بھارتی سپریم کورٹ: ہم جنس پرستی پر پابندی کے خلاف کیس خارج

indian gauyبھارتی سپریم کورٹ نے اس قانونی شق سے متعلق ایک کیس کی سماعت سے انکار کر دیا ہے، جس کے تحت بھارت میں غیرقدرتی جنسی عمل ممنوعہ اور قابل سزا ہے۔ اس پیشرفت کو بھارتی ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
سیکشن 377 میں واضح کیا گیا ہے کہ مردوں کا آپس میں جنسی عمل یا عورتوں کا آپس میں جسمانی ملاپ اور جانوروں کے ساتھ ایسا کوئی بھی عمل ممنوعہ اور قابل سزا جرم ہے۔ بھارت میں یہ قانون دراصل سن 1861میں برطانوی نوآبادیاتی حکمرانوں نے متعارف کرایا تھا۔
اس پٹیشن کو دائر کرنے والے وکیل اروند دتّر نے روئٹرز کو بتایا، سپریم کورٹ نے اس درخواست کی سماعت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس سے رجوع کیا جائے۔ یہ امر اہم ہے کہ بھارت کے چیف جسٹس پہلے ہی ایک ایسے ہی کیس کی سماعت کر رہے ہیں، جس میں اس سیکشن کے خلاف درخواست جمع کرائی گئی ہے۔اس قانون کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اکیسویں صدی میں ایسا قانون لاگو کرنا نامناسب عمل ہے کیونکہ کسی بھی جدید معاشرے میں اس قانون کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
2009ء میں نئی دہلی ہائی کورٹ نے تعزیرات ہند یا انڈین پینل کوڈ کے اسی سیکشن 377 کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ تاہم یہ فیصلہ چار سال بعد اُس وقت واپس لے لیا گیا تھا، جب سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کسی قانون میں ترمیم یا تنسیخ کا فیصلہ عدلیہ کا نہیں بلکہ پارلیمان کا کام ہے۔بھارت میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہم جنس پرستوں کو معاشرے کا حصہ تسلیم کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ بالی وڈ میں کئی فلمیں ہم جنس پرستی کے موضوع پر بن چکی ہیں جبکہ مختلف جنسی میلانات اور رحجانات رکھنے والے افراد مختلف اجتماعات کا انعقاد بھی کرتے رہتے ہیں۔ تاہم بھارت کے اکثریتی طور پر قدامت پسند معاشرے میں ہم جنس پرستی کو تاحال شرم ناک عمل تصور کیا جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *