سوچنے کا کاروبار

Ayeshaڈاکٹر عائشہ صدیقہ

کچھ دن پہلے ایک دوست نے مجھے ملازمت کا ایک اشتہار ای میل کے ذریعے بھیجا جو ایک مشہور انگریزی اخبار میں شائع ہوا تھا۔ اس اشتہار میں ایک نئے قائم ہونے والے تھنک ٹینک کے لیے پراجیکٹ مینجر کے عہدے کے لیے درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔بتایا گیا کہ اس تھنک ٹینک کے قیام کا مقصد پبلک پالیسی سازی پر ریسرچ اور اس کے لیے وکالت کرنا تھا۔ میرا جی چاہا کہ میں بھی درخواست دے ڈالوں، لیکن جب میں نے اس پوزیشن کے لیے درکار تعلیمی قابلیت دیکھی تو امیدوار کے لیے ماسٹرز ڈگری ہونا مطلوب تھا۔ اس کا مطلب یہ کہ میں ان کو درکار معیار سے زیادہ تعلیم یافتہ تھی ورنہ میں مطمئن تھی کہ میں ان کے معیار پر پورا اترتے ہوئے منتخب ہوجاؤں گی۔ ان کی دیگر شرائط میں حب الوطن اور شریعت کا پابند ہونا شامل تھا۔ یہاں کہا جاسکتا ہے کہ اس ملک کے حساس اداروں ، جنہیں عام طور پر مقدس گائے کہا جاتا ہے، پر کھل کر تنقید کرنا آپ کی حب الوطنی کو نہ صرف مشکوک بنا سکتا ہے بلکہ آپ کو کسی ہسپتال کے بستر یا اس سے بھی کہیں’’ آگے‘‘ پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے عام تاثر یہی ہے کہ حب الوطنی کا تعین کرنا ایک مخصوص حلقے کے ہاتھ میں ہے۔یہی صورتِ حال شریعت کا پابند ہونے میں ہے۔ بظاہر تو افعال سے اندازہ لگایا جاتاہے کہ کون شریعت کا پابند ہے اورکون نہیں لیکن دراصل یہ اندورنی معاملہ ہے ۔بہرحال یہ جان پر میری تمام امیدوں پر پانی پھر گیا کہ اس عہدے کے لیے تھنک ٹینک کو کسی مرد کی ضرورت ہے اور یہ کہ خواتین اس کے لیے درخواست دینے کی اہل نہیں۔
اس اشتہار نے میری توجہ اس طرف مبذول کرا دی کہ آج کل ہمارے ملک ، خاص طور پر اسلام آباد ، میں ہر طرف انواع و اقسام کے تھنک ٹینک نمودار ہورہے ہیں۔ اگرچہ ہم ٹی وی چینلز کی مشروم گروتھ کی شکایت کرتے ہوئے کہتے ہیں ان کی وجہ سے قوم ذہنی خلجان کا شکار ہورہی ہے کیونکہ وہ ان کے علم اور معلومات میں اضافہ کرنے کی بجائے ان کو ہیجان زدہ کررہے ہیں لیکن ا س دوران ہم تھنک ٹینک انڈسٹری کو فراموش کررہے ہیں حالانکہ اس نے بھی قوم کو کوئی پالیسی دینے یا پاکستانیوں کو عالمی معاملات کی تفہیم کے قابل بنانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ درحقیقت اسلام آباد میں قائم شدہ زیادہ تر تھنک ٹینکس سوچنے کے ’’الزام ‘‘ سے مبّرا ہیں ۔ یہاں یہ بھی وضاحت کرتی چلوں کہ سمیناروں اور کانفرنسوں میں اظہارِ خیال کرنا اور جانفشانی سے ریسرچ ورک کرنا اور معاملات کا تجزیہ کرنا دو مختلف چیزیں ہیں ۔ ایک حقیقی تھنک ٹینک موخرالذکر مقصد کے لیے ہونا چاہیے۔
1990 کی دہائی کے آخر میں سلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے قیام سے تھنک ٹینک بزنس کا آغاز ہوا۔ اس کا مقصد پبلک سیکٹر میں ہونے والی تحقیق کا معیار بہتر بنانا تھا۔ انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈ یز مقامی معاملات پر اعداد وشمار کا تجزیہ کرنے میں نہایت سست روی سے کام کررہا تھا جبکہ انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیزسرکاری افسران کے کنٹرول میں ہونے کی وجہ سے جاندارتجزیہ کرنے سے قاصر تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب شہر میں صرف ایک یا دو قابلِ ذکر پرائیویٹ تھنک ٹینک نظریاتی بنیادوں پر معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے تجزیہ پیش کررہے تھے۔
تاہم گزشتہ دہائی کے وسط میں تھنک ٹینک انڈسٹری مشروم گروتھ کے انداز میں نشو ونما پانے لگی۔ اس کے بعد بے شمار افراد، جن میں سابق سفارت کار، ریٹائرڈ فوجی اور سول افسران، خفیہ اداروں کے سابق جاسوس، سیاست دان اور بااثر صحافی حضرات شامل ہیں، ان تھنک ٹینک کی زینت بنتے دیکھے گئے۔ دھماکہ خیز انداز میں بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ یہ تھنک ٹینکس آپس میں ایک مماثلت رکھتے ہیں... ان میں ریسرچ ورک نہ ہونے کے برابر ہے اور مندرجہ بالا حضرات کی ذہانت صرف لیکچرز تک ہی محدود ہے۔ وہ چند ایک تھنک ٹینک جو اپنے ریسرچ ورک کی وجہ سے مشہور تھے، نے اپنی شہرت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کا مرکز کسی موقف کی وکالت کرنے اور فنڈز اکٹھے کرنے تک محدود کرلیا۔ کسی تنظیم کو ملنی والی رقم کا دارومدار س با ت پرہوتا ہے کہ اس کا سربراہ کون ہے اور وہ اپنی فعالیت دکھاتے ہوئے کس کو ’’سرمایہ کاری ‘‘ کی دعوت دے رہا ہے۔اسی پیمانے کو مد نظررکھتے ہوئے عالمی برادری نے بھی ایسی تنظیموں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لی کیونکہ وہ ان کے ذریعے پاکستانی معاشرے تک اپنا موقف پہنچانا چاہتے تھے۔ چنانچہ یہ با ت حیران کن نہیں اگر غیر ملکی حکومتوں اور عطیات دینے والے اداروں نے نئے قائم ہونے والے تھنک ٹینکس کی سرپرستی شروع کردی۔ ان میں سے کچھ کے پاس اتنے زیادہ وسائل آگئے کہ وہ اپنے پروگرامز میں حصہ لینے والوں کی نہایت اعلیٰ خدمت کرسکتے ہیں۔
ان تھنک ٹینکس کا مثبت پہلو معاشرے میں سوچنے کا عمل بہتر خطوط پر استوار کرسکتا تھا لیکن بدقسمتی سے یہ تنظیمیں اپنے مقصد سے ہٹ گئیں اور ان کا واحد مقصد رقم بٹورنا رہ گیا۔ ان کے حوالے سے مالی خورد برد کی سامنے آنے والی کہانیاں بہت افسوس ناک ہیں کہ ہمارے ملک میں تحقیقی کاموں کے لیے ملنے والے فنڈز پر کس بے رحمی سے ہاتھ صاف کیا جارہا ہے۔ اس سیکٹر میں باز پرس اور احتساب کی روایت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اہم بات یہ کہ ان کی طرف سے کیے جانے والے کام کے معیار میں بہتری کے امکانات ہویدا نہیں اور نہ ہی وہ لوگوں کے سامنے کوئی ایسی چیز پیش کررہے ہیں جو انہیں سوچنے کی دعوت دے۔ اس ناقص کوالٹی کی ایک اہم وجہ کچھ مخصوص معاملات پر کچھ طاقتور اور بااثر حلقوں کی اجارہ داری ہے۔ یہ حلقے وہ ہیں جو معلومات کو ا پنے کنٹرول میں رکھتے ہیں۔ جب انٹیلی جنس ایجنسیاں تھنک ٹینکس کی سرپرستی کررہی ہوں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہاں ہونے والی کسی بھی سرگرمی یا تحقیق کا مطلب معلومات کی فراہمی نہیں بلکہ معلومات کو چھپانا یا من پسند انداز میں میک اپ کرکے پیش کرنا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک ایسے ہی تھنک ٹینک میں کام کرنے والی نوجوان لڑکیوں کو جدید مغربی لباس پہننے اور مرد حضرات کے ساتھ ہاتھ ملانے پر مجبور کیا جاتا تھا ۔ اس تمام کاروائی کا مقصد مغربی ممالک کی توجہ حاصل کرنے کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔
غیر ملکی حکومتوں کی طرح ریاستِ پاکستان اور غیر جمہوری قوتوں کو بھی ان تھنک ٹینکس میں بہت دلچسپی ہوتی ہے کیونکہ وہ بھی سوچنے کے عمل کو کنٹرول کرنا چاہتی ہیں۔ اسلام آباد اور دیگر شہروں، جیسا کہ لاہور میں تھنک ٹینک قائم کرتے ہوئے غیر جمہوری قوتیں اندون ملک او ر بیرونی طاقتوں سے رابطے میں رہتی ہیں۔ ان کے ذریعے یہ قوتیں ایسے ذہن او ر باصلاحیت افراد کو تلاش کرتی ہیں جو نیٹ ورکنگ کے ذریعے اندونِ ملک اپنا پیغام پہنچانے کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا اور اس میں کام کرنے والے تھنک ٹینکس کے ساتھ رابطہ قائم کرے اور اگر ممکن ہو تو انہیں اپنے نظریات سے متاثر بھی کرسکے۔ فی الحال ایسی تنظیمیں اپنے مقاصد کسی حد تک کامیاب جارہی ہیں۔ در حقیقت انھوں نے مغربی ممالک میں اپنے پارٹنر تھنک ٹینکس تلاش کرلیے ہیں۔ ایک بات یاد رہے کہ آج کل آپ تھنک ٹینک کو کاروبار کی طرح اس وقت تک نہیں چلاسکتے جب تک آپ کو غیر جمہوری قوتوں کا تعاون اور سرپرستی حاصل نہ ہو۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سوچنے کا بزنس ایسی قوم میں چلایا جارہا ہے جہاں سوچنا جرم ہے اور جہاں محض عقائد کے نام پر آپ کو گولی ماردی جاتی ہے۔ چنانچہ، جیسا کہ میں نے کالم کے شروع میں کہا، ایک نیا تھنک ٹینک ایسے افراد کی تلاش میں ہے جو ایم اے کی ڈگری رکھنے کے ساتھ شریعت کے پابند ہوں اور ان کی حب الوطنی بھی بے داغ ہو۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ انہیں ایسے افراد درکار ہیں جن کے ذہن سوچنے کی سرگرمی سے مدت ہوئے دستبردار ہوچکے ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *