ایک گدھے کی گدھوں جیسی باتیں!

Photo Attaul Haq qasmi sbمجھے گدھوں پر بہت ترس آیا کرتا تھا۔ میں سوچتا تھا ان کی بھی کیا زندگی ہے۔ ان کا سارا دن سامان ڈھونیاور مالک کے چھانٹے کھاتے گزر جاتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لئے ان کی کمرسے سامان اتاراجاتا ہے تو دوسری جگہ سے سامان لانیکے لئے بھیج دیاجاتا ہے۔ اس دفعہ مالک بھی ان کی کمر پر سوار ہو جاتا ہے۔رات گئے ان گدھوں کو کھونٹی سے باندھ دیا جاتا ہے۔ جہاں یہ چپکے چپکے آنسو بہاتے ہیں۔ میرا خیال تھا کہ انجم مرحوم نے یہ دوشعر شاید ان گدھوں کے حسبِ حال ہی کہے تھے:
ہر گھر میں اک ایسا کونا ہوتا ہے
جس میں چھپ کے ہم نے رونا ہوتا ہے
پیٹ کی خاطر ہم بے بس مزدوروں کو
چوروں کا سامان بھی ڈھونا ہوتا ہے
مگرگزشتہ روز ایک گدھا گاڑی میں جتے گدھے سے میں نے انٹرویو کیا تو میری سوچ بدل گئی۔ اس گدھے کا مالک قریبی ریستوران میں کھانا کھانے گیا تھا اور اس نے اسے جاتے ہوئے گدھا گاڑی سے الگ کرکے ایک کھونٹی سے باند ھ دیا تھا۔ اس گدھے سے جوسوال جواب ہوئے ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
گڈ آفٹر نون مائی ڈیئر ڈونکی!
آپ نے شاید مجھ سے کچھ کہا ہے؟
ہاں! میں نے تمہیں دوپہر کا سلام کیا ہے
وعلیکم السلام۔ میں دراصل اردو میڈیم گدھا ہوں۔ مجھے انگریزی نہیں آتی۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ انگریزی بولنا غلامی کی نشانی ہے بس اس وقت سے اپنی قومی زبان اردو بولتا ہوں اور انگلش میڈیم کی غلامی کرتا ہوں۔
کیا تمہارا مالک انگلش میڈیم ہے؟
نہیں! اردو میڈیم ہے۔ وہ انگلش میڈیم طبقے کے لئے گدھے بھرتی کرتا ہے اور ان سے بھرتی ڈ لوا کر ان کی بنیادیں مضبوط کرتا ہے۔
میں نے سڑک پر چلتے ہوئے کئی مرتبہ دیکھا ہے کہ زیادہ سامان لادے جانے کی وجہ سے گدھا گاڑی آگے کو اُٹھ جاتی ہے اور تم اس کے ساتھ ہوا میں معلق ہو جاتے ہو، تم اس ظلم کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کرتے؟
تم انسان خود پر ہونیوالے ظلم کے خلاف احتجاج کرتے ہو مگر اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے جو گدھوں کے احتجاج سے نکلے گا۔
تم کم از کم محکمہ انسدادِ بے رحمی حیوانات سے شکایت تو کرسکتے ہو!
یہ محکمہ ہم گدھوں کے لئے پولیس ڈپارٹمنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیا تم لوگ پولیس اسٹیشن جا کر اپنے اوپر ہونے والے کسی ظلم کی شکایت درج کراسکتے ہو؟ اگر نہیں تو پھر اپنا مشورہ اپنے پاس ہی رکھو!
میں نے سنا تھا کہ گدھا ایک بیوقوف جانور ہے لیکن تم تو اپنی باتوں سے خاصے عقلمند لگتے ہو!
یہ پروپیگنڈہ بھی انہی ظالموں ہی کا کیا ہوا ہے۔ کیا تم کبھی اسلام آباد گئے ہو؟
اکثر جانا ہوتا ہے!
پھر تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ گدھا ایک بیوقوف جانور ہے۔ اکیسویں صدی میں چودھویں صدی کینظام کی گدھا گاڑی کھینچنا کوئی آسان کام ہے؟ مگراسلام آباد میں بیٹھے میرے بھائی بند دقیانوسی نظام کی گاڑی کتنی سہولت سے کھینچتے چلے جارہے ہیں۔ خود میں بھی ان دنوں لنڈا بازار جانے کی سوچ رہا ہوں۔ وہاں سے کسی آنجہانی امریکن کا سوٹ اور ٹائی خریدوں گا۔ سناہے ان دنوں امریکی کاغذی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں بھی بازار سے سستے داموں مل جاتی ہیں۔ بس تھوڑے سے پیسے جمع ہو جائیں۔ اس کے بعد اسلام آباد میں تم میرے پی اے کی معرفت مجھ سے بات کرنے کے لئے ترس جاؤ گے اور تمہیں ہر بار یہی بتایاجائے گا کہ صاحب میٹنگ میں ہیں!
میں نے تم گدھے سے بات کرکے کیا لینا ہے۔ تمہارے پاس کہنے کے لئے ڈھینچوں ڈھینچوں کے سواہے کیا؟
اس کے علاوہ بہت کچھ ہے، کہو تو دکھاؤں؟
بس بس وہ رکھو اپنے پاس۔ دولتیاں ہیں اور کیا ہے مگر یہ تمہارے کسی کام کی ہوتیں تو تم یہاں نہ بندھے ہوتے اور تمہارا مالک سامنے والے ریستوران میں بیٹھا قورمہ نہ کھا رہا ہوتا!
یہ تم مجھ سے زیادہ فری ہونے کی کوشش نہ کرو، اپنی حد میں رہو!
میں اپنی حد اور تمہاری اوقات سے واقف ہوں۔ تم دو ٹکے کے ایک کالم نویس ہو، جو لکھنا چاہتے ہو، وہ لکھ نہیں سکتے ۔ گول مول بات کرکے ظالم اور مظلوم دونوں سے دادپانے کے چکر میں رہتے ہو۔ ایک کالم حکومت کے خلاف لکھ کر اور ایک کالم حکومت کی حمایت میں لکھ کر بیلنس کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہو۔ ہر دور میں تمہارے قلم کا زاویہ بدل جاتا ہے۔ میں تمہیں اچھی طرح جانتی ہوں۔
اس گفتگو کے بعد میں نیجانا کہ جس جانور کو میں مظلوم سمجھتا تھا وہ مظلوم نہیں بلکہ انتہائی بدتمیز اور بدتہذیب جانور ہے۔ سو میں نے مزید اس کے منہ لگنا مناسب نہ سمجھا اور چپکے سے وہاں سے چل دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *