آنکھوں والو ، آنکھیں کھولو!

 

ata ul haq qasmi

ماہرین چشم کے مطابق ہرانسانی آنکھ میں ایک ’’بلائنڈ‘‘ سپاٹ ہوتا ہے۔ چنانچہ آنکھ کے اتنے حصے کے سامنے کا منظرآنکھ والوں کوبھی نظر نہیں آتا، اس کامشاہدہ ماچس کی ایک تیلی سے بھی کیا جاسکتا ہے، آپ یہ تیلی کسی کی آنکھ کے سامنے آہستہ آہستہ گھمائیں تو اس تیلی کا ایک گوشہ ضرور ایساہوگا جسے آنکھ والا نہیں دیکھ سکے گا، یہ عجیب و غریب بات بہت عرصہ پہلے میں نے کہیں پڑھی تھی اور اس کے بعد سے بہت شرمندہ پھرتا ہوں۔ میرا خیال تھا میں آنکھوں والا ہوں اور یوں سب کچھ دیکھ سکتا ہوں مگر پتا چلا کہ اس کائنات کو توچھوڑیں، میں دو فٹ کے فاصلے پر دھری چیزوں کو بھی پوری طرح دیکھ سکنے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ مجھے ان کی ’’دیدہ وری‘‘ پر رشک آنا شروع ہوگیا ہے جو خدا کو اس لیے نہیں مانتے کہ خدا انہیں نظر نہیں آتا! شاید انہیں یقین ہے کہ ان کی آنکھ میں کوئی بلائنڈ سپاٹ نہیں ہے۔ مجھے تو اب ان تمام لوگوں پر حیرت ہونے لگی ہے جو اپنی آنکھ پر اعتبار کرتے ہیں اور دکھائی دینے والے منظر کو اتنا حتمی اور مکمل تصور کرتے ہیں کہ اس کے کسی ادھورے پن پر بات تک کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اب مجھےعدم کا یہ شعر پہلے سے کہیں زیادہ اچھا لگنے لگا ہے؎
وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں
سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں
شاید اس لیے کہ یہ پرندے اپنی آنکھ میں بلائنڈ سپاٹ کی موجودگی کے قائل نہیں ہوتے۔ دنیا کی تاریخ میں ایسے فضائی اور زمینی حادثوں کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جن کی بظاہر کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی لیکن اگر سامنے سے آنے والی بلا آنکھوں سے اوجھل ہو جائے تو حادثوں پر حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ 1971ء میں ہمارے ساتھ یہی ہوا اور اب ایک دفعہ پھر یہ کہانی دہرانے کی کوشش کی جارہی ہے بعض اوقات سیاسی حادثوں کو بھی بلائنڈ سپاٹ کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ اس کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ ہوس اقتدار میں اندھا ہو جانے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا بلائنڈ سپاٹ والا نظریہ میرے دل کو اس لیے بھی بھاتا ہے کہ اس کے بہت سے شواہد عام زندگی میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ہماری کچھ سیاسی جماعتوں کی آنکھوں میں بھی بلائنڈ سپاٹ ہے ان کو بہت کچھ نظر آتا ہے صرف وہ نظر نہیں آتا جو اس سپاٹ کی زد میں آجاتا ہے، ہمارا ماضی کا لیفٹ اور رائٹ بھی اس عارضے کا شکار تھا رائٹ والے بھٹو کے خلاف لڑتے رہے لیکن انہیں ہنری کسنجر کی یہ دھمکی نظر نہ آئی کہ ہم اس شخص کو دنیا کے لیے عبرتناک نمونہ بنائیں گے۔ جب ضیاء الحق اور پاک فوج کے جرنیلوں کی ایک بڑی تعداد کو ہوا میں بلاسٹ کردیا گیا تو لیفٹ والوں نے خوشی سے بھنگڑے ڈالے۔ انہیں اپنے بلائنڈ سپاٹ کی وجہ سے اس سزا کے اصل محرکات دکھائی نہ دیے۔ بے نظیر کو 1990ء میں اقتدار سے الگ کیا گیا تو یہ ناانصافی ان کے مخالفوں کو نظر نہ آئی اور نیو ورلڈ آرڈر کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نوازشریف کو جس طرح وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا وہ نوازشریف کے مخالفین اپنے بلائنڈ سپاٹ کی وجہ سے نظرانداز کر گئے یہ بلائنڈ سپاٹ ہمیں جگہ جگہ دھوکہ دیتا ہے۔ ذاتی سطح پر بھی معاشی اور معاشرتی سطح پر بھی روحانی اور رومانی سطح پر بھی اور ملی اور قومی سطح پر بھی اب تو مجھے کچھ یوں لگنے لگا ہے کہ ہم خود کو دھوکہ دینے اور دوسروں سے دھوکہ کھانے کے کچھ عادی سے ہو چکے ہیں؎
کج شہر دے لوک وی ظالم سن
کج سانوں مرن دا شوق وی سی
کچھ دھوکے معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں جو برداشت کئے جاسکتے ہیں مثلاً ہر آنکھ میں بلائنڈ سپاٹ کی موجودگی کے باوجود نظر کا صرف ایک حصہ ہماری نظروں سے اوجھل ہوتا ہے جبکہ ہمارا معاملہ اس سے بہت مختلف ہے۔ اگر ہماری آنکھوں میں بھی معمولی سا بلائنڈ سپاٹ ہوتا تو جہاں ساری دنیا کا نظام چل رہا ہے وہاں ہمارا نظام بھی چلتا رہتا لیکن قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری آنکھوں میں کالا موتیا اتر آیا ہے اور ہم اس سے بے خبر یا پھر بے نیاز ہیں۔ ہم نے تو سوچا تھا کہ ہم ساری دنیا کو دیدہ بینا عطا کریں گے یہ ہمارے ساتھ کیا ہوگیا؎
ہم نے پھولوں کی آرزو کی تھی
آنکھ میں موتیا اتر آیا
موتیے کے پھول کی بجائے کالا موتیا ہمارا مقدر کیوں بنا، اب ہمارے درمیان اس مسئلے پر سنجیدگی سے سوچنے والے بھی شاید بہت کم رہ گئے ہیں۔ کہیں آنکھوں کے علاوہ ہمارے ذہنوں میں بھی بلائنڈ سپاٹ آنا تو شروع نہیں ہوگئے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *