کچھ غیرت مند اور ایک بے غیرت جانور!

Photo Attaul Haq qasmi sbپرندوں میں سے مجھے کوّے اور طوطے بہت پسند ہیں، کوّؤں کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ ہر وقت ا لرٹ رہتے ہیں، اپنی آزادی کے تحفظ کے ضمن میں یہ کسی کمپرومائز کے قائل نہیں۔ صیاد اگرانہیں دانہ بھی ڈالے تو بھی یہ اس کو اپنا دوست سمجھ کر اس سے غافل نہیں ہوجاتے بلکہ دانہ چگتے ہوئے بھی ان کی نظر اس کے ارادے پر رہتی ہے، اگر انہیں خدشہ ہو کہ دانے کے ساتھ کہیں دام بھی ہے جو انہیں غلام بناسکتا ہے تو یہ دانے کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے جبکہ لالچی، احمق یا چند دانوں کی خاطر اپنی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کا رسک گوارا کرنے والے دوسرے پرندے صیاد کے پھیلائے ہوئے دام میں آجاتے ہیں، کوّا اپنی آزادی کی خاطر روکھی سوکھی کھانا پسند کرلیتا ہے لیکن غلامی کی قیمت پر اسے بڑی سے بڑی نعمت بھی گوارا نہیں۔پرندے کی یہ حریت پسندی گورے چٹے لوگوں کو اچھی نہیں لگتی۔کوّے کی طرح طوطا بھی مجھے پسند ہے، اسے لاکھ چوری کھلائیں، بہت پیار سے میاں مٹھو کہہ کر پکاریں، اس کے باوجود یہ غلامی پسند نہیں کرتا، چنانچہ پنجرے کا دروازہ کھلا پاتے ہی اڈاری ماردیتا ہے اور صیاد اپنے ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔ اس کی اس آزاد پسندی کو سامراجی ذہن رکھنے والے لوگوں نے طوطا چشمیکا نام دے رکھا ہے، اگر یہ چوری کی لذت میں اپنی آزادی کو صیاد کے آگے رہن رکھ دیتا تو صیاد اس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملادیتا ،مگر یہ سمجھ دار جانور ہے، یہ جانتا ہے کہ اس سے اتنا پیار کیوں جتایا جارہا ہے۔ اسے میاں مٹھو کے پیار بھرے نام سے کیوں پکارا جاتا ہے۔ اسے چوری کیوں کھلائی جارہی ہے، اسے اتنا پروٹوکول کیوں دیا جارہا ہے، چنانچہ وہ اپنے بارے میں کسی غلط فہمی میں مبتلا ہونے کی بجائے اپنی لائن سیدھی رکھتا ہے۔ اس کی جگہ کوئی اور پرندہ ہوتا تو وہ اس ناز برداری کی بنیاد اپنی قابلیت قرار دے کر خود کو پرندوں کی تھرڈ ورلڈ کا سب سے بڑا لیڈر سمجھنے لگتا مگر یہ جانور انسانوں سے زیادہ سمجھدار ہے، چنانچہ صیاد کے کسی چکر میں نہیں آتا!البتہ مجھے را طوطے اچھے نہیں لگتے۔ را طوطے وہ ہوتے ہیں جن کی گلے میں سنہری طوق ہوتا ہے اور جو مالک کے رٹے رٹائے جملے بول کر اسے خوش کرنے کی کوشش میں مشغول رہتے ہیں۔ ان کی اپنی زبان نہیں ہوتی۔ ان کا اپنا کوئی ذہن نہیں ہوتا، بس جو پٹی انہیں پڑھادی جائے وہ اسے دہراتے رہتے ہیں۔ اس سے ملتی جلتی مخلوق انسانوں میں بھی موجود ہے بلکہ اپنی اس خوبی کی بنا پر دنیا کے کئی ملکوں میں اعلیٰ مسند پر فائز ہے۔
جانوروں میں سے مجھے جرمن شیپرڈ بے حد پسند ہے۔ یہ بہت ذہین ، تیز و طرار اور بہادر جانور ہے۔ میرے ایک دوست نے مجھے دو مہینے سے چکر دیا ہوا ہے کہ آپ کیلئے لارہا ہوں اس دوست نے اس کی اتنی خوبیاں گنوائی ہیں کہ میں بن دیکھے اس کا عاشق ہوگیا ہوں۔ یہ آپ ہی کا دوست نہیں بلکہ آپ کے دوستوں کا بھی دوست ہے، چنانچہ آپ کیلئے آپ کے گھر والوں کیلئے اور آپ کے دوستوں کیلئے یہ ریشم کی طرح نرم ہے اور آپ کے دشمنوں کیلئے اس سے زیادہ خونخوار اور کوئی نہیں۔ یہ گھر میں ہو تو کسی ڈاکو، لٹیرے کی مجال نہیں کہ وہ اندر قدم رکھ سکے۔ یہ گھر کا محافظ ہے اور اپنے اس فرض کی ادائیگی میں اپنی جان بھی قربان کردیتا ہے۔ آپ اسے جتنا پیار دیں گے یہ اس سے کئی گنا زیادہ آپ کو پیار دے گا۔ اس میں سونگھنے کی حس بہت زیادہ ہے، کھٹکا نہ بھی ہو تو یہ دشمن کی بو پاکر چوکنا ہوجاتا ہے جس جرمن شیپرڈ میں یہ خوبیاں نہ ہوں سمجھ لیں وہ اصلی نہیں۔ دوست کا کہنا ہے کہ اسے گوشت ابال کر کھلانا چاہئے اگر آپ اسے کچا گوشت کھلائیں گے تو اس میں آہستہ آہستہ درندگی عود کر آئے گی اور یہ گھروالوں کی حفاظت کی بجائے گھر والوں پر حملہ آور ہوجائے گا۔ میرے ایک بھانجے میجر زاہد پیرزادہ نے غلطی کی تھی جس کے نتیجے میں اس نے دو اہلخانہ کو بہت بری طرح کاٹ کھایا، چنانچہ زاہد کو اس کابندوبست کرنا پڑا کیونکہ اب یہ جرمن شیپرڈ نہیں رہا تھا کچھ اور بن گیا تھا۔چوپایوں میں جو جانور مجھے سخت ناپسند ہے وہ بیل ہے، کتنا قوی الجثہ جانور ہے یہ، کتنے بڑے بڑے سینگ ہوتے ہیں اس کے لیکن اس کے اتنے طاقتور ہونے کا کیا فائدہ کہ اسے جنگلی کتے ہی چیر پھاڑ کر کھا جاتے ہیں۔ یہ تو تیلیوں کے سامنے بھیگی بلی بن جاتا ہے جس کے نتیجے میں ساری عمر کوہلو کا بیل کہلاتا ہے۔ میرے سابقہ گھر کے سامنے سے ایک دبلا پتلا کالا بھجنگ بھنگی گندگی کے ڈھیرے سے لدے گڈے کے آگے ایک خوفناک سینگوں والا بیل جوتے گلی میں سے گزرا کرتا تھا اور مجھے غصہ آتا تھا کہ اتنا طاقتور جانور سرجھکائے دبلے پتلے بھنگی کے احکامات پر عمل کرنے میں مشغول ہے وہ اگر چاہے تو اس بھنگی کو اپنے سینگوں میں پروسکتا ہے لیکن ایک دن میں نے اس صورتحال پر غور کیا تو میں اس نتیجے میں پہنچا کہ دراصل اس بیل کو اسکے مستقبل سے مایوس کردیا گیا ہے۔ اس سے یہ احساس ہی چھین لیا گیا ہے کہ وہ اپنی طاقت میں جنگل کے سینکڑوں جانوروں سے کہیں آگے ہے۔ اسے غالباً بار بار ایکناکام بیلہونے کا طعنہ دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں اب ایک بھنگی کے چھانٹے کا اشارہ ہی اس کیلئے حکم کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاملہ قوموں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ جس قوم کو اس کے مستقبل سے مایوس کردیا جائے ۔اس کے کروڑوں عوام اپنی بے پناہ طاقت کے باوجود اپنی توانائیوں کو بروئے کار نہیں لاسکتے، کہیں پاکستان کے حوالے سے بھیناکام ریاست کی تکرار اسی لئے تو نہیں کی جاتی؟
یہ بہت بھلی مانس بھی ہے کیونکہ جو آتا ہے اسے چو کر چلا جاتا ہے ہم بھی بہت بھلے مانس ہیں، گائے بھی بہت بھلی مانس ہے ،گائے بھی مفید جانور ہے ہم بھی بہت مفید ہیں ہم سب کو رب کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے اس نے ہماری بکری بھی بنائی ہے، بکری دودھ دیتی ہے مینگنیں بھی دیتی ہے، بکری دودھ میں مینگنیں ملا کر بھی دیتی ہے، ہم بھی دودھ میں مینگنیں ملا کر دیتے ہیں ،بکری درختوں کے پتے کھا کر خدا کا شکر ادا کرتی ہے، ہمیں بھی درختوں کے پتے کھا کر خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے، بکری مکان بنا کر نہیں رہتی کیونکہ بکری ہوتے ہوئے بھی اس میں بعض صفات شاہین کی پائی جاتی ہیں ۔
کہ شاہیں کیلئے ذلت ہے کارآشیاں بندی
ہمیں بھی مکان کی فکر نہیں ہونی چاہئے بکری خدا کی بخشی ہوئی پوشاک پر گزارا کرتی ہے ہمیں بھی تن ڈھانپنے کی فکر نہیں ہونی چاہئے ہمیں بکریوں کی طرح زندگی بسر کرنا چاہئے ! بکریاں بہت شریف ہوتی ہیں بہت صابر ہوتی ہیں، ہم سب کو رب کا شکر ادا کرنا چاہئے جس نے بلی بنائی، بلی بہت خوبصورت جانور ہے، اسے ہم گود میں لیکر پیار کرتے ہیں ،پیار کے رستے میں کوئی چیز حائل نہیں ہوتی اگر ایسا ہوتا تو ہم بلی کو پیار نہ کرتے کیونکہ بلی چوہے کھاتی ہے لیکن بلی کی اسی ادا سے تو ہمیں پیار ہے اور ہم اسے گھروں میں چوہے کھانے کیلئے ہی رکھتے ہیں ،ہم بھی بلیاں ہیں اور چوہے کھانے پر مامور ہیں ۔بلی کی مونچھیں بہت لمبی لمبی ہوتی ہیں مگر یہ وہ مونچھیں نہیں جنہیں وہ تاؤ دے سکے بلی کو یہ فکر بھی نہیں ہوتی کہ مونچھ کہیں نیچی نہ ہو جائے، اسی لئے ہم اسے پیار کرتے ہیں ،بلی کی اگر مونچھیں لمبی ہیں تو اس کی دم بھی بہت لمبی ہے جو وہ بوقت ضرورت ہلانے لگتی ہے ،مونچھ دکھانے کیلئے اور دم ہلانے کیلئے ہونی چاہئے کہ یہ کامیاب زندگی کی علامت ہے۔ بلی ایک کامیاب جانور ہے ہمیں بھی کامیاب ہونا چاہئے، اگر ہماری مونچھ ہے تو ہمیں فوراً دم اگانے کی کوشش کرنی چاہئے ،ہم سب کو رب کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے جس نے ہمارے لئے اونٹ بنایا اونٹ کی بہت قدروقیمت ہے اور اسے بہت عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ اس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی، آج کل جس کی کوئی کل سیدھی نہ ہو وہ ترقی کی منازل بہت تیزی سے طے کرتا ہے ۔اونٹ کو صحرائی جہاز بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ کئی کئی دن تک بغیر کھائے پیئے سفر کر سکتا ہے، یہ بغیر کھائے پیئیوالی بات ایک مغالطہ ہے کیونکہ اونٹ نے اپنی کوہان میں اناج ذخیرہ کیا ہوتا ہے اور سفر کے دوران وہ یہ ذخیرہ استعمال میں لاتا ہے۔ اس کی قدرو قیمت کی ایک وجہ یہ ذخیرہ اندوزی بھی ہے ،ذخیرہ اندوزوں کو ہمارے ہاں بہت عزت کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔اونٹ کی سواری بہت لذیذ ہوتی ہے اور اونٹ کی قدروقیمت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہر کوئی اس پر سواری کر سکتا ہے بعض بونے جب اونٹ پر سوار ہوتے ہیں تو ہم انہیں بلند قامت سمجھتے ہیں ،اونٹ کی سماجی خدمات بہت زیادہ ہیں اور ہم اس کے احسانات سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتے۔ہم سب کو رب کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے جس نے ہمارے لئے گھوڑا بنایا گھوڑا بہت طاقتور جانور ہے۔ یہ میلوں دوڑتا ہے اور اس کا سانس نہیں پھولتا کیونکہ یہ سگریٹ نہیں پیتا اس کی طاقت کا اصل راز یہ ہے کہ سوچنے سمجھنے کی لعنت سے پاک ہوتا ہے چنانچہ گردوپیش کے حالات اسے پریشان نہیں کرتے ہمیں بھی گھوڑے کی طرح طاقتور ہونا چاہئے اور کسی تانگے کے آگے جت جانا چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *