دیکھو تو سہی ایدھی کےغم میں یہ کون آنسو بہا رہا ہے

syed arif mustafa

بات صرف اتنی نہیں کہ عبدالستارایدھی رخصت ہوئے بلکہ زیادہ غم اس بات کا ہے کہ ملک کا سب سے قابل بھروسہ فرد چلا گیا کہ جس پہ ہرمذہب و مسلک کا ، ہر رنگ و نسل کا اور ہر زبان و بولی بولنے والےکا اٹوٹ اعتماد تھا - جن پہ سب آنکھ بند کرکے بھروسہ کرسکتے ہیں - کتنے ہی لوگوں نے اپنی جائیدادیں انکو عطیہ کردیں ،،، عورتوں نے زیور اتار کے انکی عظیم فلاحی خدمات کے اعتراف میں نذر کیئے حتیٰ کے غریب غرباء نے بھی اکثر اپنی جیبیں جھاڑ دیں- لیکن ہر معاشرے میں پھر بھی چند لوگ یا گروہ اتنے زہرناک ہوتے ہی ہیں کہ اپنا پرچم لہرانے کے لیئے عظمت کے ہرمنارے کو گرانے کے مواقع ڈھونڈھتے ہیں - کچھ ایسا ہی معاملہ ایم کیوایم کا ایدھی صاحب کے ساتھ بھی تھا ۔۔۔ آج ایدھی کے غم میں متحدہ کے فاروق ستار نڈھال ہوئے جارہے ہیں جبکہ ایک طویل عرصے تک یہ حال تھا (بلکہ کسی حد تک ابھی بھی ہے) کہ انکی جماعت نے ایدھی صاحب کو نڈھال کرنے اور انکے ادارے کو کنگال کرنے میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی اس تنظیم نے نیکی کے اس فرشتے کو تنگ کرنے اور ستانے میں گراوٹ اور پستی کی سبھی حدیں عبور کیں اور بار بار کیں ۔۔ لیکن یہاں کے صحافی ، پریس کلب والے اور تمام صحافتی انجمنیں متحدہ کے سامنے سرنگوں ہوگئیں ۔۔۔ نہ کسی کو سچ لکھنے کا یارا تھا نہ حق گوئی کی سکت اور عالم یہ تھا کہ اپنے کالموں میں امریکہ و روس کی دھجیاں بکھیرنے والے ایک یونٹ انچارج کی جنبش ابرو پہ بھی غلامانہ دوڑ پڑے تھے

ایم کیوایم سے میری دوری کی جو چند وجوہات سبب بنیں ان میں سے نمایاں تر وجہ بھی یہی تھی کہ 1990 کی بقرعید کے دن 'حق پرستوں' نے گلشن اقبال بلاک نمبر 2 میں میری گلی کے نکڑ پہ ایدھی ٹرسٹ کی کھالوں سے بھری سوزوکی اسلحہ کے بل پہ چھینی تھی اور وہاں بنے کیمپ میں سب کھالیں پلٹ دی تھیں اور جب میرا گزر وہاں سے ہوا تو اپنے اس کارنامے پہ مظلوموں کے ساتھی کے جانثاروں کا زبردست جشن مسرت اور رقص انبساط جاری تھا - مزید تفصیل یہ معلوم ہوئی کہ قریب ہی ایک اور کیمپ پہ بھی ایدھی کی ایک کھالوں سے لدی سوزوکی اس طرح جھپٹی گئی ہے اور وہاں بھی اس فتح عظیم پہ مردانگی کا ڈھول بجایا جارہا ہے ۔۔۔ان دنوں عالم یہ تھا کہ ایم کیوایم کی سیاسی حمایت کے باوجود اہل کراچی کی عظیم اکثریت عبدالستار ایدھی کے ادارے کو قربانی کی کھالیں دیا کرتی تھی اور والد تحریک کو یہ کسی صورت منظور نہ تھا -بس اس کے بعد سے ایدھی صاحب کے لیئے وہ دور ابتلاء آیا کہ ٹرسٹ کو چلانا دشوار ہوگیا ۔۔۔ شہریوں سے زبردستی کھالیں 'شکریہ' کی پرچی کے ساتھ وصولی جانے لگیں اور ایدھی ٹرسٹ کی کھالوں والی گاڑیاں اغوا کیا جانا معمول بن گیا پھر خوفزدہ کرنے کے لیئے انکے ڈرائیوروں کو مارا پیٹا جانے لگا اور انکی ایمبولینسوں کو توڑنے پھوڑنے کی پراسرار وارداتیں ظہور پزیر ہونے لگیں

نوبت یہ آئی کہ ایدھی صاحب بلاخر 'مرتا کیا نہ کرتا ' کے مصداق پرنم آنکھوں سے یہ کہنے پہ مجبور ہوگئے کہ وہ پاکستان چھوڑ رہے ہیں ۔۔۔ کیونکہ یہاں 'چند لوگ ' انکی جان کے دشمن بن گئے ہیں اور کام کرنا ناممکن ہوگیا ہے ۔۔۔ حالانکہ وہ بہت محتاط شخص تھے اور کبھی کسی متنازع معاملے کا مرکز بننا پسند نہ کرتے تھے - انکے اس بیان سے سارے ملک میں کھلبلی مچ گئی اور طاقتور ادارے یک دم حرکت میں آگئے اور قوم کے اس مسیحا کو اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا -اس بھونچال کو دیکھتے ہوئے متحدہ نے بظاہر تو کان لپیٹ لیئے لیکن عملی طور پہ اردو اسپیکنگ علاقوں کے رہائشیوں کو ( جو کہ کراچی کی بہت بڑی اکثریت ہیں) بے حد خوفزدہ کرکے انہیں اپنے سوا کسی اور کو کھال نہ دینے ورنہ اپنے جسم کی کھال دینے جیسے ڈراؤوں کے جال میں جکڑ لیا - پھر صورتحال اتنی بگڑی کہ کراچی والے پیر سمیٹ کر بیٹھ گئے اور وہ ایدھی فاؤنڈیشن کہ جسکی آمدنی کا بہت بڑا انحصار کراچی پہ تھا بدترین مالی بحران سے دوچار ہوگئی ۔۔۔ دو ہزار کے لگ بھگ ایمبولینسوں کا دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک چلانے والا انکا ادارہ نہایت مفلوک الحال ہوگیا- لیکن ایسے میں پردہء غیب سے ایدھی کے ادارے کی مدد کا خاص اہتمام ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اک بڑی تعداد ایدھی ٹرسٹ کی پشتیبان بن کے سامنے آئی اور ایدھی فاؤنڈیشن کو لگتے تالے پھر کھل گئے- لیکن آج فاروق ستار صاحب کو جب میڈیا کے سامنے سوگواری سے لبریز فقرے کہتے پایا تو جی چاہا کہ کہوں کہ 'جناب ، اب اس قسم کے بھاشنوں سے قوم کو مزید الو نہ بنائیئے ۔۔۔ جائیئے اس آنکھ بند کیئے مسیحا کے پیروں سے لپٹ جائیئے یا بلقیس ایدھی کے سامنے ہاتھ جوڑیئے اور ندامت و معافی کے آنسو بہائیئے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *