کوئٹہ: اقلیتی رکن اسمبلی محافظ کے ہاتھوں قتل

handry massehکوئٹہ:نیشنل پارٹی کے رہنما اور بلوچستان اسمبلی کے اقلیتی رکن ہینڈری مسیح اپنے ہی محافظ کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔

ترجمان حکومت بلوچستان جان محمد بُلیدی کے مطابق ہینڈری مسیح کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں واقع ان کے گھر کے سامنے نشانہ بنایا گیا، انہیں زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

جو ابتدائی اطلاعات کے مطابق گزشتہ 15 سال سے مقتول رکن اسمبلی کے ساتھ تھا۔

بُلیدی نے کہا کہ ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے قیاس آرائیاں غلط ہیں تاہم پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزم کی گرفتاری کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے بلوچستان حکومت کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے فوری کارروائی کی ہدایت کر دی ہے۔

وزیراعظم نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہینڈری مسیح کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت بھی کیا۔

پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ ہینڈری مسیح پر حملے کی اطلاع ملتے ہی مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد اور نیشنل پارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعدادہسپتال پہنچ گئی ہے۔

یاد رہے کہ یہ کسی سیاستدان کے محافظ کے ہاتھوں مارے جانے کا پہلا واقعہ نہیں۔

اس سے قبل جنوری 2011 میں سابق گورنر پنجاب اور پیپلز پارٹی کے رہنما سلمان تاثیر کو اسلام کی کوشر مارکیٹ میں ان کے ہی محافظ نے گولیا مار کر ہلاک کردیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *