تعلیمی بحث

Afshan Huma

ہم نے پڑھنا لکھنا تو بہت پہلے ہی چھوڑ دیا تھا اب لگتا ہے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ میرے آس پاس بہت سارے تعلیم یافتہ افراد رہتے ہیں جن کی جانب میری نظریں اس امید سے اٹھتی ہیں کہ شاید ان میں سے کوئی ایسا ہو جو مجھ سے پالیسی پلاننگ، علم معاشیات اور تعلیم کے موضوع پر بات کرے، یا تعلیمی ذرائع اور ان میں پیدا کی جا سکنے والی تجدید پر اظہار خیال کرے۔ لیکن ان تمام تعلیم یافتہ افراد کا پہلا سوال مجھ سے یہ ہوتا ہے کہ ہماری ترقی کا کیا ہوا اور آجکل یہ بھی ہوتا ہے کہ کیا ہماری تنخواہوں میں اضافہ ہو گا یا نہیں۔ اس کے بعد گفتگو کا رخ پلٹ ہی جائے تو اگلا مسئلہ ہے کہ میرا بل ابھی تک آڈٹ میں پھنسا ہوا ہے۔ مین نے ایک دو بار کوشش کی کہ میں ان لوگوں کی توجہ ایجوکیشن پالیسی کے مسائل کی طرف مبزول کروائوں تو انہوں نے کافی سیر حاصل گفتگو فرمائی لیکن پالیسی پر نہیں بلکہ پالیسی کے بنا نے والوں پر۔ کیونکہ اس بار بھی انہیں اور ان کے دوست احباب کو کسی نے پالیسی ٹالک میں نہیں بلایا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ان تمام افراد کے بارے میں وہ حساب کتاب بیان کیا جوشاید فرشتے بھی نہ جانتے ہوں۔

میں نے ایک روز سوچا موضوع بدلنا چاہئے اور پوچھا کہ کانفرنسز میں جانا ہوتا ہے تو کیوں نہ ایک پینل بنا لیا جائے، جواب آیا نہ کریں جی اپنا اپنا پیپر بھجوانا چاہئے کانفرنسز میں کیونکہ ایک پیپر پر ایک ہی شخص کو سفر اور رہائش کی مالی امداد کی جاتی ہے۔ میں نے کہا چلیں کسی لوکل کانفرنس کے لئے ہی سہی، تو جواب مثبت ملا،اور فرمانے لگے آپ کچھ لکھیں تو ہم دیکھ لیں گے ویسے تو میرے طلبا یہ کام کر رہے ہیں۔ میں نے ایک دو بار کسی کتاب کا چیپٹر لکھنے کی بات کی کہنے لگے کیا فائدہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اسے پبلیکیشن ہی نہیں ماننا۔ اس سے تو بہتر ہے آپ بھی کسی امپیکٹ فیکٹر جرنل میں ہی پبلش کریں۔ میں نے سوچا چلو بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے، سو میں نے سوال کیا آپ کے کتنے پیپر پبلش ہو چکے ہیں، جواب آیا فی الحال تو کوئی نہیں، آپ کچھ لکھیں پھر مل کر پبلش کر لیتے ہیں۔

ایک مرتبہ میں نے تعلیمی نصاب پر بحث چھیڑنے کی بھی ناکام کوشش کی اس کے جواب میں مجھے بتلایا گیا کہ ہمارے ہاں کوئی نہیں جانتا کہ کریکلم، سلیبس، اور ٹیکسٹ بک میں کیا فرق ہے۔ میں نے استفسار کیا کہ چلیں یہی واضح کر لیتے ہیں تو کہنے لگے جی بس مغربی زبان کے الفاظ ہیں جس کا جہاں دل کرتا ہے وہ ویسے ہی استعمال کر لیتا ہے، مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ یہ تو بڑا بنیادی مسئلہ ہے آج اس پر بات ہو گی، لیکن اگلے ہی لمھے میری امیدوں کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے جب فیصلہ کن فقرہ سننے کو ملا اور وہ یہ تھا کہ ہمارے ہاں تو نصاب آج تک بنا ہی نہیں یہ تو فرنگی کا دیا ہوا نصاب ہے جو نسل در نصل ہم تک منتقل ہوتا رہا ہے۔ دل تو کیا کہ تمام نصابی کتب ان کے آگے ڈھیر کر دوں اور کہوں کہ ذرا اپنی بات کو ثابت تو کریں۔

 ایک روز میں نے اپنی سی آخری کوشش کر ڈالی اور پوچھا کہ کیا آپ کو نہیں لگتا ہمارے معاشی اور معاشرتی مسائل کا حل تعلیم میں ہے۔ ہم ابھی تک ان مسائل کا حل کیوں نہیں نکال پائَے ، اس سوال کے جواب میں مجھے یقین کامل تھا کہ سوائے تعلیمی بحث کے کچھ نہیں ہو سکتا، لیکن مجھے اپنی کم علمی پر افسوس ہے کیونکہ میرے سوال کا جواب انتہائی سادہ تھآ وہ یہ کہ ہمارے مذہب نے تو پہلے ہی ان تمام مسائل کا حل دے رکھا ہے۔ یہ تمام درد سر تو مغربی طرز تعلیم کی وجہ سے ہے۔ بات یہیں شروع ہوتی اور یہیں ختم ہو جاتی ہے۔ اس سے آگے تو بحث کی گنجائش ہی نہیں رہتی ۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *