تجدید و احیائے دین ۔۔۔۔ ایک تعارف

احمد حامدی

Ahmed Hamdi

"تجدید و احیائے دین" مولانا مودودیؒ کی بہترین کتابوں میں سے ہے۔ شمارہ "الفرقان" کے شاہ ولی اللہ نمبر پر انہوں نے ایک مقالہ لکھا جس کو بعد میں اضافوں کے ساتھ تجدید و احیائے دین کی شکل میں شائع کیا گیا۔ یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کے ایک سال بعد 1941 کو مولانا ابو الاعلی مودودیؒ نے کارِ تجدید اور حکومت الہیہ کے نفاذ کے لیے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ مولانا مودودیؒ جہاں مختلف مجددین کے کام کا جائزہ لیتے ہیں وہاں یہ اس کمی کی طرف بھی اہل علم کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ " یہ واقعہ ہے کہ وہ کوئی ایسی سیاسی تحریک نہ اٹھا سکے جس سے نظام حکومت میں انقلاب برپا ہوتا"۔ اس سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ مولانا مودودی نے جماعت اسلامی کس غرض سے بنائی ہے اور جماعت اسلامی کا مقصدِ وجود کیا ہے۔

خلیل الرحمن چشتی صاحب تجدید و احیائے دین کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کی روانی اور برجستگی سے یہ گمان ہوتا ہے کہ مولانا نے یہ کتاب ایک ہی نشست میں لکھی ہوگی۔ پڑھنے والا جب اس کتاب کا مطالعہ کرے گا تو اسے کسی بھی مقام پر بے ربطی کی شکایت نہ ہوگی۔ مقالہ نگار بڑے دل نشین انداز میں پہلے کائنات، تصور خدا اور معادی نظریات کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔ اسی رستے سے ہوتے ہوئے وہ انبیاء کرام علیھم السلام کے مشن کی وضاحت کرتے ہیں اور بعدمیں مجدد، متجدد، تجدید اور مجددین کے حوالے سے بحث کرتے ہیں۔

ہر زمانے میں پیغمبر وں کے بعد اس کی جانشینی رفتہ رفتہ ان لوگوں کے ہاتھ لگی ہے جنہوں نے اصل کو کھو دیا ہو اور اختلافات کو جنم دیا ہو۔ بالکل اسی طرح خلافت راشدہ کے بعد گزرتے زمانے کے ساتھ ساتھ معیاراتِ زندگی تبدیل ہوتے رہے۔ نئے نئے فرقے وجود میں آئے، عقلیات کی آمیزش سے محکمات اور متشابھات میں فرق کرنا مشکل ہوگیا۔ گمراہیوں کے بعد اور دین اسلام کے اصل تصور کے دھندلا جانے کے بعد ہمیشہ کچھ صالحین پیدا ہوتے رہے ہیں۔ جنہوں نے خدا داد بصیرت اور علمیت سے ان گمراہیوں کا مقابلہ کیا اور دین اسلام کی عکس کو نکھار بخشا اور اسی کی بشارت اور پیشن گوئیاں ہمیں احادیث میں ملتی ہیں۔

تجدید و احیائے دین میں مولانا مودودیؒ نے خلافتِ راشدہ کے بعد سے لے کر انیسویں صدی عیسوی تک کے مختلف اہل علم کے کام کا جائزہ لیا ہے اور ان کو مجدد کا درجہ دیا ہے۔انہوں نے عمر بن عبدالعزیز، ائمہ اربعہ(امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام احمد بن حبنل اور امام شافعی)، امام غزالی، امام ابن تیمیہ، امام احمدسرہندی اور شاہ ولی اللہ کے کام پر بحث کی ہے۔ کتاب کے مختلف مقامات پر انہوں نے معترضین کو جوابات بھی دیئے ہیں۔ مثلا جو لوگ امام مہدی کے تصور کے قائل نہیں ہیں اور اس کو محض وہم سے تعبیر کرتے ہیں ان کو جواب دیا ہےاور جو لوگ مولانا مودودی کے مختلف اقتباسات سے فتنہ اٹھانا چاہتے تھے ان کو کتاب کے آخری حصہ میں مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے۔

تجدید و احیائے دین میں ایجاز و اختصار سے کام لیا گیا ہے۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس کتاب سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اس پر شرح لکھنے کی ضرورت ہے۔ جس پر کسی حد تک خلیل الرحمن چشتی صاحب نے بھی کام کیا ہے۔ دقیقہ سنج اور جز رس لوگوں کے لیے یہ کتاب گنج گراں مایہ ہے۔ اگر یہ کتاب سرسری پڑھی جائے اور صرف ظاہر و باہر پر اکتفا کیا جائے تو یہ کتاب درج سوالات کے جوابات دینے کی قابل ہے۔

1: تصورخدا، کائنات، آخرت اور طرزِ حیات کےمتعلق کون کون سے نظریات پائے جاتے ہیں؟ اسلام اور ان نظریات میں تصادم کی کیفیت اور نوعیت کیا ہے؟

2: انبیاء کرام کا مقصدِ بعثت اور اندازِ کار کیا ہے؟

3: خلافت کے بعد جاہلیت نے اسلام کے کون کون سے شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا؟

4: انبیاء کرام اور مجددین کے کام کی نوعیت کیا ہے اور اس میں کیا فرق پایا جاتا ہے؟

5: مجدد اور متجدد /تجدید اور تجدد میں کیا فرق ہے؟

6: مجدد کا دائرہ کار کیا ہوتا ہے؟ ۔۔۔ نیز مجدد کامل اور کسی شعبہ کے مجدد میں کیا فرق ہوتا ہے؟

7: مجددینِ امت کے کام کا جائزہ، ان کے کام میں نقائص اور ان کے اثرات (شاہ ولی اللہؒ کے کام کے اثرات کو قدرے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے)۔

یہ تو کتاب کا مختصر تعارف ہے۔ انشاء اللہ جلد اس کے مختلف اقتباسات پر بات ہوگی۔ جس کو خلاصہ تصور کیا جائے گا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *