھ نہیں آتا کہ کیا لکھوں! اور یوں قلم میرے ہاتھ میں ہوتا ہے اور آنکھیں مضمون کے انتظار میں تارے لگی ہوتی ہیں۔ اس وقت میری کیفیت اس کسان کی سی ہوتی ہے جو اپنی سوکھی کھیتیوں کے لئے آسمان کی طرف تکتا اور بارانِ رحمت کی تمنا کرتا ہے۔ ان لمحوں میں مجھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ دعا بھی یاد آتی ہے جو انہیں زبان کی لکنت دور کرنے کے لئے وہ مانگتے تھے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ :
میرے رب میرا سینہ کھول دے اور مجھے اپنی بات کہنے میں آسانی عطا فرما۔ میں بھی یہ دعا مانگتا ہوں مگر میری یہ دعا قبول نہیں ہوتی۔ تب میں سوچتا ہوں کہ میرا رب تو ہمیشہ میرے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے، آج آسانی پیدا کیوں نہیں ہو رہی؟ اور پھر مجھے اپنے اس سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ آج کا دن بھی میری زندگی کا ایک اداس دن ہے مگر مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا ہے اس سوال کا کہ مجھ سے لکھا کیوں نہیں جا رہا؟ جو جواب ملا وہ بہت سادہ تھا یہی کہ جو میں لکھنا چاہتا ہوں وہ لکھ نہیں سکتا اور لکھ بھی لوں تو چھپ نہیں سکتا۔ مجھے اور پاکستانی میڈیا کو چاروں طرف سے معاشرے کے چند بندوق برداروں نے گھیرا ہوا ہے۔ جو لفظوں کو راستہ نہیں دیتے۔ میرے ہر لفظ کا معنی وہ نہیں ہے جو میرے ذہن میں ہے بلکہ اس کی تشریح کے بغیر عوام کے اس جابر اور متشدد طبقے نے کرنی ہے اور اس نے وہی کرنی ہے جو اس کے ذہن میں ہے۔ یہ طبقہ مدعی بھی ہے، عدالت بھی ہے اور جلاد بھی ہے۔ یہ اپنے ہر فیصلے کو عملی جامہ پہناتا ہے اور گولیاں برساتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اس کا کوئی بھی فیصلہ کہیں چیلنج نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ عوام کی عدالت میں بھی نہیں۔ سہما ہوا معاشرہ یہ سارا منظر دیکھتا ہے۔ اس کی اکثریت گہرے صدمے سے دوچار تو ہوتی ہے مگر اپنے اندر لب کشائی کی ہمت نہیں پاتی اور یوں لفظ قلم سے قرطاس تک نہیں پہنچ پاتے کہ ان کے قتل پر کوئی رونے والا بھی نہیں ہو گا۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں، جسے خوف نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے، ہمارے ہاں ایک نہیں کئی شجر ممنوعہ ہیں، جو ہمیں اپنے خاندان کی ہنستی بستی جنت سے بے دخل کر سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں سب سے زیادہ مذہب کو ایکسپلائٹ کیا جا رہا ہے۔ مگر ہم مسلسل کہتے ہیں کہ ہمارا میڈیا آزاد ہے۔ یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے جو مسلسل بولا جا رہا ہے۔ آزادی صرف سیاسی موضوعات تک محدود ہے۔ آپ سیاست دانوں کو ہر طرح کی گالی دے سکتے ہیں۔ ان پر جو الزام چاہے لگا سکتے ہیں اور کسی بھی عدالتی فیصلے سے پہلے لگا سکتے ہیں۔ یہ کام خود سیاست دان بھی کرتے ہیں جو ایک دوسرے کے نام کو گالی بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ سادہ لوح عوام اس پر خوش ہوتے ہیں مگر وہ نہیں جانتے کہ جس دن اچھے برے یہ سیاست دان بھی نہ رہے اور یہ اچھی بری جمہوریت بھی نہ رہی تو اس کا نتیجہ وہی نکلے گا جو 1971ء میں بنگلہ دیش بننے کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا میڈیا عوام میں شعور بھی پیدا کر رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جہالت پھیلانے میں بھی پوری تندہی سے مشغول ہے۔ ہم ذرا ذرا سی بات پر یورپ اور امریکہ کی جمہوری قدروں کا حوالہ دیتے ہیں اور یہ نہیں بتاتے کہ وہاں ان جمہوری قدروں کے مستحکم ہونے میں کئی صدیاں لگی ہیں، جبکہ ہمارے ہاں تو جمہوریت کو پنگھوڑے ہی میں قتل کر دیا گیا تھا۔
ہمارے لب آزاد نہیں ہیں۔ فیض صاحب لاکھ کہتے رہیں بول کہ لب آزاد ہیں تیرے مگر ہم تو ذرا ذرا سی بات پر ایک دوسرے سے بھی نہیں بولتے تو لبوں کو اتنے مشکل کام پر کیسے ابھار سکتے ہیں؟ ہم منافق ہوتے جا رہے ہیں، ایک بات کسی کے سامنے کچھ ادا کرتے ہیں اور اسی موضوع پر اس سے مختلف بات کہیں اور کر رہے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ تو بعض مواقع پر گونگے بن جاتے ہیں۔ منیر نیازی کہا کرتے تھے کہ بچت کرنے میں ہم لوگ سب اقوام سے آگے ہیں۔ ہم تو دل کی بات بھی بچا کر رکھتے ہیں اور کسی کے سامنے نہیں کرتے۔ اگر ہم سب نے تمام موضوعات پر اپنے لبوں کو آزاد نہ کیا تو مجھے ڈر ہے کہ ہم کہیں قوت گویائی ہی سے محروم نہ ہو جائیں۔ ہمیں پیاس لگی ہو اور پانی نہ مانگ سکیں، بھوک لگی ہو اور کھانا نہ مانگ سکیں، گھٹن کے موسم میں ہوا مانگ رہے ہوں اور ہمیں ہوا نہ ملے، ہم کڑی دھوپ میں کسی سایہ دار درخت کی خواہش نہ کر سکیں۔ ہم پر کوئی حملہ آور ہو اور ہم ایک دوسرے کو مدد کے لئے نہ پکار سکیں۔ ہم ہنس نہ سکیں، ہم رو نہ سکیں۔ بولو اہل وطن پیشتر اس کے کہ تم بولنا بھول جاؤ۔ تاہم ہمارے درمیان ہر دور میں ہر طبقے کے کچھ لوگ تمام تر گھٹن کے باوجود بولتے رہے ہیں۔ ان میں ایک احمد نواز بھی تھے۔ میں ان کی ایک مختصر نظم پر اپنے اس اداس کالم کا اختتام کرتا ہوں۔
مت قتل کرو آوازوں کو
تم اپنے عقیدوں کے نیزے
ہر دل میں اتارے جاتے ہو
ہم لوگ محبت والے ہیں
تم خنجر کیوں لہراتے ہو؟
اس شہر میں نغمے بہنے دو
بستی میں ہمیں بھی رہنے دو
ہم پالنہار ہیں پھولوں کے
ہم خوشبو کے رکھوالے ہیں
تم کس کا لہو بنے آئے؟
ہم پیار سکھانے والے ہیں
اس شہر میں پھر کیا دیکھو گے
جب حرف یہاں مر جائے گا
جب تیغ پہ لے کٹ جائے گی
جب شعر سفر کر جائے گا
جب قتل ہوا سُر سازوں کا
جب کال پڑا آوازوں کا
جب شہر کھنڈر بن جائے گا
پھر کس پہ سنگ اٹھاؤ گے
اپنے چہرے آئینوں میں
جب دیکھو گے ڈر جاؤ گے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *