دی گاڈ پارٹیکل

yasir pirzada

سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا کے نزدیک Conseil Europeen Pour la Recherche Nucleaireنامی ایک ادارہ ہے جسے عرف عام میں CERNکہتے ہیں، انگریزی میں یہ European Council for Nuclear Research کہلاتا ہے ،یہ ادارہ 1954میں قائم کیا گیا ، بیس ممالک اس کے رکن ہیں اور دنیا بھرکی 500جامعات سےتعلق رکھنے والے لگ بھر 7800سائنس دان اس ادارے میں کل یا جز وقتی کام کرتے ہیں ۔ یہاں Large Hadron Colliderنامی وہ جناتی مشین موجود ہے جو27کلومیٹر طویل سرنگ کی شکل میں سوئٹزرلینڈ اور فرانس کی سرحد کے نیچے واقع ہے اور جسے بنانے میں قریبا ً دس ارب ڈالر لاگت آئی تھی ۔ آج سے ٹھیک چار برس پہلے 4جولائی2012کو اِس مشین میں ایک عظیم الشان تجربہ کیا گیا جس میں چند ذرات کو روشنی کی رفتار سے آپس میں ٹکرا کر یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آیا Higgs Bosonنامی ذرہ جسےGod Particle بھی کہتے ہیں حقیقت میں کوئی وجود رکھتا ہے یا نہیں ۔ تجربے سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ہگز بوسن واقعی وجود رکھتا ہے مگر اسے ’’ڈھونڈنا ‘ ‘ بے حد مشکل کا م ہے کیونکہ یہ ایک سیکنڈ کے کھربویں حصے کے لئے ’’ظاہر ‘ ‘ ہوتا ہے اور کا حجم اس قدر کم ہے کہ اسے ’’پیدا ‘ ‘ کرنے کے لئے بہت زیادہ توانائی درکار ہے جو صرف LHCمشین میں ہی ممکن بنائی جا سکی۔ اس ذرے کی دریافت یقینا ًاس صدی کا ایک بڑا واقعہ تھا جنہوں نے سائنس دانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیااور اس کی وجہ بہت دلچسپ بھی تھی اور خطرناک بھی !
یہ کائنات جتنی حسین ہے اتنی ہی پراسرار ، اربوں نوری سال کے فاصلے پر ستارے ، کروڑوں کہکشائیں ، ملکی وے اور ہماری زمین جیسی نہ جانے کتنی دنیائیں ! شاید اسی لئے قرآن میں ’’رب المشرقين ورب المغربين ‘ ‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ اس کائنات کے لا متناہی مشرق اور لا محدود مغرب ہیں ۔ انسان کی اوقات تو خیر پہاڑ پر رینگتی چیونٹی کے برابر بھی نہیں البتہ ایک سوال جو دماغ میں کلبلاتا ہے کہ جس دنیا میں ہم زندہ ہیں یہ ایسی کیوں ہے ؟ یہاں زندگی کا وجود کیسے ہے ؟ کیا تھا اگر کچھ بھی نہ ہوتا ، یہ سب کچھ اگر ہے تو کیوں کر ہے ؟ سائنس دان ان سوالوں کے جواب کی تلاش میں ہیں ، ممکن ہے آج سے سو ، دو سو یا ہزار برس بعد انسان ان سوالات کا جواب تلاش کرلے ، تا حال CERNمیں ہونے والے تجربے کے بعد سائنس دانوں کے سامنے دو عجیب و غریب حقائق سامنے آئے ہیں جنہوں نے کائنات کی پیدائش کے سوال کو بظاہر مزید پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ہگز بوسن کی دریافت کے بعد پتہ چلا کہ دیگر طبعی ذرات کی طرح ہگز بوسن کی بھی ایک قسم کی مقناطیسی کشش ہوتی ہے ، مگر فرق یہ ہے کہ ہگز بوسن کی قوت اُن بنیادی ذرات کا حجم تشکیل دیتی ہے جن سے ہم سب تخلیق کئے گئے ہیں ، یہ کائنات پیدا کی گئی ہے ۔ اگر ہگز بوسن کی یہ قوت نہ ہو تی تو کوئی ایٹم ہوتے ، کوئی ذرات ہوتے اور نہ ہم ہوتے ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہگز بوسن کی یہ کشش یا قوت اس قدر خفیف ہےکہ اسے محسوس ہی نہیں کیا جا سکتا ، لیکن اس ’’خدائی ذرے ‘ ‘کی سب سے پراسرار بات یہ ہے کہ قدرتی طور پر اس کی دو قسم کی ترتیب ہے ، آن اور آف، اگر یہ آف ہو تو کائنات بھر میں اس کی ویلیو صفر ہوگی اور اگر یہ آن ہو تو اس کی ویلیو غیر معمولی طور پر زیادہ ہوگی ، ان میں سے اگر ایک بھی صورت ہوتی تو ایٹم کی پیدائش ممکن نہ ہوتی اور یوں ہمیں اپنے سمیت ارد گرد زندگی کے جومظاہر دکھائی دیتے ہیں وہ کبھی وجود ہی نہ رکھتے ۔ حقیقت میں اس وقت ہگز بوسن کی ویلیو آن تو ہے مگر صفر سے اس قدر قریب ہے کہ اپنی پوری ویلیو سے دس ہزار کھرب گنا کم ہے ، اگر یہ ویلیو ذرا بھی مختلف ہو تو ہم ہوتے اور نہ ہماری دنیا۔ سائنس دان سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ اِس بات کی وجہ جان سکیں کہ ہگز بوسن کی ویلیو بالکل اُتنی کیوں اورکیسے ہوئی جس کے نتیجے میں زندگی اور کائنات کا وجود ممکن ہوا۔ تا حا ل اس راز سے پردہ نہیں اٹھ سکا !
دوسری پراسرار بات اس کائنات کا پھیلاؤ ہے ، ہر گزرتے لمحے کے ساتھ یہ کائنات نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ اس کے پھیلاؤ کی رفتار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ وہ پراسرا ر قوت دافعہ ہے جسےDark Energyکہا جاتا ہے ۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ تاریک توانائی کیا بلا ہے ، سائنس دان اسے خلاء کی قوت کہتے ہیں ، سائنس دانوں نے جب اس قوت کا خلاء سے اندازہ لگانے کی کوشش کی تو نتیجے میں جو عدد سامنے آیا وہ ایک کے بعد120صفروں پر مشتمل تھا ، یہ عدد اتنا بڑا تھا کہ خلاءباز چکرا کر رہ گئے ، یوں سمجھیے کہ یہ علم فلکیات کا اب تک کا سب سے بڑا عدد تھا ، کائنات کے تمام ایٹموں سے ایک ہزار کھرب ہا کھرب ہا کھرب گنا زیادہ !بے شک یہ عجیب و غریب بات تھی مگر زیادہ پراسرا ربات یہ تھی کہ اگر تاریک توانائی حقیقت میں اتنی ہی قوت رکھتی تو یہ کائنات اپنا وجود برقرار نہ رکھ پاتی اور ہم بھی کہیں نہ ہوتے ۔ سائنس دان یہ معمہ نہیں سمجھ پائے ہیں اور یوں ہگز بوسن کی ویلیو کے بعد اسے طبیعات کا دوسرا خطرناک ترین عدد کہا جارہا ہے !
ایسا نہیں ہے کہ ماہر طبیعات نے ہار مان لی ہے ، ان چکرا دینے والے انکشافات نے انہیں مزید پر تجسس بنا دیا ہے ، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انسان اب کائنات کا راز جاننے کے قریب ہے جبکہ باقیوں کے خیال میں ہنوز دلی دور است۔ گاڈ پارٹیکل اور ڈارک انرجی کے خوفناک اعداد کی توجیہہ کچھ سائنس دانوں نے متعدد کائنات کا نظریہ پیش کرکے دینے کی کوشش کی ہے جسے Multiverseبھی کہتے ہیں ، اُن کا خیال ہے کہ ممکن ہے ہماری کائنات کے باہر بھی سینکڑوں کائنات ہوں جن میں ہگز بوسن اور ڈارک انرجی کی ویلیوز ایسی ہوں جن میں کسی قسم کا ایٹم کوئی وجود نہ رکھ سکتا ہو اور یوں ہم ایسی کائنات میں جی رہے ہیں جہاں یہ دونوں عدد اور اِن کا باہم امتزاج پرفیکٹ ہے جس وجہ سے اس کائنات میں ہم زندگی اور فطرت کے تمام مظاہر دیکھ رہے ہیں ، اگر ہمار ی کائنات میں بھی یہ اعداد مختلف ہوتے تو ہمارا کہیں وجود نہ ہوتا اور ہماری کائنات بھی ہزاروں ’’بیکار ‘ ‘ کائنات میں سے ایک ہوتی!یہ ایک نہ سمجھنے والی تھیوری ہے جس کا فی الحال کوئی ثبوت نہیں ، تاہم ایسا بھی نہیں کہ یہ بات بالکل ہی بے سروپا ہو، اگر اربوں ستارے ہوسکتے ہیں ، کھربوں سیارے ہو سکتے ہیں ، کروڑوں کہکشائیں ہو سکتی ہیں تو ایک سے زیادہ کائنات بھی ہوسکتی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ انسان کیا کبھی اس مقام تک پہنچ پائے گا جب وہ سائنس کی مدد سے اِن تمام گتھیوں کو سلجھا پائے گا ، ہماری زندگیوں میں تو یہ ممکن نہیں لگتا ، شاید ہمارے بعد کے سائنس دان یہ سراغ لگانے میں کامیاب ہو جائیں ۔ ہیری کلف نامی نوجوان ماہر طبیعات ، جوCERNمیں ہونے والے اس عظیم الشان تجربے کی ٹیم کا حصہ تھا اور جس نے یہ ہگز بوسن اور ڈارک انرجی کے خوفناک اعداد پر تحقیق کی ہے ، کا ماننا ہے کہ فزکس اب ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہی ہے ، اس موسم گرما میں CERNمیں ایک نیا تجربہ کیا جائے اور اب کی مرتبہ اس میں پہلے سے دگنی توانائی استعمال کی جائے گی ، ممکن ہے اس تجربے کے نتیجے میں ہگز بوسن کی طرح کوئی ایسی غیر متوقع دریافت ہو جائے جس سے کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھایا جاسکے ۔
کالم کی دُم: عید کی نماز بادشاہی مسجد لاہور میں ادا کی ، یوں کہئے کہ بھکاریوں کے گھیرے میں پڑھی ۔ گڈگورننس کا حال یہ تھا کہ امام صاحب نے جونہی سلام پھیرا ، گداگروں نے وہیں مسجد کے احاطے میں بھیک مانگنی شروع کردی ، باہر کا حال تو بیان سے ہی باہر ہے۔ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *