رکن پارلیمان کو غلام کے طور پر دکھانے پر فرانسیسی میگزین پر تنقید

دائیں بازو کے ایک فرانسیسی میگزین کو بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی سوشلسٹ سیاہ فام خاتون رکن پارلیمان ڈینیئل اوبونو کو غلام کے طور پر دکھانے کے بعد سیاسی حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔

میگزین ویلیورز کے ایک مضمون میں افریقیوں پر دوسرے افریقیوں کی غلامی کے لیے سازش کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ رکن پارلیمان اوبونو کی تصویر شائع کی گئی جس میں ان کی گردن کے گرد لوہے کا کڑا دکھایا گیا ہے۔

وزیر اعظم جین کاسٹیکس کا کہنا ہے کہ یہ ایک 'نفرت آمیز اشاعت' ہے۔

میگزین نے اوبونو سے معذرت کی ہے تاہم اس بات سے انکار کیا ہے کہ یہ مضمون نسل پرستی پر مبنی ہے۔

اوبوبو فرانس کی قومی اسمبلی میں بائیں بازو کی جماعت فرانس ’ان باؤڈ‘ کی نمائندگی کرتی ہیں۔ وہ گیبون میں پیدا ہوئیں۔ وہ پیرس کے ایک حلقے سے رکن پارلیمان منتخب ہوئی تھیں۔

انھوں نے اس تصویر کو ان الفاظ کے ساتھ ٹویٹ کیا 'انتہائی دائیں بازو (کی سوچ والی)، قابل نفرت، احمقانہ اور ظالمانہ۔'

ان کا کہنا تھا 'یہ تصویر میرے آباؤ اجداد، میرے خاندان اور میری سیاسی جد و جہد کی توہین ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ 'نسل پرستی کے خلاف اور آزادی اور مساوات کے لیے ہمیشہ سے زیادہ پرعزم ہیں۔

صدارتی آفس کے ترجمان کے مطابق 'فرانس کے صدر ایمینوئل میخوان نے رکن پارلیمنٹ اوبونو کو فون کر کے ’کسی بھی قسم کی نسل پرستی کی شدید مذمت کی ہے۔‘

دائیں بازو کی جماعتی نیشنل ریلی کے ایک سینیئر رکن والرینڈ دی سینٹ جسٹ نے میگزین کی مذمت کی اور کہا کہ یہ تضحیک آمیز ہے۔

فرانس میں جون اور جولائی کہ دوران نو آبادیاتی دور کی غلامی اور نسل پرستی کے دور حاضر میں موجودگی کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے۔ یہ مظاہرے امریکہ میں جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ’بلیک لائف میٹرز‘ کی مہم سے متاثر ہو کر شروع کیے گئے۔

فرانسیسی صدر نے نسل پرستی کے خلاف جنگ کے اپنے عزم کا اعادہ کیا مگر انھوں نے کہا کہ فرانس نو آبادیاتی دور کے متنازع مجسموں کو نہیں ہٹائے گا۔

خیال رہے کہ امریکہ اور برطانیہ میں بھی ایسی شخصیات کے مجسموں کے خلاف مہم چلائی گئی ہے۔

میگزین کا کہنا ہے کہ اوبونو کو 18 ویں صدی کے ایک افسانوی کردار کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

'ہمارا مضمون نسل پرستانہ ہر گز نہیں ہے۔ ہمارے مخالفین کے لیے آسان تھا کہ وہ ہم پر الزام عائد کریں'۔

میگزین کے مطابق اس کردار سے ظالمانہ نظام کی ہی نشاندہی ہوتی ہے۔

'ہم سمجھتے ہیں کہ اس مضمون سے سب س زیادہ متاثر اوبونو ہوئی ہیں اور ان کو اس سے ذاتی طور پر رنج پہنچا ہے۔ ہمیں اس پر افسوس ہے اور ہم اس کے لیے ان سے معذرت خواہ ہیں۔'