ایک اور مصنوعی سیاسی بحران‎

imad zafar

وزیر اعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے ساتھ ہی ملک کے سیاسی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے. دارلحکومت اسلام آباد کے باخبر حلقوں کے مطابق نواز شریف کو اب کی بار 2014 کے دھرنہ سازش سے بڑی سازش کا سامنا کرنا پڑے گا.اور شدید دباؤ کا سامنا ہو گا. نواز شریف یہ دباؤ برداشت کر پائیں گے یا نہیں یہ ایک اہم سوال ہے. پیراشوٹ کے ذریعے اینکرز یا صحافی بننے والے حضرات جو نواز شریف کے مزاج سے بالکل واقف نہیں وہ ہمیشہ کی طرح پھر سے حکومت کے جانے کی تاریخیں دینا شروع ہو چکے ہیں. حالانکہ 2014 میں بھی نواز شریف نے تمام تر دباؤ کو قبول کرتے ہوئے نہ صرف مستعفی ہونے سے انکار کیا تھا بلکہ اس زیادہ بحران سے فاتح بن کر نکلے تھے. نواز شریف عمران خان کی طرح بڑی بڑی بڑھکیں نہیں مارتے لیکن سیاست کی فہم رکھتے ہیں اور ان کو جاننے والے باآسانی یہ کہ سکتے ہیں کہ وہ کسی بھی دباؤ یا صورتحال میں استعفی نہیں دیں گے.  پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا گٹھ جوڑ کروانے والی پس پشت قوتیں یہ بات نجوبی جانتی ہیں کہ نواز شریف کو ہٹانے کیلئے ماروائے آئین اقدام کے سوا کوئی اور دوسرا راستہ باقی نہیں بچتا. کیونکہ پیپلز پارٹی پنجاب میں سٹریٹ پاور کھو چکی ہے عمران خان کی سٹریٹ پاور خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے کچھ شہروں تک محدود ہے.ایسے میں عوام کا جم غفیر احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکالنا ہرگز ممکن نظر نہیں آتا. انقلابی چورن بیچنے والے طائر القادری کو بھی پاکستان اسی لیئے طلب کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مریدوں کو اختجاج کیلئے باہر نکال سکیں. یعنی 2014 کی سازشی ٹیم پھر متحد ہو چکی ہے لیکن اس میں اضافہ پیپلز پارٹی کی صورت میں ہوا ہے.غالبا پیپلز پارٹی کو یہ اندازہ بخوبی ہو چکا ہے کہ نواز شریف حکومت اقتدار کی مدت پوری کر گئی تو 2018 میں اس جماعت کو انتخابات میں نہیں ہرایا جا سکے گا. دوسری جانب دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ بھی اس امر سے نجوبی واقف ہے اس لیئے کسی بھی قیمت پر نواز شریف کو اقتدار سے ہٹانا چاہتی ہے. لیکن اس کیلئے ایک ایسی عوامی تحریک  کا ہونا ازحد ضروری ہے جو پینجاب سے شروع ہو اور ملک کے چپے چپے تک پھیل جائے . اگر زمینی حقائق دیکھے جائیں تو پنجاب پر شریف برادران کی گرفت مضبوط ہے اور پنجاب کی عوام شریف برادران کے خلاف کسی احتجاجی موڈ میں نظر نہیں آتی. اسی طرح بلوچستان میں قوم پرست جماعتوں کی سپورٹ کی وجہ سے شریف برادران کو بلوچستان سے بھی کسی قسم کے احتجاج کا خطرہ نہیں.متحدہ قومی مومنٹ کراچی آپریشن اور لندن میں جناب الطاف حسین پر مقدمات کی وجہ سے پہلے سے ہی دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ سے ناراض ہے اس لیئے کراچی سے بھی شریف برادران کو کسی خاص مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا. ان زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی بڑی عوامی احتجاجی تحریک کا شروع ہونا قریبا ناممکن دکھائی دیتا ہے. لیکن 2014 کے دھرنوں سے ایک سبق تھا جو سب نے سیکھا کہ اگر ایسٹیبلیشمنٹ کی پشت پناہی حاصل ہو تو چند ہزار افراد کا جتھہ بھی دارلحکومت کو یرغمال بنا کر حکومت کو مفلوج کر سکتا ہے. پارلیمان اور ریاستی اداروں پر چڑھائی کر سکتا ہے اور شہر کے شہر بند کروا سکتا ہے .یہ وہ نقطہ یا تلخ حقیقت ہے جس سے اب شریف برادران کو نبٹنا ہو گا. اور اطلاعات کے مطابق شریف برادران اور ان کی جماعت اس بار کسی بھی ایسے دھرنوں یا احتجاج کو خاموشی سے برداشت کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے. یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف سے لیکر بوٹ پالش اینکرز اور تجزیہ نگار سب کی امیدوں کا مرکز ایک بار پھر راحیل شریف ہیں . سب کی امید ہے کہ احتجاج کی صورت میں اس دفع راحیل شریف نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے آور ایک قومی حکومت بنا کر تمام سیاسی یتیموں کو حکومت میں کچھ نہ کچھ حصہ ضرور دے دیں گے.یہی وجہ ہے کہ آج کل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کے مدعے کو ایک بار جان بوجھ کر اچھالا جا رہا ہے اور یہ افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ نواز شریف  کو چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے راحیل  شریف کو مدت ملازمت میں توسیع دینی ہی پڑے گی. ان افواہوں میں کتنا دم ہے یا یہ کتنی سچی ہیں اس کا اندازہ اگلے ایک ماہ تک ہو جائے گا.  دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ اور نواز شریف کے درمیان دوریاں یقینا اپنی جگہ پر موجود ہیں لیکن  اہسٹیبلیشمنٹ اس وقت براہ راست کسی بھی قسم کا کوئی ماورائے آئین اقدام اٹھانے سے قاصر ہے. جس کی بڑی وجہ عالمی حالات اور امداد میں ملنے والی دفاعی ضروریات کی وہ خطیر رقم ہے جو جمہوریت سے مشروط ہے. یعنی بالفرض مان بھی لیا جائے کہ واقعی میں راحیل شریف اور دیگر افسران کو مدت ملازمت میں توسیع درکار ہے اور یہ بحران پیدا کر کے وہ توسیع حاصل کر بھی لیتے ہیں تو بھی عمران خان طاہر القادری یا پیپلز پارٹی کا نواز شریف کو وزارت عظمی کے منصب سے ہٹانے کا خواب پورا نہیں ہو سکتا. پیپلز پارٹی ویسے بھی ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھے گی کیونکہ بہر حال پیپلز پارٹی کو نہ تو عام انتخابات کا کوئی سیاسی فائدہ ہے اور نہ ہی کسی ماورائے آئین اقدام کا. سیاسی منظرنامے پر اس مصنوعی بحران سے زیادہ سے زیادہ نواز شریف کی پوزیشن کو کمزور کیا جا سکتا ہے جو کہ صرف اور صرف پس پشت قوتوں کے مفاد میں ہے نہ کہ کسی سیاسی قوت کے.  اس کا مطلب یہ ہوا کہ خود اپوزیشن بھی یہ حقیقت جانتی ہے کہ  مطلوبہ نتائج اپنی خواہشات کے مطابق حاصل نہیں کیئے جا سکتے. البتہ دنگے فسادات کراو کر اور احتجاج میں لاشیں گروا کر ایسٹیبلیشمنٹ کی منتیں کی جا سکتی ہیں اور عالمی برادری کو تاثر دیا جا سکتا ہے کہ رائے عامہ شریف برادران کے خلاف ہے. یہ وہ واحد آپشن ہے جو عمران خان کو بے حد سوٹ کرتا ہے .اس ضمن میں شریف برادران اور ان کی جماعت کے صبر کا امتحان پھر شروع ہونے والا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ کس حد تک صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے حکمران جماعت ٹکراو کی سیاست سے بچتے ہوئے ان سیاسی مہروں کو لاشوں کی سیاست سے روکنے پاتی ہے. مولانا فضل الرحمان اس وقت نواز شریف کیلیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جو خیبر پختونخواہ کے متوقع احتجاجی حملے کو روکنے کے علاوہ جماعت اسلامی کو بھی اس احتجاج سے باہر رہنے پر آمادہ کر سکتے ہیں.  اسی طرح اگر ایم کیو ایم سے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر سیاسی مفاہمت کی جائے تو ایم کیو ایم کراچی اور حیدر آباد میں پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دے کر پیپلز پارٹی کے احتجاج کو بھی کمزور بنا سکتے ہیں. ابھی تک شریف برادران نے اپنے سیاسی کارڈز مہارت سے استعمال کیئے ہیں اور قسمت نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا ہے لیکن شریف برادران کو بھی یہ بات اب سمجھنا ہو گی کہ پس پشت قوتوں اور ان کے مہروں کے ساتھ بلی چوہے کا یہ کھیل آخر کب تک جاری رہ سکتا ہے.ایک نہ ایک دن اس کا فیصلہ ضرور ہونا ہے تو کیوں نہ پس پشت قوتوں کے اس کھیل کو ختم کرنے کیلئے گورننس کو مزید بہتر کیا جائے . جمہوریت کا حسن عوام کی خدمت میں پوشیدہ ہوتا ہے جوں جوں گورننس بہتر ہوتی ہے جمہوریت اتنا ہی مضبوط اور توانا ہوتی چلی جاتی ہے. سیاسی محاذ پر شریف برادران بے شک مضبوط بھی ہیں اور اگلے انتخابات جیتنے کی پوزیشن میں بھی.لیکن اگر گورننس کے نظام کو بہتر کرتے ہوئے شفافیت لائی جائے تو پھر پس پشت قوتیں اور ان کے مہروں کے اس روز روز کے کھیل سے مکمل چھٹکارا پایا جا سکتا ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *