کمپیوٹرنے پہلی بارٹورِ نگ ٹیسٹ پاس کرکے خود کو انسان ثابت کر دیا!

eugene goostman jpgماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ’’سُپر کمپیوٹر‘‘ ضرب المثل کی حیثیت رکھنے والا ٹورِنگ ٹیسٹ (وہ ٹیسٹ جو یہ ثابت کرتا ہے کہ ایک کمپیوٹر کامیابی سے انسانی ذہانت کی نقل کر سکتا ہے۔) پاس کرکے انسان کو چکر دے کر یہ سوچنے پر مجبور کرنے والی پہلی مشین بن گیا ہے کہ وہ (سُپر کمپیو ٹر) ایک 13سالہ لڑکا ہے۔
وسطی لندن کی رائل سوسائٹی میں 5سُپر کمپیوٹروں کو آزمایا گیا۔ اس آزمائش یا امتحان کا مقصد یہ جاننا تھا آیا کہ یہ سُپر کمپیوٹرتحریر پر مبنی گفتگو کے دوران لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرکے بے وقوف بنا سکتے تھے کہ وہ ایک انسان ہیں یا وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔
یہ ٹیسٹ 1950ء میں کمپیوٹر سائنس کے بانیوں میں سے ایک، اور دوسری عالمی جنگ کا کوڈ توڑنے والے ایلن ٹورنگ نے تشکیل دیا تھا۔اس وقت ایلن ٹورنگ نے کہا تھا کہ اگر ایک مشین کو ایک انسان سے ممتاز کرنا ہو تو اس کے لئے کسوٹی صرف ’’سوچنا‘‘ ہی ہو سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف ریڈنگ نے کہا، اب سے پہلے کبھی کسی کمپیوٹر نے ٹورنگ ٹیسٹ پاس نہیں کیا تھا جس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ 5منٹ کی کی بورڈ کے ذریعے ہونے والی گفتگوؤں کے ایک سلسلے کے دوران سوال کرنے والے انسانوں میں سے 30فیصد کو چکر دے۔
یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ ایک کمپیوٹر پروگرام ’’یوجین گووسٹ مین‘‘ نے خود کو ایک 13سالہ لڑکا ظاہر کرتے ہوئے33فیصد ججوں قائل کر لیا کہ وہ ایک انسان ہے۔
ریڈنگ یونیورسٹی کے پروفیسر کیون واروِک کا کہنا ہے، ’’مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ٹورِنگ ٹیسٹ سے بڑھ کردیومالائی اور متنازعہ حیثیت رکھنے والا اور کوئی سنگ میل نہیں ہے۔‘‘
یہ کامیاب مشین روس میں پیدا ہونے والے ولادمیر ویسلوو جو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رہتے ہیں اور یوکرینی نژاد یوگنی ڈمکنکو جوروس میں رہتے ہیں، نے تخلیق کی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *