وقت آ گیا ہے کہ ہندوستانی مسلمان کوتاہ نظر قیادت کو خیرباد کہہ دیں

mohammed.adeeb.MPمحمد ادیب

اگر200ملین افراد پر مشتمل ہندوستانی مسلمانوں کی مضبوط کمیونٹی حالیہ انتخابات میں قطعی طور پر بے وقعت ثابت ہو گئی ہے تو اس کے ذمہ دار اس کمیونٹٹی کے کوتاہ بین رہنما ہیں۔
عام انتخابات ختم ہو گئے۔ ایک نئی بی جے پی حکومت قائم ہو چکی ہے۔ انتخابات کے نتائج تمام ہندوستانیوں کے لئے بالعموم اور مسلمانوں کے لئے بالخصوص چشم کشا ہیں۔انتخابی جنگ کے نتیجے نے مسلمان ووٹ کے افسوسناک انتشاراور ہندو ووٹ کی ایک حیرت انگیز تقسیم کو آشکار کر دیا ہے۔
یہ رجحان ایک خطرناک علامت ثابت ہوا ہے۔ درحقیقت، نتائج نے ایک کمیونٹی کے طور پر ہندوستانی مسلمانوں کی مایوس کن اور قابل ترس حالت کوآشکار کر دیا ہے۔25کروڑ مسلمان ایک کمیونٹی کے طورپر اپنے سیاسی ویٹ کو صفر کی سطح تک لے گئے ہیں۔کمیونٹی جو کبھی بادشاہ گر جانی جاتی تھی، آج کسی ٹوٹی ہوئی عمارت کا گم شدہ ٹکڑا بن چکی ہے۔مختصر یہ کہ انتخابات میں مسلمانوں کاحشر اس قدر واضح ہے کہ ہمیں اس کی کسی وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ریاست اترپردیش جو ہندوستان کا دل کہلاتی ہے، نے اپنی غیر یقینی80نشستوں سے پارلیمان میں ایک بھی مسلمان رکن نہیں بھیجا۔نام نہاد سکیولر جماعتیں کسی صحت مند سوچ کے بغیرایک دوسرے سے لڑیں۔ نتیجتاً وہ سب ہار گئیں۔ اور ایک ایسے ہی طرز عمل کے نتیجے میں تمام مسلمان امیدوار بھی ہار گئے۔
اب اگر یہ صورت حال برقرار رہتی ہے تو ایک دن قومی پارلیمان میں کوئی مسلمان نمائندہ نہیں ہو گا۔ نام نہاد سکیولر جماعتیں ایک طرف اور مسلمان مذہبی تنظیمیں دوسری طرف، نہایت احمقانہ طور پر ، اپنی اپنی کمیونٹیز کو تباہ کرنے والی جماعتیں ثابت ہو چکی ہیں۔یہ ایک افسوسناک بات ہے کہ آج کا مسلمان معاشرہ اس قدر گروہوں، درگروہوں اور درگروہوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔
ایک غیریقینی انداز میں ملائم سنگھ یادیونے مایاوتی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے ایک نپی تلی حکمت عملی اختیار کی اور نہایت عقلمندی سے اس کے مخالف ووٹ بی جے پی کے لئے حاصل کر لئے۔ ایک جوابی تحریک کے سبب مایا وتی کے حامیوں نے بھی یہی کیا اور اس طرح 60فیصد ہندو ووٹوں کا ایک یکجان حصہ بی جے پی کے حق میں ڈالا گیا جبکہ باقی 40فیصد ووٹ بھٹکتا رہا اور بری طرح تقسیم ہو گیا۔
اس عمل میں نام نہاد مسلمان ووٹ ( کل ووٹوں کا 20فیصد)بے معنی ثابت ہوا۔ نہ صرف یہ بلکہ تمام اچھوت ووٹر۔۔۔ جو مایا ہی کی ذات کے حامل تھے۔۔۔انہوں نے مایا کو تنہا چھوڑ کر بی جے پی کو ووٹ دیا۔
مسلمان کئی عشروں تک بڑی حد تک کانگرس پر انحصار اور بھروسہ کرتے رہے ہیں۔ بدلے میں انہیں کیا ملا۔۔۔۔؟ عدم توجہی، سردمہری اور حتیٰ کہ فریب کاریاں۔۔۔اس کے علاوہ کیا؟ جب کہ ہمارے بزدل، سست، کام چور، غیر فعال اور بے ضرر رہنما غیر مشروط طور پراستحصالی کانگرسیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔اب کانگرس خود بھی کسی اچھی حالت میں نہیں رہی۔ یہ اپنے زوال کے دھانے پر کھڑی ہے۔
میری خواہش ہے کہ ایسا نہ ہو لیکن میں کانگرس کی موجودہ قیادت کے متعلق تمام اقسام کے تحفظات رکھتا ہوں کیونکہ اس کے پاس نہ تو کوئی ویژن ہے ، نہ طاقت، نہ عوامی اعتماداور شاید نہ ہی بقاء کی خواہش۔مودی اینڈ کمپنی نے ایک سال تک ان پر پوری قوت سے جارہانہ حملے جاری رکھے مگر جوابی حملوں کا تو کیا کہنا یہ اپنا معقول دفاع بھی نہ کر سکے۔انہوں نے محاذ جنگ سے فرار ہوتے ہوئے، پسپائی کی جنگ لڑی۔
اتحاد کسی بھی قوم یا کمیونٹی کا بہترین اثاثہ ہوتا ہے۔ جب ہم صرف 313تھے، ہم نے اپنے دشمنوں پر فتح پا لی تھی کیونکہ ہم سچے عقیدے، پختہ ایمان اور باہمی اعتماد سے بندھے ہوئے تھے۔ اب ہم کروڑوں، اربوں کی تعداد میں ہیں لیکن بے وقعت اور بے عزت ہیں اور فلسطین سے چیچنیا تک اور افغانستان سے بر صغیر تک تمام محاذوں پر شکست کھا چکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب ہم عالمی اور قومی سطح پر ایک منقسم خاندان ہیں۔
لہٰذا کامیابی کا راز اتحاد اور صرف اور صرف اتحاد ہے۔ آئیے، ہم اپنے وسیع تر ذاتی اور قومی مفاد کے لئے اکٹھے ہو جائیں ۔
آج ہمارا کوئی رہنما نہیں ہے۔تمام بے رہنما اقوام مشکلات کا سامنا کرتی ہیں کیونکہ خیرخواہوں کے بھیس میں چھپے لوگ ان کو بھٹکانے آجاتے ہیں۔ آج ہمیں اسی خطرے کا سامنا ہے۔ آئیے ہم ایسے وقت کے غلاموں اور منافقوں سے خبردار ہو جائیں۔ہمیں اپنے بیرونی اور اندرونی دونوں طرح کے دشمنوں کو پہچاننا اور تنہا کرنا پڑے گا۔
قوموں کی زندگیوں میں سال اور عشرے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ کبھی نہ لوٹنے سے دیر سے لوٹنا بہتر ہوتا ہے۔چنانچہ ہم سب کو اس صورت حال کے متعلق سوچنا چاہئے۔خود کو خود احتسابی کے عمل سے گزارنا چاہئے اورنئی امیدوں کے ساتھ مستقبل کی طرف دیکھنا چاہئے۔
سب سے پہلے تومعاشرے کو کم ازکم کسی صحتمند نکتہ نظر اور ایک عملی روئیے کے ساتھ نام نہادسماجی و مذہبی قیادت کی گرفت سے باہر آنا چاہئے اور ایک حقیقی سیاسی قیادت کو فروغ دینا چاہئے۔
فرضی تصورات کے دن ختم ہو گئے ہیں۔ہمیں تلخ حقائق کا سامنا ہے۔ پھربھی، اس سرنگ کے اختتام پر شاید روشنی ہو۔ تاہم اس کو دیکھنے کے لئے ایک آنکھ کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *