شامی عوام کے ساتھ ساتھ صحافیوں کا قتل

muhammad attique
1992ء میں ادلب کے قصبے کفرانبل میں پیداہونے والے خالد العیسیٰ 24جون2016ء کو ترکی کے شہر انطاکیہ کے ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے ۔خالد العیسیٰ ایک آزاد شامی رپورٹر اورفوٹوگرافر تھے ۔خالد العیسیٰ اور ان کے صحافی ساتھی عبداللہ ہادی 17جون کواپنے گھر جارہے تھے تو ریمورٹ کنٹرول بم کے ذریعے دھماکہ ہوا جس میں خالدالعیسیٰ اوران کے ساتھی ہادی عبداللہ شدید زخمی ہوگئے۔امدادی کارکن مشعل کے مطابق یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب ہادی اور العیسیٰ اپنے گھر داخل ہورہے تھے ۔ العیسیٰ کاآدھا جسم دھماکے کے وقت باہر تھا جس کی وجہ سے ان کے سر پر چوٹ لگی اور ہادی ملبے تلے دب گئے ۔ امدادی کارکن نے 15منٹ کی کوشش کے بعد تاریں اور ملبہ کاٹ کر دونوں کو نکالا۔دیگرشامی میڈیا کے کارکنان نے العیسیٰ اور ہادی پر اس حملے کے متعلق کہتے ہوئے کہا کہ اسدی حکومت کی طرف سے صحافیوں کاقتل بدترین دہشت گردی ہے ۔العیسیٰ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے جبکہ ہادی ترکی کے شہرانطاکیہ کے ایک ہسپتال میں زیرعلاج ہیں ۔العیسیٰ پرحملہ کے متعلق سلیم سلمہ نامی ایک شامی فلسطینی بلاگر’جوکہ یرموک کے فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپ میں پلے بڑھے‘ نے بلاگ میں لکھتے ہوئے کہا کہ ’’خالد العیسیٰ کے بغیر شامی صدر بشارالاسد کے مظالم کی اندرونی اور سچی کہانیاں سامنے آنا ناممکن ساہے ‘‘۔سلیم سلمہ نے مزید لکھاکہ ’’شام نے ایک ایسا نوجوان کھودیا ہے جو اس کے لئے زندہ رہا ۔خالد کے بغیر شام کی خوبصورتی اور شامیوں کی بشارالاسدکے خلاف مزاحمت تک پہنچنا مشکل ہوگا۔‘‘العیسیٰ کو پچھلے پانچ سال میں جنگ زدہ علاقوں میں رپورٹنگ اور فوٹو گرافی کرنے کے دوران کئی بارحملوں کاسامنا کرنا پڑا جس میں انہیں زخم اور چوٹیں بھی آئیں ۔حملے والے ہفتے میں ان پر ایک دفعہ پہلے بھی فضائی حملہ کیا گیا تھا ہادی عبداللہ ایسوسی ایٹڈ پریس (AP)کو بتاتے ہیں کہ ’’اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے ہمیں موت سے بچالیا ‘‘ یہ واقعہ تب پیش آیاجب وہ فضائی حملے سے پہلے ہوئے حملے کی رپورٹنگ کرنے آئے تھے حملے میں ان کے سر پر زخم کی وجہ سے پانچ اور العیسیٰ کے زخم پر چار ٹانکے لگے۔العیسیٰ اورہادی جنگ زدہ علاقوں میں جہاں شدید ترین جنگ ہوتی وہاں کی رپورٹنگ کرنے پہنچ جاتے اور وہاں کی خبروں سے بیرونی دنیا کو مطلع کرتے ۔
شامی اتحادی میڈیا کی طرف سے خالدالعیسیٰ کی شہادت پر شدید مذمت و افسوس اور انہیں زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ’’ خالدالعیسیٰ نے اپنی زندگی اسدی اور اس کے حمایتیوں کے مظالم اورسچ کو دنیا کے سامنے لاتے ہوئے قربان کردی۔‘‘ جہاں انہیں بشار الاسد ،شیعہ ملیشیا اور روسی افواج سے خطرہ تھا وہیں ان کو شدت پسند تنظیم داعش جیسی تنظیموں سے بھی خطرہ تھا ۔عالمی ذرائع ابلاغ شامی میڈیا ایکٹیوٹس اور مانیٹرنگ گروپس کی جانب سے دی گئی خبروں پر انحصار کرتاہے کیونکہ 2011ء سے لے کر اب تک شام میں 94کے قریب صحافی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے کچھ بم باری میں جب کہ کچھ داعش جیسی دہشت گردی تنظیم نے قتل کئے تھے ۔صحافیوں کے تحفظ کے لئے بنائی گئی تنظیم کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق شام یمن اور عراق کے بعد صحافیوں کے لئے خطرناک ترین ملک بن چکا ہے ۔"Commttiee to Protect Journalists" کے مطابق 2011ء میں شام میں 2صحافیوں بسیل السید کو ان کے گھر اورفرضت جاربن کو القصیرمیں قتل کیا گیا جبکہ شام کا کمیٹی کی رپورٹ میں 11واں نمبر تھا جو کہ 2012ء میں 31صحافیوں کے قتل کے ساتھ شام کو 1 نمبر لے آیا ۔ 2013ء میں 29صحافیوں کو قتل کیا گیا،2014ء میں یہ تعداد 17رہی اور 2015ء میں14صحافی مختلف واقعات میں قتل کئے گئے ۔2016ء میں اب تک 3 صحافیوں کو قتل کیا جاچکا ہے جن میں خالد العیسیٰ اوراسامہ حلب میں جبکہ ماجد درانی درعا میں شہید ہوئے ۔
شام میں انسانیت سسک رہی ہے ۔انسان اپنی بقاء کی جنگ لڑرہاہے ۔شامی لوگوں پر انسانیت سوز مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ۔حلب میں حالات اس قدر خراب ہیں کہ وہاں کے لوگ درختوں کے پتے تک کھانے پر مجبور ہیں ۔اس داستان خونچکاں کو شامی عوام اپنے خون سے بھررہے ہیں ۔شام تاریخی اہمیت کا ملک بحیرہ روم کے مشرقی کنارے واقع ہے ۔اس کے مغرب میں لبنان،جنوب میں اردن ،مشرق میں عراق اور شمال میں ترکی ہے ۔تاریخی شہر دمشق صلاح الدین ایوبی ؒ کی سرکردگی میں لڑی جانے والی صلیبی جنگوں میں مسلمانوں کا مرکز رہا ۔حمص،طرطوس،سلامیہ اور حلب اس کے مشہور شہرہیں جبکہ یہاں کی زرعی پیداوار ،تیل ،گیس ،نمک ،لوہااور کرومائٹ جیسی دیگر معدنیات قابل ذکر ہیں ۔عرب سپرنگ کے اثرات کے تحت شامی عوام نے بشارالاسدکے خلاف 15مارچ 2011ء سے درعا میں مقامی سکول کی دیواروں پر انقلابی نعرے لکھ کر احتجاج شروع کیا۔ بشار الاسدجیسی آمریت کے ہرکارے اس بات کو ہضم نہ کرسکے اور نوجوانوں کو گرفتار کرکے شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا ۔جس پر درعا کی عوام نے اسدی حکومت کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جسے اسدی حکومت نے سختی سے کچلا ،کئی مظاہرین زخمی اور کئی مظاہرین مارے گئے ۔یہی وہ نقطہ آغاز تھا جس نے شام کو خانہ جنگی کی طر ف دھکیل دیا۔اسدی حکومت طاقت کے زور پر ماضی کی طرح مظاہرین پر کنٹرول کرنا چاہتی تھی لیکن 4ماہ کے عرصے میں ہی پورا شام مظاہروں کی لپیٹ میں آگیا جس پر اسدی حکومت مزید طاقت کا استعمال کرتی ،ہزاروں افراد کو اسدی حکومت نے پابندسلاسل کیا اورہزاروں افراد کوہی ناحق قتل کیا اورجوظلم کے پہاڑ توڑے گئے وہ ان سب سے الگ ہیں ۔ہرعمل کا ردعمل ہوتاہے کے طور پر مظاہرین نے بھی مسلح جدوجہد کا آغاز کردیایہ وہ نقطہ تھا جس نے شام میں خانہ جنگی کی بنیاد رکھ دی جو ہنوز جاری ہے۔اسدی حکومت کی ایما پر شامی افواج نے شامی عوام کے حقوق روندے اور ظلم وجبر کی نئی تاریخ رقم کی ۔حکومت مخالفین نے جلد ہی شام کے اہم شہروں اور علاقوں پر قبضہ کرلیا ۔ممکن تھا کہ جلد ہی بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوجاتا کہ اسلام مخالف سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم ’’داعش‘‘نے مبینہ طور پر اسدی حکومت کو بچانے کی خاطر شام میں مداخلت شروع کی ۔اقوام متحدہ کے مطابق اب تک ہلاک ہونے والے افراد کاتخمینہ 2,50,000لگایا ہے جبکہ شامی سیاسی تحقیقاتی مرکز نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ تعداد 4لاکھ 70ہزار سے متجاوزہونے کا انکشاف کیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق 5ملین سے زائد افراد نے ترکی ،لبنان،عراق،اردن اور مصر میں پناہ لے رکھی ہے۔رپورٹ کے مطابق شامی پناہ گزینوں کو سب سے زیادہ پناہ دینے والا ملک ترکی ہے جس نے 2.7ملین شامیوں کو پناہ دی ہوئی ہے ۔
شام میں اسلام کے نام پر اور حکمرانی کے شوق میں جو قتل ناحق کی طویل داستان رقم کی جارہی ہے اس کے لئے دفتروں کے دفتر درکار ہیں ۔اس قتل عام میں جہاں بشارالاسدی افواج ،شیعہ ملیشیا ،روسی فوج اور داعش جیسی تنظیمیں شریک ہیں وہیں وہاں پرمیڈیا کو اس قدر آزادی نہیں ہے،جنگ زدہ علاقوں میں جاکر خبریں نکالنا موت کے منہ میں جانے کی طرح ہے ۔بڑے افسوس کے ساتھ پاکستانی میڈیا میں اپنے اس صحافی دوست کی شہادت کے متعلق کوئی قابل ذکر رپورٹ توکجا شاید ہی کسی نے خبر چلائی ہو ۔کشمیر،فلسطین ،عراق ،شام ،افغانستان اور یمن سمیت دیگر مسلم ممالک میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت جنگ مسلط کی گئی کچھ علاقوں پراغیار کے قبضے کروا کر وہاں مسلسل مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی اورکچھ پر حملے کرکے وہاں کی دولت کو لوٹا گیا اور جو بچ گئے وہاں لسانیت ،فرقہ واریت اور دیگر خوش نما نعروں کی صورت میں خانہ جنگی کروائی گئی۔ان سب کا حل مسلم ممالک کے اتحاد میں ہے کیونکہ ان تمام مسائل میں نہ تواقوام متحدہ ہی کوئی کردار اداکررہی ہے اور نہ ہی بڑی بڑی طاقتیں ۔ہمیں اپنے مسائل کے حل کے لئے اغیار کی طرف دیکھنے کی پالیسی کو بدل کر اپنے کندھوں پرانحصار کرنا سیکھنا ہوگا ۔نہیں تو اس طرح کے کئی شام بن جائیں گے جہاں صحافیوں پر بھی ریموٹ کنٹرول بم حملے ہونگے اور وہ آزادی اظہار رائے کے عوض اپنی جان قربان کردیں گے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *