زندگی اس قدر ہے ارزاں تیرے شہرمیں

شاہد مشتاق

shahid mushtaq

چند روز قبل چھوٹا بھائی طاہر قریبی بنک میں رقم نکلوانےگیا ، بنک والوں کے پاس مطلوبہ کیش نہیں تھا ، سو انہوں نےاگلے دن آنے کاکہا-بنک سے باہر نکلتے ہی پانچ آدمیوں نے سرعام اسے دبوچا ، کسی نشہ آور چیز سے بیہوش کیا اور گاڑی میں ڈال کر میانوالی کےقریب کسی ویران علاقے میں لے گئے -
دوران تلاشی اس کی جیب سے صرف اے ٹی ایم شناختی کارڈ اور تھوڑی سی رقم پاکر شدید ذدو کوب کیا ، بھائی سے اے ٹی ایم کا خفیہ کوڈنمبر مانگتے رہے - اس ہاتھا پائی میں اس کے پیٹ میں ایک زور دار لات رسید کی گئی ، طاہر کو چونکہ کچھ عرصے سے گردوں میں تکلیف سی رہتی ہے -
اس لئیے چوٹ پڑتے ہی شدید قسم کی درد اٹھی - جس سے اس کی حالت غیرہوگئی - اسے درد سےتڑپتا شدید تکلیف دہ حالت میں چھوڑ کر جب اسے ابتدائی طبی امداد کی انتہائی سخت ضرورت تھی ، پانچوں اغواکار فرار ہوگئے-
اللہ تعالی جو اپنے بندوں پہ بے حد رحم فرمانے والا ہے ، نے کرم کیا اورایک رکشہ ڈرائیور کو مسیحا بنا کہ بھیج دیا - جس نے ناصرف فوری طبی امداد دلائی بلکہ گھر تک پہنچانے کا انتظام بھی کیا - جمعرات صبح دس بجے سے لاپتہ جمعہ کی شام سات بجے کے قریب لڑکھڑاتا نیم بیہوشی  کی حالت میں گھر پہنچا ، تو سب کی جان میں جان آئی -
اگلے دو دن طبیعت پہ نقاہت اور نشے کاغلبہ رہا - تاہم اللہ کریم نے اپنےفضل سے کسی بڑی آزمائش سے بچا لیا ، ہم جتنا بھی اللہ کریم کا شکر اداکریں  کم ہے-
تینتیس گھنٹے کی اس مشکل گھڑی نے ہم سب کو نڈھال کرکہ رکھ دیا -
سارےبہن بھائی بچے والدین انجانےخوف کا شکار رہے ، خصوصاََ والدہ محترمہ کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی - ماہئی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھیں
پہلے ہی ایک جوان بیٹے کی موت کا صدمہ جھیل چکی ہیں - لیکن اللہ کریم نے بےحد کرم کیا ہمارا بچہ صحیح سلامت واپس لوٹادیا - الحمدللہ حمداََکثیراََ
اس تھوڑی سے مشکل کے بعد راحت ملی ، تو بے اختیار عزیز دوست اور پڑوسی حافظ ،تنویراقبال ،بہت شدت سے یاد آیا - تنویراقبال گذشتہ چار سال سے لاپتہ ہے کوئی خبرنہیں -  کہاں ہے، کس حال میں ہے زندہ بھی ہے کہ یا ---------؟
ان چار سالوں میں کتنے ہی، گرم ،سرد، خوشی ،غمی، کے موسم آئے - چھوٹی بہن اور بھائی کی شادی ہوئی ، مگر اسے آناتھا نہ وہ آیا - ان چار سالوں میں جب بھی پاکستان جانا ہوا -
تنویرکے والدین ، اور ، بہن ، بھائیوں ، کو پہلے سے ذیادہ متفکر اور پریشان محسوس کیا -
اسکی والدہ کو ساری ساری رات گھر کے صحن میں  بیقراری سے چکرلگاتے والد صاحب کو خیالوں میں  کھوئے کھوئے اداس دیکھ کر دل میں ایک کسک سی اٹھتی ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ تنویر سمیت جتنے بھی ماوں کے ،،لعل گمشدہ ،،
ہیں انہیں بحفاظت جلد اپنے گھروں کو واپس لوٹائے -
اور ایک تنویر کا گھرہی کیا یہاں تو ہزاروں گھروں کی ایسی ہی تصویر ہے -
پاکستان میں ہزاروں لوگ، مشرف ،کے دور سے لاپتہ ہیں-
جنکے ورثاء کی کہیں شنوائی نہیں - کوئی نہیں جانتا ان کےپیارے زندہ بھی ہیں کہ منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں ؟
سینکڑوں لوگ اغواکاروں کے چنگل میں پھنسے ہوئے ، سالوں ، مہینوں ، ہفتوں ، سے لاپتہ ہیں - بےشمار اسی بے بسی اور کسمپرسی کی حالت میں قتل کردئیے گئے - جنکے خاندان آج بھی انکے واپس آنے کی امید لئیے جی رہے ہیں - ذرا سی آہٹ پہ دل دھڑک اٹھتے ہیں ، آنکھیں بیتابی سے اپنے پیاروں کو دیکھنے کےلئیےاٹھتی ہیں ، مگر مایوسی سے جھک جاتی ہیں -
انکے بیوی ، بچے ، والدین ، ایک ایسی کربناک صورتحال سے دوچارہیں ، جس کا کہیں مداوہ نہیں -
کوئی انکا چارہ گر نہیں - دولت کی ہوس میں مارے اندھے لوگوں کی نظر میں زندگی اس قدر ارزاں ہے - کہ جسے چاہتے ہیں چند روپوں کی خاطر مارڈالتے ہیں ، کسی کوہمیشہ کے لئیے اپاہج بناکہ چھوڑدیتے ہیں - تو کوئی ہمیشہ کے لئیے غائب کردیاجاتاہے -
ملک میں ، اغوا برائے تاوان ،ڈکیتی ، چوری ، زنا بالجبر، قتل و غارت گری  ،چھوٹے چھوٹے بچے بچیوں کے ساتھ ذیادتی ایک عام بات بن کررہ گئی ہے ،قانوں نافذ کرنے والے ادارے خود قانون کے نام پہ ایک مذاق بن کررہ گئے ہیں ،اگرچہ دہشت گردی پہ کافی حد تک قابو پالیاگیاہے ، مگر پورے ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال ابھی بھی تسلی بخش نہیں - لوگ حالات سے دلبرداشتہ ہوکر نفسیاتی مریض بن رہے ہیں  خودکشیاں کررہے ہیں - اور ہمارے حکمران اپنے ٹھنڈے آرام دہ پرتعیش محلات میں خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں- حکمرانوں کو سیدنا عمرفاروق کے اس قول پہ غور کرنا چاہئیے جس میں آپ نے خود کو مخاطب کرکہ کہااے عمر اگر دجلہ کےکنارے ایک کتا بھی پیاسا مرگیاتو کل اللہ کے سامنے توکیاجواب دے گا ؟
بے شک اللہ کی پکڑ بڑی شدید ہے ،آج اگرہمارے حکمران اپنے لوگوں کےدرد سے غافل ہیں تو کیا پتہ کل انہیں بھی ایسی ہی مصیبت سے دوچار ہونا پڑ جائے -

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *