اوریا مقبول ، ٹی وی اشتہار اورحضرت ٹوٹے نواز

yousuf saraj.

سنا ہے خاص مشرقی ساکھ اور شہرت رکھنے والے صحافی اوریامقبول جان صاحب نے ٹی وی پر چلنے والے ایک اشتہار میں پیش کی گئی کسی خاتون کے ایکشن پر اپنے پروگرام حرفِ راز میں اعتراض کرتے ہوئے ناظرین کی توجہ مبذول کروائی ہے ۔ جس کے جواب میں ڈان نیوز نے آتش فشاں جوابی پروگرام منعقد کر کے دل کے پھپھولے پھوڑنے کی سعی فرمائی ہے ۔ جس پر سوشل میڈیا میں حسبِ توفیق گرما گرم اور چٹ پٹے تبصرے بھی شروع ہو گئے ہیں۔اللہ جزائے خیر دے، اسلامی شباہت رکھنے والے ایک محترم قلم کارکوکہ جنھوں نے اپنی رمضان المبارک کی بابرکت مصروفیات میں سے وقت نکال کر ان بارہ مسالوں سے بھرے تبصروں کو ایک مضمون میں جمع فرمانے کا ثواب کمایااور تردد فرمایا ہے۔ ہمیں یہ ساری معلومات ’دنیا پاکستان‘ پر شائع ہونے والے محترم نعیم بلوچ صاحب کے کالم سے حاصل ہوئی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر شریکِ معاملہ شخص کو اس کی نیک نیتی کے مطابق وافر جزائے خیر سے نوازے۔
اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ملحوظ رہنی چاہئے کہ اوریا صاحب تو خیر پڑھے لکھے آدمی ہیں ، کامل اتفاق تو یہ خاکسار کبھی اپنے آپ سے بھی نہیں کر سکاہے۔ آپ ہی کہئے کہ کیا کوئی عقل مند کبھی اپنی عقل گروی رکھنے کی عقلمندی بھی کر سکاہے یا کر سکے گا؟دراصل کوئی آزاد آدمی دائمی اپنے اتفاق کے سرنڈرکا تحفہ ایک نبی کے سوا کبھی کسی کوپیش نہیں کرسکتا۔ نہ وہ اپنے نفس کی یہ خواری ہی برداشت کر سکتاہے کہ کسی کی کلی اطاعت کا دم بھرتا پھرے اوریہ کہ وہ بہ قائمی ہوش و حواس باقاعدہ کسی کی غیر مشروط حمایت کی حماقت پرہی تل جائے۔یہ ریکارڈ کا حصہ ہے کہ اس خاکسار نے کئی مواقع پر اپنے کالم میں نام لے کر اوریا صاحب سے اپنا اختلافی نقطۂ نظر پیش کیاہے۔دراصل شائستہ اور مدلل اختلاف نقطۂ نظر کا حسن ، انسانیت کی عظمت وبرکت کی دلیل، شخصی انفرادیت کا تلازمہ اور آزادئ اظہار کالازمہ ہے۔آج تک کی انسانی تاریخ نے سلیقے سے کئے گئے شائستہ اختلاف سے بڑھ کر بیش قیمت کوئی اثاثہ نہیں کمایا۔اسی مدلل اور مخلصانہ اختلاف ہی سے انسان کی ترقی عبارت ،اسی سے حدتِ علم کی حرارت اور اسی سے دانش و خرد کی زندگی عبادت ہے۔
یہ مگر کیا کہ کسی شخصیت کی اوٹ یا آڑ میں آپ سچائی اور صداقت ہی کا تمسخر اڑانے لگیں؟ آپ مقابل میں مخالف کو دیکھ کے کھیل کے آداب، انسانی اخلاق اور اپنی اوقات ہی بھول بیٹھیں ؟کیا تمسخر ، شو رو غوغا ، طعن و تشنیع اور واویلا بھی کبھی دلیل کا بدل ہو سکا ہے؟کیا آپ بھول گئے کہ عربوں کے صاحبِ دانش ابوالحکم نے بھی کیا حل سوچاتھا کہ دلیلِ قرآن کے مقابل بس ہاؤ ہو کے ڈھول پیٹا کر و ۔ نتیجہ معلوم کہ جو ابوالحکم ( مسلمہ دانش ور ) تھا، وہ ہمیشہ کے لئے ابو جہل (مسلمہ جاہل )قرار پایااور شورو غل سے دلیل دبانے کی ا س کی ’دانش‘ اسی کے ساتھ قبر میں جا سوئی اور قرآن ٹھیک اسی مہینے کرہ ارض کے ہر خطے میں برابر گونج رہاہے۔کبھی کسی نے سوچاکہ یہ انسانیت کے لئے کس قدر سانحہ کی بات ہو گی کہ اگر کچھ احمق بات کی صداقت کا معیار کہنے والے کی ذات سے اپنی پسند و نا پسند سے مشروط کرڈالنے کاتہیہ اور کارنامہ کر ڈالیں؟ درست ہے کہjonathan swiftکے شہرہ آفاق طنزیہ ناول gulliver's travels میں یہی ہوتاہے کہ بونوں کی دنیا میں جا کے قد آورطنز کا ہدف ٹھہرتے ہیں، یہ مگر کیا کہ ہم اپنے ہاں سے اس کے عملی اورعقلی ثبوت مہیا فرمانے کا ٹھیکہ لینے کی حرکتیں فرمانے لگیں۔اب مثلاًیہ بھلا کیا کہ سارا ہی زور اسی ایک نکتے ، اسی ایک دلیل اور اسی ایک بات پرصرف کر دیا گیا کہ ا س شخص نے فلاں معاملے کو آخر دیکھا تو دیکھا ہی کیوں ؟ اسے ا س کے بیان کی جو جرات ہوئی تو آخر کیوں اور کیسے ہوئی؟بجائے اس کے کہ ا س نے جو کہا ،کیا وہ درست ہے یا نادرست ؟اجی حضرت دور کیا جاتے ہیں ، پھرتو کوئی من چلا جوابا یہ بھی کہہ ڈالے گاکہ’’ُ اس نے اس معاملے کواس لئے دیکھا اور بیا ن بھی کیا کہ وہ ابھی تمھاری طرح بے حمیت اور اندھا نہ ہوا تھا؟اور اس لئے بھی کہ اس نے ابھی ضمیر کو جدت کی غلاظت کے کوڑے دان میں نہیں پھینکا تھا۔اوراس لئے بھی کہ جس کے نام کی ا س نے اپنے سرخ گالوں پر ڈاڑھی سجائی ہے ، تمھاری ریش سیاہ کے مقابل اسے ابھی اس کے تقاضوں کو دبانا اور گنوانا نہیں آیاہے ! بس اس لئے !!آئی سمجھ ؟‘‘ بھلا تمھاری بے تکی ہڑبونگ کی طرح یہ طرز جواب بھی درست ہی ہو نا چاہئے ؟ کیا واقعی اب یہی طرزِ استدلال اور طریقہ کلام ہی درست مانا جانا چاہئے ؟
اب ٹھیک سے سمجھ میں آتا ہے کہ کس طرح معاشروں پر وہ وقتِ زوال بھی آتا ہے کہ جب اخلاق حسنہ ان کے ہا ں رذائلِ سیۂ ، سفید ان کے ہاں تاریک تر ، صبح ان کے ہاں سیاہ رات اور شورو غل ان کے ہاں دلیل ومنطق کابدل ہو جاتاہے۔کیا کبھی آپ نے غور فرمایا کہ جب سیدنا شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو من جملہ دیگر برائیوں کے ،ناپ تول میں کمی کی بدترین عادت سے روکا تو انھوں ٹھیک یہی طرزِ تمسخر شعار کی اور یہ کہا ، تو کیا تم سے بھولے بھالے کی باتوں میں آکے ہم اپنی تجارتی بڑھوتری ہی سے ہاتھ دھو بیٹھیں ؟ اور جب سیدنا لوط علیہ السلام نے فحاشی میں جدت کی موجد اپنی قوم کواس فعلِ بد سے روکا تو ٹھٹھا اڑاتے وہ یہ کہنے لگے۔یہ بڑا بولتاہے ، چلو بھئی ذرا اس پاک باز کو تو اپنی بستی سے نکال باہر کرو۔بھلے آدمیو! تمسخر اور عام ہو جانے والی برائی کوبطور دلیل قبول کرتے ہوئے اچھائی سے تنفراور اس کا کھلا تمسخر۔قرآنی اقوام پر آئے عذاب کی کیا اس کے علاوہ بھی کوئی وجہ آپ جانتے ہیں؟ دیکھئے ،جب آپ کے ہاتھ میں قلم ہو اور جب آپ کے چہرے پر ڈاڑھی بھی ہو تو پھر آپ کا کام فیس بک پر کئے گئے بے دلیل ٹوٹکے تلاش کرکے لشکانا نہیں ، بلکہ اپنے قارئین کے لئے عقل و خرد کے لئے رہنما ہیرے تراشنا ہونا چاہئے۔وہ ایک محاورہ ہے ٹٹی کی آڑ یا اوٹ سے شکار کھیلنا ، میرا خیال ہے انگلش میں اسے کہتے ہیں ۔shoot from a covert۔ میرا خیال ہے یہ کوئی بہادری اور عزت و جرات کا کام توہے نہیں ۔ کیا خیال ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *