مدرسہ حقانیہ کی امداد عمران خان کو طالبان خان ثابت کرتی ہے

SanaUllah

لاہور-وزیر قانون پنجا ب رانا ثناءاللہ خان نے کہا ہے کہ جامعہ حقانیہ طالبان کا مدرسہ ہے، اس کو30کروڑ کے فنڈز کی تحقیقات ہونی چاہئے، پنجاب میں99فیصد پولیس افسروں کی پروموشن ٹھیک ہوئی حکومت عدالت بالخصوص سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بائی پاس نہیں کر سکتی، حکومت کی کوشش ہے کہ میرٹ پر ترقی پانے والے پولیس افسران کا تحفظ کیا جائے۔ کوشش ہے کہ جان خطرے میں ڈال کر ترقی پانے والے پولیس افسروں کی مدد کی جائے ، متاثرہ افسروں کو عدالت سمیت حکومت میں بھی اپنا موقف پیش کرنا چاہئے.  اس معاملے پر وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بھی لاءڈیپارٹمنٹ کو ہدایت جاری کر دی ہیں۔ سانحہ منہاج القرآن اور عوامی تحریک کے اب کے مطالبات میں زمین آسمان کا فرق ہے وہ صرف سیاست کر رہے ہیں اور سانحہ منہاج القرآن کی آئین و قانون کے مطابق ہی تحقیقات کی گئی ہیں۔

این این آئی کےمطابق صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثناءاللہ خان نے خیبر پی کے حکومت کی جانب سے جامعہ حقانیہ کو30کروڑ روپے کی خطیر رقم دینے کے معاملے کو نیشنل ایکشن پلان کو کمزور کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جامعہ حقانیہ تحریک طالبان کے تمام گروہوں کی مادر علمی ہے، اس کی اتنی بھاری مالی امداد کر کے عمران خان نے خود کو طالبان خان ثابت کر دیا ہے، او ایس ڈی بنائے گئے پولیس اہلکاروں کو احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن وہ کسی تشدد پر نہ اتریں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *