سوشل میڈیا، سیاسی جماعتوں کے لئے کھلا میدان

سہیل اقبال خان   

sohail iqal khan

سیاست اور سیاسی رنگ تو پوری دنیا میں ہی دیکھائی دیتا ہے۔ہر ریاست،ملک کے اندر اس رنگ کا ایک الگ سا انداز ہوتا ہے،کچھ انداز خود سیاست والے اپنائے ہوئے ہوتے ہیں،اور کچھ سیاسی جماعتوں کے حمایتی اپنا لیتے ہیں،یہ ہی وجہ ہے،موجودہ دور کی سیاست نے اپنا رنگ،انداز،تبدیل کر لیا ہے۔اب سیاست کرنے کا انداز،پرانے دور کی سیاست سے کچھ مختلف نظر آتا ہے۔گئیں یہ انداز تبدیل ہوا ہو یا نہیں،لیکن پاکستان میں یہ انداز ،واضح طور پر تبدیل ہوا ہوتا نظر آتا ہے۔اگر زرا،پرانی بات کر لی جائے،تو پاکستان کے اندر سیاست، عملی،جوش سے بھرپور،اور خدمت سے سرشار ہوا کرتی تھی،اور یہ سیاسی جذبہ نہ صرف سیاست کرنے والوں ،بلکہ ساتھ ہی ساتھ،عام عوام،نوجوانوں،بزرگوں،خواتین میں بھی واضح دیکھائی دیتا تھا۔یعنی یہ سمجھ لیا جائے،یہ سیاست عملی سیاست ہوا کرتی تھی،جس میں کسی بھی سیاسی پیغام کو،یا خدمت کو عوام تک پہنچانے کے لئے کسی موبائل فون،کسی اشتہار،یا کسی بھی سوش میڈیا کی ضرورت نہیں ہو ا کرتی تھی۔خود عملی طور پر عوامی مسائل سنے بھی جاتے ،اور ان کا حل بھی تلاش کیا جاتا ،ساتھ ہی ساتھ عوام کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط بنانے کا راستہ بھی بنا لیا جاتا۔لیکن اب موجودہ دور،زرا ماڈرن دور کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔جی ہاں،گئیں سیاسی رنگ تبدیل ہوا ہو یا نہیں،پاکستان میں ضرور تبدیل ہو چکا ہے۔یہاں پر سیاست کرنا اب شاہد کوئی بڑا مسئلہ ہی نہیں رہا ہے۔موجودہ سیاست عملی اقدامات،خدمت،اور عوامی تعلقات سے زیادہ ،سوشل میڈیا پر کی جانے لگی ہے۔کوئی بھی بیان جاری کرنا ہو،سوشل میڈیا کا سہارا،کوئی بھی جواب دینا ہو،ایک ٹویٹ کے ذریعے،کسی بھی پروجیکٹ کا آغاز،کرنا مقصور ہو،اس کی اشتہاری مہم سوشل میڈیا پر جاری کر دی جاتی ہے۔جی ہاں،کہانی یہاں پر ہی نہیں ختم ہو جاتی ہے،اس آگے اگر ذکر کریں ،تو سوشل میڈیا کو ،سیاسی لڑائی کے لئے خوب استعمال کیا جاتا ہے۔ایک ٹویٹ ،اس پر بحث مباحثہ،اور پر کیا سیاسی لوگ،اور کیا سیاسی حمایتی تمام کے تمام،سوشل میڈیا کے سمندر ،پر ایسے ایسے تیر چلاتے ہیں،جہاں جس کا جو دل چائے وہ لکھتا ،بولتا،ہے۔بعض اوقات تو،ہم سوشل میڈیا پر،ایسے الفاظ کا چناو کا آغازکر دیتے ہیں،جو شاہد ہمیں زیب نہیں دیتا ہے۔کوئی بھی بڑا واقع رونماہو جائے،کوئی قدرتی آفت آ جائے،یا کوئی بھی ملک میں بڑا سانحہ پیش آ جائے،سوشل میڈیا پر ایک ٹویٹ سے عوام کی داد رسی بھی کر دی جاتی ہے،اور ساتھ ہی ساتھ ،متعلقہ اداروں کو الرٹ بھی کر دیا جاتا ہے۔یعنی سوشل میڈیا نے سیاست کرنے والوں کو اتنی سہولیات فراہم کر دی ہیں،کہ اب ان کو عوام میں جانے ،اور گھر سے نکلنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ہے۔زرا،اس سے آگے کی بات کر لی جائے،تو جناب،سوشل میڈیا پر ایک اور سیاسی پہلو،بہت واضح اور بھرپور انداز میں دیکھنے کو ملتا ہے۔جی ہاں،وہ ہے،سیاسی جماعتوں ،کا ایک دوسرے کے خلاف سوشل میڈیا کا استعمال۔ایک جماعت،دوسری جماعت،دوسری تیسری کے خلاف،اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا ہے،ان جماعتوں کے سپیشل میڈیا سیل بنائے گئے ہوتے ہیں۔
اور ان سوشل میڈیا کے پیجز کو ،رن کرنے کے لئے ایکسپرٹ موجود ہوتے ہیں۔جو مخالفین کے حوالے سے کبھی ان کے خلاف،کوئی تاریخ کا واقعہ ڈھونڈ کر،اس پر پوسٹ کر رہے ہوتے ہیں،تو کبھی مخالفین کے خلاف طرح طرح کی ویڈیوز،تصاویر شائع کی جاتی ہیں،سب سے بڑھ کر،یہ سب کچھ ،اپنے کردار کو پاک صاف،اور مخالفین کو عوام کی نظروں میں خوب برا بنانے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔حیران کن بات تویہ بھی ہے کہ،سوشل میڈیا پر،ایڈٹ کر کہ،ایسی ایسی تصاویر شائع کی جاتی ہیں،کہ جو کسی صورت زیب نہیں دیتیں۔لیکن کیا کریں ،یہ ماڈرون دور ہے،ماڈرون طریقے سے ہی چلنا پڑے گا۔اگر میں اب،ذرا،حکومت،اور اپوزیشن کی بات کروں ،تو حکومت موجود دور کی ہو،یا اس سے پہلی حکومت ہو،حیرانگی کی بات یہ ہے کہ،حکومت کی جانب سے کسی بھی پروجیکٹ کا آغاز کرنا مقصود ہو،تو اس کے لئے سوشل میڈیا پر،رنگ برنگے ،تصاویر کے پوسٹس کر دے جاتے ہیں،یہاں تک کہ ،اس علاقے کے لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ،اس پروجیکٹ کا آغاز کب ہو رہا ہے،لیکن جو سوشل میڈیا پر موجود ہے،اسے یہ پیغام پہنچ جاتا ہے۔کسی کے خلاف کوئی ایکشن ہو،کسی اسپتال کا دورہ ہو یا،سنگ بنیاد،یا پھر کسی بھی جگہ کا ہنگامی دورہ ہو،سوشل میڈیا پر،تصاویر اور ویڈیوز کی بھر مار کر دی جاتی ہے۔میرے لئے ایک سب سے زیادہ حیرانگی کی بات یہ تھی،جب میری سوشل میڈیا پر،وزیراعظم میا ں محمد نواز شریف صاحب کی جانب سے ،بھیجے گئے ایک پیغام،کی ایک پوسٹ پر پڑی،جس پر میاں صاحب کی تصویر بھی موجو دتھی ،اور پیغام بھی تھای،کہ میری اپنے چاہنے والوں سے درخواست ہے کہ،وہ میرے پاکستان آنے پر تمام انتظامات،اور تقریبات ترک کر دیں،اب یہ اندازہ ،لگا لیں،کہ اس پیغام کے لئے بھی سوشل میڈیا کا سہارا لیا گیا،میرے خیال میں ایسے پیغامات،پارٹی کے رہنماوں تک پہنچ جائے ،تو باقی کارکنوں کو بھی خبر ہو جاتی ہے۔
بہرحال،یہ بات سمجھ لی جائے،کہ حکومت کی جانب سے کسی بھی خاص بات کا ذکر شاہد کسی ،کانفرنس ،یا تقریب میں بعد میں سنائی دے،لیکن سوشل میڈیا پر پہلے سے ہی عوام کے لئے میسر ہو گا۔اب ذرا اپوزیشن کا ذکر لر لیا جائے،تو اپوزیشن کی جماعتیں بھی کسی سے کم نہیں،خصوصی طور پر ،پاکستان تحریک انصاف کا سوشل میڈیا بھی کافی متحرک دیکھائی دیتا ہے۔ساتھ ہی ساتھ دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی اپنا اپنا حصہ ڈالتی رہتی ہیں۔اپوزیشن کی جانب سے،حکومتی اقدامات میں کیڑے صرف سوشل میڈیا پر ہی نکالنا کافی سمجھا جاتا ہے،کبھی کسی وزیر پر تیر چلا دے ،تو کبھی کسی پروجیکٹ کے خلاف بغیر کسی ثبوت کے ،اشتہاری مہم سوشل میڈیا پر چلا دی گئی۔اگر یہ ہی سب کام اپوزیشن کی جانب سے ،اسمبلی میں نظر آئے،تو شاہد زیادہ بہتر اندازمیں عوام کو نظر آئے۔ان تمام باتوں سے ہٹ کر،عام عوام کو بھی سوشل میڈیا کا بخار بہت زیادہ ہے۔سیاسی جماعتوں کے حمایتی،مخالفین پر سوشل میڈیا پر ایسی ایسی پوسٹس بناتے ہیں،اور شائع کرتے ہیں،جن کو دیکھ کر افسوس کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے،میری ذاتی رائے یہ ہی ہے ،کہ سیاست کو سیاست ہی رہنے دیں،اس کو مذاق نہ بنائیں۔کسی بھی شخصیت پر تنقید ،آپ کا اور میرا جائز حق ہے،لیکن یوں،سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس سے کسی کی بھی شخصیت کا مذاق مت بنائیں۔گزارش یہ ہی ہے،کہ سیاسی لوگ ،اور سیاسی پارٹی ،چائے وہ حکومتی ہو یا اپوزیشن،آپ سوشل میڈیا سے ہٹ کر،اگر عوام سے براہ راست رابطہ رکھیں ،تو شاہد عوام کا زیادہ اعتماد حاصل کر سکیں،سیاست میں عوام اعتماد زیادہ ضروری ہوتا ہے،سوشل میڈیا سے عوام کے دل نہیں جیتے جا سکتے ،عوام کے دلوں میں راج کرنے کے لیے،ان کے درمیان میں ہونا ضروری ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *