دیکھیں ذرا عید کا چاند

syed arif mustafa

۔۔۔ چاند کو دیکھنے اور لگا تار دیکھنے کا کام ویسے تو عاشقوں کے سپرد ہے کہ جو اس میں اپنے محبوب کا چہرہ دیکھتے ہیں۔۔ لیکن رمضان اور عیدین کے چاند انکے بھروسے نہیں چھوڑے جاتے۔۔۔ خدشہ یہ رہتا ہے کہ محبوب اگر اس روز بالائے بام نہ آپائے تو آسانی سے کہ سکتے ہیں کہ چاند نہیں ہوا،،، پھر لوگوں کی بڑی تعداد اس شغل کا لطف خود ہی اٹھانا چاہتی ہے۔۔۔ اسلیئےگلیوں ، بازاروں اور چھتوں پہ مشتاقان دید کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جاتے ہیں،،، چھتوں پہ اضافی خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ چاند نہ ہونے پر بھی ایک آدھ چاند نظر آ ہی جاتا ہے،،، شاید اسی لیئے چاند کی تلاش کیلیئے آسمان کی طرف دیکھنے والی نظریں اکثریت میں کم ہی ہوتی ہیں ۔۔۔ چاند کو دیکھ لیئے جانے پہ دعا کیلیئے بہتیرے ہاتھ اٹھاتے ہیں لیکن اسکی خاص دعا کم ہی کسی کو یاد ہوتی ہے۔۔۔ جنہیں یاد نہیں ہوتی انہیں یاد کرنے کے اور کئی کام نکل آتے ہیں۔۔۔۔ اک بات یقینی ہے کہ اس وقت جو چہرے منظر خیال پہ چھا جاتے ہیں ، ان میں فوری طور پہ کم از کم کوئی بزرگ صورت چہرہ تو یقینناً نہیں ہوتا۔۔۔ لیکن اس میں بستر مرگ پہ پڑے مالدار بزرگوں کے وراثتی امیدواروں کو بہرحال استثنیٰ ہے۔۔۔

میں چاند کی کرنوں یا شعاعوں کی طاقت کو اپنے دوست چغتائی کی وجہ سے اب زیادہ آسانی سے تسلیم کرتا ہوں ورنہ ان شعاعوں سے سمندرکی لہروں کے مدوجزر کی مثال سے کبھی تشفی نہ ہوئی ،،، رمضان کے چاند کی کرنوں کی ذد میں آتے ہی انہیں عجیب عجیب طرح کی ایسی میعادی بیماریاں گھیرلیتی ہیں جنہیں کسی طبی کتاب کی مدد سے نہیں سمجھا نہیں جاسکتا اور صرف انکی ذاتی تشخیص ہی اس ضمن میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔۔۔ کئی بار تو یہ بھی ہوا کہ چغتائی چاند دیکھنے تو کشاں کشاں بالائے بام پہنچے، لیکن آرام آرام سے پکڑ پکڑ کراتارے گئے۔۔۔ اور یوں کئی دوسرے لوگ انکے ساتھ کئی گئے اس نظارے کی بوجھل قیمت بھگتنے کے سزاوار ٹہرے۔۔ آدمی خوش نصیب ہیں کیونکہ انکو بیماری جو بھی لاحق ہو، ایسی ضرور ہوتی ہے کہ دن میں کھانے پینے سے گریز کے ہر امکان کو نیست و نابود کردیتی ہے۔۔۔ دن بھر مقویات ومشروبات کا اک تانتا سا بندھا رہتاہے۔۔ سحری و افطاری کا ثواب الگ سے پاتے ہیں

ایک دوسرا چاند جس سے چاند کی قوت اور بھی زیادہ آشکار ہوتی ہے وہ عید کا چاند ہے کیونکہ یہ اپنے ساتھ کئی بیماریوں کےخاتمے کی نوید لاتا ہے مہینے بھر سے پڑے ہمارے بیماردوست چغتائی ہمک اٹھتے ہیں اور وہ اسکی شعاعوں کے طفیل مبینہ طور پہ صحتیاب بھی ہوجاتے ہیں۔۔۔ ہمارے دوست تابش تو عید کے چاند کو بچشم خود دیکھنے کیلیئے بڑا اہتمام کرتے ہیں۔۔۔۔ انکے بقول سنی سنائی پہ نہیں ، خود آنکھوں دیکھی پہ بھروسہ کرنا چاہیئے،، یہ الگ بات کہ معاملہ زیادہ تر ریڈیو اور ٹی وی کے اعلان پہ ہی جا ٹہرتا ہے،،، ایکبار ہم نے کہا کہ اگر یہ چاند کا معاملہ سعودی عرب سے منسلک کردیا جائے تو یہاں 2 بلکہ 3 چاندوں کے جھگڑے ہی ختم ہو جائیں تو جھلا کر بولے کہا " یہ جو سال بھرمیں صرف 2-3 بار ساری قوم آسمان کی طرف دیکھتی ہےتم اسے غنیمت جانو ورنہ آسمانوں سے رجوع اب ہمارا قومی شعار رہا ہی کہاں ہے"۔۔۔ رویت ہلال کے مقصد عظیم کے لیئے انہوں نے ترکے میں ملی ہوئی لمبی سی یک نالی دوربین سینت سنبھال کر رکھی ہوئی ہے۔۔۔ جو چھت پہ ویسے تو سبھی کو "چکھائی" جاتی ہے لیکن اصل و تادیر قبضہ انہی کا رہتا ہے،،، لیکن کوئی بھی ان سے چاند کی بابت ذرا نہیں پوچھتا کیونکہ ایک تو دوربین کا رخ جہاں ہوتا ہے وہاں کم از کم فاتحہ والا چاند تو ہرگز نہیں ہوتا اور دوسرے یک نالی دوربین پہ لگی آنکھ زیادہ تر بند پائی جاتی ہے ۔۔۔

ہمارے ایک اور دوست خواجہ صاحب پہ عید کے چاند کے اثرات تو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ اعلان کے ساتھ ہی آناً فاناً نمودار ہوتے ہیں۔۔۔ انکے اندر موجود بچہ کھلکھلا اٹھتا ہے اور وہ 50 کے پیٹے میں 10 سال والی چھلانگیں لگانے کی کوششیں کرتے پائے جاتے ہیں۔۔۔ بڑی دیر تک ہرآتے جاتے کو پکڑ کر چاند ہوجانے کی نوید دیتے ہیں اور مبارک کی رسید لیتے ہیں۔۔۔ انکے نزدیک یہ رویت ہلال کے حوالے سے خاصے کی چیز ہے۔۔ لیکن چاند نہ ہونا انکو خاصا رنجیدہ کردیتا ہے،۔ رات پڑنے تک تابش اور خواجہ کی معیت میں آسمان تلے چاند کو چوری کے مال کی طرح برآمد کرانے میں لگے رہتے ہیں۔۔۔ واپسی پہ قدم گویا اٹھتے ہی نہیں اور گھر پہنچنے تک تو دو چار جگہ لڑکھڑا بھی جاتے ہیں۔۔۔ چاند دیکھنے کے بعد بزرگوں کو سلام کرنا بھی انکی پرانی عادتوں میں سے ہے۔۔ سو دوچار گھروں کا چکر اب بھی لگالیتے ہیں ۔۔۔ اور اب بھی سلام کا باؤنسر ایسے اندازے سے پھینکتے ہیں کہ ایک ساتھ کئی جگہ وکٹیں اڑتی معلوم ہوں ۔۔۔

عید کے چاند کی دید ہمارے وطن میں ہمیشہ سے ہی بڑی تلاطم خیز رہی ہے،،،، 2-3 عیدیں منانا تو معمول بن چلا ہے۔۔۔ صوبہ پختونخواہ میں سے کچھ نے تو شاید چند بندے مستقلاً چاند پہ چھوڑے ہوئے ہیں جو حسب فرمائش اپنے قدموں کے نیچے پڑے چاند کو دیکھنے کی خبر زمین پہ بھیج دیتے ہیں۔۔۔ اس بار شاید یہ حضرات چھٹیوں پر گاؤں آئے ہوئے تھے اسلیئے بڑی چوک ہوگئی اور سارے ملک میں رمضان ایک ساتھ شروع ہوگیا ۔۔۔ پشاور کی ایک نہایت تاریخی مسجد کے ذرا کم تاریخی مفتی اس صورتحال پہ شاید کافی ملول ودلبرداشتہ ہو رہے ہوں ،،، یہی رہا تو جس اختلاف کی بدولت انکی فتووں کی دکان چلتی تھی، وہ تو پھر ٹھپ ہی ہوجائے گی،،، اس سبب میڈیا والے بھی پیچھے بھاگتے تھے لیکن اس اتفاق کے بعد تو میڈیا والے بھی اب انکو لفٹ نہیں کرارہے۔۔۔ ایسے میں گلشن کا کاروبار کیسے چلے گا۔۔۔ اگر ان چاند کے سیاحوں کو فوری واپس نہ بھیجا جاسکا تو خدشہ ہے کہ کہیں آئندہ رمضان اور عید بھی اسی طرح کےاتفاق کا شکار نہ ہوجائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *