دنیابھرسے

ٹامی لہرن کا ٹرمپ کے لیے ’الو‘ کا خطاب: انھیں کون بتائے کہ الو عقلمندی سے نہیں بلکہ بے عزتی سے منسوب کیا جاتا ہے‘

Share

جیسے کمان سے نکلا تیر واپس نہیں آ سکتا ویسے ہی زبان سے ادا الفاظ کا واپس آنا بھی ممکن نہیں۔ کچھ ایسا ہی امریکی ٹی وی میزبان ٹامی لہرن کے ساتھ ہوا اور انھوں نے صدر ٹرمپ کی تعریفوں میں پل باندھتے ہوئے فرط جذبات میں انھیں ’الو‘ کہہ ڈالا۔

ہوا کچھ یوں کہ ٹامی لہرن نے صدارتی انتخابات 2020 میں امریکہ میں مقیم انڈین شہریوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ ڈالنے کی نصحیت کرتے ہوئے بنائی گئی اپنی تازہ ترین ویڈیو میں صدر ٹرمپ کو ’الو‘ کی طرح عقل مند قرار دیا۔

بس پھر کیا تھا یہ ویڈیو ٹوئٹر پر وائرل ہو گئی۔ ٹامی لہرن نے تو شاید ایسا غلطی سے ہی کیا لیکن سوشل میڈیا صارفین کو بحث کے لیے ایک نیا اور شاید انتہائی دلچسپ موضوع ضرور مل گیا اور وہ دھڑا دھڑ ٹویٹس کرنے لگے۔

واضح رہے کہ مختلف زبانوں میں ایک ہی محاورے یا علامت کے مختلف معنی ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہاتھ سے کیے گئے ایک جیسے اشاروں کے بھی مختلف معنی لیے جاتے ہیں۔

اسی طرح اردو اور ہندی زبان میں لفظ الو کو زیادہ تر کسی ایسے شخص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو بیوقوف ہو تاہم ہندو مذہب کے بہت سے ماننے والوں کا یہ خیال ہے کہ یہ پرندہ خدا سے وابستہ ہے اور خوشخالی اور دولت کا ذریعہ ہوتا ہے۔

اس بحث میں پاکستانی ٹوئٹر صارفین نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی صارف عارف رفیق نے لکھا: ’الو انڈیا میں ٹرینڈ کر رہا ہے۔ شکریہ ٹومی لیہرن۔‘

علی اصغر نامی ایک اور صارف نے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’میرے انڈین ساتھیو، اگر آپ عقل مند ہیں تو آپ یہ ویڈیو آخر تک دیکھیں گے۔‘

ایک اور صارف، جو شاید امریکی صدر کو پسند نہیں کرتے، نے لکھا کہ ٹامی لہرن نے پہلی بار کوئی حقائق پر مبنی بات کہی ہے۔

سارہ خان نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا اور لکھا: ’میری دادی کو ہمیشہ سے الوؤں سے بہت پیار تھا اور وہ ہماری ثقافت میں ان کے ساتھ ہونے والی توہین کو پسند نہیں کرتی تھیں لیکن اس کے باوجود وہ ٹامی کی اس بات سے پورے دل سے اتفاق کریں گی کہ ڈونلڈ ٹرمپ الو ہیں۔‘

عدنان حیدر نامی صارف نے وضاحت دیتے ہوئے لکھا: ’امریکی معاشرے میں الو کو ذہانت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔‘

انڈیا سے ایک صارف نے ٹامی لہرن کو مدد کی پیشکش کرتے ہوئے لکھا کہ آپ ہندی بولتے ہوئے میری مدد لے سکتی ہیں۔

آدیش نامی ایک دل جلے انڈین صارف نے لکھا: ’مجھے الو سے مسئلہ نہیں، مجھے ڈونلڈ ٹرمپ کو عقل مند کہنے سے مسئلہ ہے۔‘

تنوی مڈان نے ٹامی لہرن کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’انھیں کون بتائے گا کہ الو کو عقلمندی سے نہیں بلکہ بے عزتی سے منسوب کیا جاتا ہے۔‘

یاد رہے کہ ٹامی لہرن ایک قدامت پسند سیاسی مبصر ہیں اور انھیں زیادہ مقبولیت سنہ 2016 کے امریکی انتخابات کے دوران اپنے اشتعال انگیز سیاسی تبصروں سے ملی۔

فیس بک پر ٹامی لہرن کے ہزاروں فالوورز ہیں اور ان کی اکثر ویڈیوز وائرل بھی ہو جاتی ہیں۔