پاکستان میں ہیرا پھیری کی صحافت(حصہ سوم)

اس مضمون کا حصہ اول پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجئے

اس مضمون کا حصہ دوم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجئے

پاکستان میں الیکٹرونک میڈیا ایسے بچے کی طرح ہے،جس کوابھی تک یہ تمیز نہیں آئی،کون سی بات، کس وقت کرنی ہے،کس بات کو تولنا اورپھربولناہے،مگر ریٹنگ کی دوڑ میں بھلا ان باتوں کا ہوش کس کورہتاہے۔ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کے جنون نے الیکٹرونک میڈیاکو گلیوں میں تماشادکھانے والے مداری میں تبدیل کردیاہے۔
الیکٹرونک میڈیا ،مداری اوربندر کاتماشا!
پرانے دورمیں گڈگڈی بجاکر مداری اہل محلہ کو اپنا تماشادکھایاکرتاتھا،بلکہ یوں کہہ لیں فروخت کیاکرتاتھا۔وہ مداری ڈگڈی بجاتے ہوئے اپنے محکوم بندرکواشارہ کیاکرتا،چل بچہ جمہورا،شروع ہوجا،بندرناٹک دکھانے لگتا،جس کی مشق اس کو کروائی ہوتی تھی۔مداری بندر کوکہتا’’شوہر سسرال کیسے جاتاہے؟‘‘بندرنرالے انداز میں وہ ناٹک کرکے دکھاتا۔اب میڈیا پر دکھائی جانے والی شادیوں کی کووریج ان تناظر میں دیکھی جاسکتی ہے۔شعیب ملک سے لے کرعمران خان تک،ان شادیوں میں الیکٹرونک میڈیا نے عوام کو پل پل شامل رکھا،پھر اس میں سے ایک شادی جب اپنے منطقی انجام کو پہنچی ،تواس کاتمسخر جس طرح اڑایا،وہ بھی اپنی مثال آپ تھا۔اس طلاق کی خبر کے تناظر میں بھی کئی سینئر صحافیوں کے نام گردش کرتے سنائی دیے،جن میں سینئر صحافی اورانگریزی اخبار ’’پاکستان ٹوڈے‘‘کے چیف ایڈیٹرعارف نظامی اورجیو نیو زسے وابستہ سلیم صافی سرفہرست ہیں۔سلیم صافی نے اس سلسلے میں اپنے پروگرام ’’جرگے‘‘کے ذریعے اپنی صفائی پیش کی ،جبکہ ریحام خان نے بھی اپنی صفائیاں بیان کیں، ایک چینل پر کس طرح ذاتی غلط فہمیاں نمٹائی جارہی ہیں،ملاحظہ کیجیے۔

کیمرے کی آنکھ سے شادی اورطلاق !

پاکستانی الیکٹرونک میڈیا کس طرح شادی سے طلاق تک عوام کو اپنے ناٹک میں مصروف رکھتا ہے،اس کے لیے عمران خان کی شادی اورطلاق کاموازنہ بذریعہ میڈیاکافی ہے،اس کے لیے درج ذیل دونوں لنکس دیکھے جاسکتے ہیں،جس سے اندازہ ہوگا،میڈیا کی منافقت کس حدتک ان کی نشریات میں سرایت کیے ہوئے ہے،جس کاشمار کرنا بھی اب ممکن نہیں ہے۔

عمران خان کی شادی کے تناظر میں ایک لنک: 

عمران خان کی طلاق کے بعد کاایک لنک: 

میڈیاناٹک کے کردار!
مداری اوربندر مل کرجوبھی تماشا اب نشریات کے نام پر پیش کرتے ہیں۔اس تماشے کاعنوان بدل جاتاہے،مگرمقصد کبھی نہیں بدلتااوروہ ہے پیسے کمانابس،معاشرے کی تربیت ،اخلاقیات ،پیشہ ورانہ ذمے داری فرسودہ باتیں ہوئیں،ان کاخیال کون کرے۔مداری اوربندرکا تماشا اُن دونوں کے رزق کا ایک وسیلہ ہواکرتاتھااورتماشائیوں کے لیے تفریح کاذریعہ،مگراب الیکٹرونک میڈیا یہ ذمے داری سنبھالے ہوئے ہے۔نام نہاد قسم کے ڈاکٹر،ایم بی اے،فلم سازاورنہ جانے کن کن شعبوں سے واردہونے والوں نے بندرکامنصب سنبھالا،اب وہ صحافی کہلاتے ہیں۔ویسے بھی بقول ایک سینئر صحافی کے ’’الیکٹرونک میڈیا میں اسکرین کے سامنے عقل کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف خوبروچہرہ کافی ہوتاہے ،اس عقل مند آدمی کو پیچھے کہیں بٹھادیاجاتاہے،جو اس کے کا ن میں مائیکرو فون کے ذریعے عقل اس خوبرو میزبان یانیوز کاسٹرکے کان میں عقل انڈیلتارہے۔پیمانے جب اس طرح طے کیے جائیں ،توپھر نتائج کیانکلتے ہیں ، ملاحظہ کیجیے۔

بدتمیزی اوربے ایمانی شرطِ اول!

الیکٹرونک میڈیا پروہ میزبان کامیاب ہے،جس کو تماشالگانا آتاہو،یہی وجہ ہے،اب ڈرامانمامارننگ شوزہوں یا شام کے تڑکے دار ٹاک شوز،سب میں مداری اوربندراپنااپنا کام کرتے ہیں۔انہو ں نے ناظرین کوان تماشوں میں مشغول کررکھاہے۔شاید ہی کوئی چینل ہو،جس کو پیمراکانوٹس نہ ملاہو،یاجس کو عوامی دباؤ اورلعن طعن کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ رمضان المبارک کامہینہ ہویاپھر ویلنٹائن ڈے اورچاہے عیدالفطر کے موقع پر انڈین فلموں کی تشہیر مقصود ہو۔غلط خبریں چلائی جارہی ہوں، بغیر تصدیق کے ایک دوسرے کی چینک اسکرین سے دیکھ کر ٹکر چلادیاجائے،بریکنگ نیوز دے دی جائے،تردید کی پرواہ کیے بغیر،اب سب جائز ہے۔ان کو اپنا منجن بیچنے سے سروکار ہوتاہے۔سیٹھ کے جذبات تجوری سے بندھے ہوتے ہیں،اس کے دل کی دھڑکنوں میں سکوں (اشرفیوں)کی کھنک سنائی دیتی ہے اورہم عوام جذبات کی رومیں بیٹھے اسکرین کے سامنے سے نہیں ہٹتے۔تماشاوہی کامیاب ہوتاہے،جس میں تماش بین کھوجائیں ،مبارک ہومیڈیا کے سیٹھوں کو،وہ کامیاب ہیں۔ملاحظہ کیجئے!

ہاتھی کے دانت،کھانے کے اوردکھانے کے اور!

الیکٹرونک میڈیا اتنے برس گزرنے کے باوجود بھی باشعور نہیں ہوسکا،ان پیشہ ورانہ کوتاہیوں کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔چوردرازے سے داخل ہونے والے صحافیوں کے علاوہ چینلوں میں بھرتیوں کاایک خودساختہ کوٹہ بھی طے ہوتاہے،جس کے تحت مذہبی اورلسانی بنیادوں پر بھی بھرتیاں ہوتی ہیں۔اس تناظر میں کئی چینلوں کو خوب شہرت حاصل ہے ،میڈیاوالے توخیر ان سے واقف ہی ہیں۔جوڑ توڑ کی کہانیاں بھی اب توپوشیدہ نہیں رہیں،کس طرح ایک میزبان دوسرے چینل پر جاتے ہی گزشتہ چینل سے کیسے آنکھیں پھیرتاہے،یہ تواب روزدیکھنے میں آتاہے۔بول چینل سے وابستہ ہونے والے بڑے بڑے ناموں نے اپنے تعلقات کی بنیاد پر اپنی نوکریوں کاانتطام کرلیا،مگر عام صحافی زمانے کی ٹھوکروں میں ہیں۔کراچی اورملک کے مختلف شہروں کے پریس کلب میں ’’دستخطی مہم‘‘اس کامنہ بولتا ثبوت ہے،اس مہم کے دست راست سینئر صحافی علی عمران جونیئر ہیں،جنہوں نے فیس بک پر میڈیا کی اندورنی کہانیوں کو طشت ازبام کرنے کا قسط وار سلسلہ بعنوان ’’سینہ بہ سینہ ‘‘شروع کررکھاہے،قارئین ان کی فیس بک کی وال پر وہ مزید تفصیل پڑھ سکتے ہیں۔

https://www.facebook.com/ali.imran.junior?fref=ts

لمبے ہاتھ اورتاریک راہیں!

روزنامہ ایکسپریس کی اینکر’’غریدہ فاروقی‘‘نے حال ہی میں اپنا اٹھارہواں پروڈیوسر فارغ کردیاہے،وہ کسی سے مطمئن ہی نہیں اورخود لائیو شو میں شیخ رشید سے ڈانٹ کھاچکی ہیں۔اب تک نیوز چینل میں نائٹ شفٹ کرنے والوں کے لیے سحری کاکوئی انتظام نہیں ہے۔جیونیوز اورعامرلیاقت حسین کے شو پر پابندی اورپھر اس کاخاتمہ لمبے ہاتھوں کاپتہ دیتاہے۔مبشرلقمان کئی مرتبہ پابندیوں کاشکارہونے کے بعد ایک سیاست دان کو یہودی خاندان کاچشم وچراغ کہنے پر عدالتی نوٹس حاصل کرچکے ہیں۔سوچل میڈیا پر بھی عوام کا ردعمل میڈیا کے اینکرپرسن دیکھتے ہیں ،مگر کچھ سیکھتے نہیں ،ان کی زندگی ’’پکچر ابھی باقی ہے‘‘کی مانند گزرتی ہے ۔۔۔

 http://urdunews.thenewstribe.com/2016/06/18/601347
 http://www.urdupoint.com/pakistan/news/islamabad/national-news/live-news-675111.html

سب مایاہے،ڈھلتی پھرتی چھایاہے!

سماء نیوز کے رپورٹرارباب چانڈیو کو جب بول چینل کے احتجاج میں شریک ہونے کی سزا ملی۔عاصمہ شیرازی چینل 92سے فارغ کردی گئیں اورریحام خان کو نیو نیوز سے نکال دیاگیا۔دوسری طرف کئی صحافیوں کی مشکوک سرگرمیاں بھی احوال دوستاں میں گردش کررہی ہیں۔یہ الیکٹرونک میڈیا کی اخلاقیات ہیں۔مہربخاری اورمبشرلقمان کی ملک ریاض والے انٹرویو کی آف ریکارڈ گفتگو تو سب کو یاد ہی ہوگی۔

داستانِ الف لیلیٰ اورالیکٹرونک میڈیا!

الیکٹرونک میڈیا کی کہانیاں ایک داستان الف لیلیٰ ہیں،سب بتانے کو ایک دفتر درکارہوگا۔اب اس ماحول میں شریف النفس صحافی کی حیثیت تو غنڈوں میں رضیہ والی ہے،صحافت کے قواعد وضوابط سب خاک ہوئے،اب یہی انداز سلطانی ہے،اس پر مداری کاتماشا،لہٰذا صورتحال خاصی خراب ہوچکی ہے۔اب بھی پاکستانی میڈیا نے عقل کے ناخن نہ لیے،تووہ دن دورنہیں ،جب میڈیا خود اپنے اس تماشے کاشکار ہوجائے گا۔
بہت عرصہ پہلے ایک انٹرویو میں پاکستان کے معروف ڈرامانگار،شاعراورتدریس کے شعبے سے وابستہ ’’اصغرندیم سید‘‘ سے ،جب میں نے سوال پوچھا کہ’’ ہمارے نیوز چینلز اتنی سنسنی کیوں پھیلاتے ہیں،تکلیف دہ خبروں کو باربار چلاتے ہیں ،ایک زمانے میں تو خودکش بمباروں کے سراوردھڑ تک الگ ہوئے دکھائے گئے،ایک زمانہ تھا جب ہماراٹیلی وژن پرائم ٹائم میں ڈراموں کے ذریعے بھی معاشرے کی تربیت کررہا تھا،آج ہم جرائم کی کہانیوں کوبھی فلماکراسی پرائم ٹائم میں چلارہے ہیں،تو ایسا کیوں ہے اورعوام بھی دلچسپی سے یہ سب کچھ دیکھتے ہیں ،کیوں؟

میرے سوال پر ’’اصغرندیم سید‘‘ کاجواب تھا۔’’کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں،جن کو چاٹنے سے تکلیف دہ لذت ملتی ہے،ہمارے یہ چینل اپنے زخموں کو چاٹنے اوراس لذت سے لطف اٹھانے کے عادی ہوچکے ہیں اورشاید عوام بھی۔‘‘ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *