انور مقصود کے ساتھ کچھ باتیں

Photo Attaul Haq qasmi sbگزشتہ روز انورمقصود کے ساتھ میں ایک ٹی وی پروگرام میں شریک تھا، ان کی بیگم عمرانہ مقصود بھی ان کے ساتھ تھیں۔ میں انور مقصود کے جملے کی کاٹ کا بہت مداح ہوں، تاہم ان کے جملے کی تہہ تک پہنچنے میں قدرے وقت لگتا ہے۔ ہمارے ہاں سینئر ادیبوں میں سے جو مزاح نگار ابھی تک ہمارے درمیان موجود ہیں اور پوری توانائی کے ساتھ موجود ہیں وہ فقط انور مقصود ہیں، کیسی خوش نصیبی ہے ہماری کہ انور مقصود اور انور مسعود دونوں ہمارے ساتھ ہیں۔ انور مقصود نثر اور انور مسعود شاعری میں طنز و مزاح کے پھول کھلاتے ہیں اور ہنر مندی ان کے ساتھ ساتھ رہتی ہے۔ ہمارے درمیان کیسے کیسے مزاح نگار موجود تھے، میں ماضی بعید میں نہیں جاتا، ماضی قریب کی بات کرتا ہوں ، جس پطرس بخاری ، شفیق الرحمان،بجنگ آمد والے کرنل محمد خاں اور ابن انشاء کی تحریر یں اداس دلوں کی اداسی دور کرتی تھیں۔ ایک ہمارے شفق خواجہ بھی تھے مگر انہوں نے خود کو صرف ادب اور ادیب تک محدود رکھا اور اس حوالے سے بہترین مزاح کے نمونے تخلیق کئے۔ سید ضمیر جعفری تھے، انہوں نے طنز و مزاح کی شاعری کے حوالے سے سنگ میل کی حیثیت حاصل کی ، نثر میں بہت کم لکھا اور اس کا بھی بہت کم حصہ ادب کے قارئین کی نظروں سے گزر سکا لیکن جتنا لکھا بے مثال لکھا۔ اس وقت اردو مزاح نگاری کے لیجنڈ مشتاق یوسفی ہمارے درمیان موجود ہیں جو ماشاء اللہ اب نوے کے دہائیمیں ہیں، وہ کچھ عرصے سے کچھ نہیں لکھ رہے مگر ان کا ہمارے درمیان رہنا ہی ہماری خوش قسمتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں تادیر ہمارے درمیان رکھے۔
بات انور مقصود کی ہورہی تھی ، یہ ایک عجیب و غریب کردار ہمارے درمیان ہے، یہ صرف مزاح نگار نہیں اداکار بھی ہے، مصور بھی ہے، شاعر بھی ہے اور ’’مور اوور‘‘ موصوف ان لوگوں میں سے ہیں جو ان تمام اصناف میں زندہ رہتے ہیں۔ ان فنون کی تاریخ ان کے آداب اور ان کی نزاکتوں سے واقف ہیں۔ مجھے انور مقصود سے میل ملاقات کا موقع بہت کم ملا ہے لیکن ان کی وضعداریاں میرے دل پر نقش ہیں، کراچی میں مقیم میرے بھائی جان ضیاء الحق قاسمی کا انتقال ہوا تو انور مقصود جنازہ اٹھنے سے پہلے میرے ساتھ تھے۔ اسی طرح میرے بیٹے علی عثمان قاسمی کی شادی کراچی میں ہوئی تو انور مقصود کارڈ میں دئیے وقت پر میرج ہال میں موجود تھے اور اس وقت وہاں میرے سمیت(سوری) کوئی بھی نہیں تھا۔ انور مقصود کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ توانائی دی ہے ، اللہ جانے وہ سوتے کب ہیں اور کھاتے پیتے کب ہیں(یہاں کھاتے کے ساتھ’’ پیتے‘‘ کا لفظ محض روز مرہ کی مجبوری کی وجہ سے آیا ہے) ڈرامے لکھتے ہیں اور بیشتر میں اداکاری بھی خود کرتے ہیں۔ شوز کی کمپئرنگ بھی کرتے ہیں اور ان میں جان ڈال دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے تھیٹر کیلئے بھی ڈرامے لکھے اور اس شعبے میں بھی میدان مارلیا۔ میرے اور ان کے درمیان ایک زمانیاتفاق بھی ہے۔ لاہور سے میرا ڈرامہ ’’ا پنے پرائے‘‘ اور کراچی سے ان کا ڈرامہ ’’آنگن ٹیٹرھا‘‘ ایک ساتھ نشر ہوئے۔ یہ دونوں مزاحیہ ڈرامے تھے مگر میرے ڈرامے پر’’سنسر‘‘ لگ گیا اور اس کے ریکارڈ ایپی سوڈ کے زیادہ تر حصے کاٹ کر پھینک دئیے گئے۔ کراچی سینٹر نے حوصلہ مندی کا ثبوت دیتے ہوئے ڈرامے کی کانٹ چھانٹ سے انکار کردیا، آگے چل کر خود انور مقصود بھی مستعفی ہوگئے۔
انور مقصود ایک مہذب انسان ہیں، اتنے مہذب کہ اپنے نامور صاحبزادے بلال کا ذکر بھی بہت احترام سے کرتے ہیں۔ وہ جب میرے پاس آئے ان کا کہنا ہے، وہ بہت اچھے ہیں، وغیرہ وغیرہ ، اگر کسی کوپتہ نہ ہو کہ ذکر کس کا ہورہا ہے تو وہ سمجھے گا کہ شاید اپنے کسی بزرگ کا تذکرہ کررہے ہیں دراصل تہذیب اور تخلیق صرف انور ہی نہیں ان کے پورے خاندان کو قدرت نے ودیعت کی ہے۔ میری بہت پیاری آپا زہرہ نگاہ ہم سب کی زبیدہ آپا اور نامور ڈرامہ نگار فاطمہ ثریا بجیا اور انور مقصود سگے بہن بھائی ہیں۔ یہاں میں نے لفظسگے یوں لکھا ہے کہ میرے پاس بہت سے ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو کسی نامور شخصیت کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ ان کے بھائی ہیں، تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ موصوف ان کے پردادا کے سسرالیوں کی اولاد میں سے ہیں اور اب تو صورتحال یہ ہے کہ صحبت طالع ترا،طالع کند کے مصداق انور مقصود کی بیگم عمرانہ مقصود نے بھی شادی کے بعد صرف اولاد کے سیٹل ہونے کا انتظار کیا اور پھر وہ بھی رائٹر ہوگئیں۔ ان دنوں وہ انور مقصود کی سوانح لکھ رہی ہیں، بس ان سے اتنی درخواست ہے کہ پورے کا پورا انور مقصود ہمارے سامنے آنا چاہئے اپنی خوبیوں اور اپنی خامیوں سمیت۔ چلتے چلتے ایک بات ا ور........اور یہ بہت اہم بات ہے جو چلتے چلتے کرنے والی نہیں تھی اور وہ یہ کہ انور مقصود نے ابھی تک صرف میڈیا کیلئے لکھا ہے جس کی اپنی ایک اہمیت ہے مگر کتاب اپنی جگہ بہت اہم ہے۔انور مقصود کو اب کتاب کی طرف بھی آنا چاہئے۔ وہ تین مہینے کیلئے الیکٹرانک میڈیا کو طلاق دے دیں اور لکھنے بیٹھ جائیں ، مجھے یقین ہے کہ جب ان کی کتاب ہمارے ہاتھوں میں آئے گی تو ہمارے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔ واضح رہے یہ محاورہ محض محاوروں کے استعمال کا شوق پورا کرنے کیلئے ہے اور دوسری وضاحت یہ کہ لغات میں طوطا ت کے ساتھ یعنی ’’توتا ‘‘لکھا نظر آئے گا، مگر مجھے ط کے ساتھ ہی لکھنے کا مزا آتا ہے کہ ط کی شکل بھی طوطے جیسی ہی ہے، بہرحال امید ہے انور بھائی میری یہ فرمائش پوری کریں گے۔ الیکٹرانک میڈیا کو انہوں نے تین ماہ کیلئے جو طلاق دی ہوگی کتاب مکمل ہونے پر وہ ’’رجوع‘‘ کرلیں اور دوبارہ الیکٹرانک میڈیا کو گھر لے آئیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *