پھر آ گئے اپنی اوقات پر!

Photo Wasatullah khanسنیچر کو عبدالستار ایدھی کو کراچی میں سپردِ خاک کر دیا گیا
بس بہت گا لیے 20 سے 22 گھنٹے قوم نے ایدھی کی عظمت کے گن۔
اب مرحلہ ہے ایدھی کی ذات و یاد ٹکڑے ٹکڑے کر کے تمغے بنا بنا کے سینے پر سجانے، اپنے اپنے تنگ نظر زنگار آئینے میں ایدھی کی شبیہہ دیکھنے اور بگاڑنے کا۔ لہذٰا سوشل اور ان سوشل میڈیا کی دکان پر اب ایدھی کے شخصی پارچوں کی نمائش شروع ہو گئی ہے؟
ایدھی صاحب کی رحلت کی خبر آتے ساتھ ہی اس طرح کے ایس ایم ایس اور ٹویٹ آنے لگے کہ انھیں سرکاری اعزاز کے ساتھ قومی پرچم میں لپیٹ کر سپردِ خاک کیا جائے۔ جب ایسا ہوگیا تو اب یہ ایس ایم ایس اور ٹویٹ آ رہے ہیں کہ غریبوں کے ایدھی کو ریاست نے ہائی جیک کر لیا۔
ایدھی صاحب کو نوبل پرائز دلانے کی مہم بھی سوشل میڈیا پر دوبارہ زور پکڑ گئی ہے۔ یہ جانے بغیر کہ 1974 میں نوبل فاؤنڈیشن نے فیصلہ کیا تھا کہ بعد از مرگ کسی کو نوبل انعام نہیں ملے گا سوائے ان کے کہ جن کی وفات انعام کے اعلان کے بعد ہوئی ہو۔
شکر ہے ایدھی صاحب کو نوبل انعام نہیں ملا ورنہ وہ بھی ڈاکٹر عبدالسلام اور ملالہ یوسف زئی کی صف میں کھڑے نظریاتی فائرنگ سکواڈ کا سامنا کر رہے ہوتے۔ ( یہ الگ بات کہ ایدھی کی زندگی میں نوبل انعام کے لیے سب سے بڑی دستخطی مہم ملالہ اور ان کے والد نے چلائی)۔ مگر نظریاتی فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے نوبل انعام ضروری تو نہیں۔ بس بونوں کے درمیان قد آور ہونا شرط ہے۔
اور اب اگلا مرحلہ یہ ہے کہ کیا ایدھی کے عقائد درست بھی تھے؟ وہ کس فرقے سے تھا؟ اس نے کفن کے بجائے پہنے ہوئے کپڑوں میں سپردِ خاک ہونا کیوں پسند کیا؟ اس نے اپنی آنکھیں کیوں دان کر دیں؟ کیا اس طرح جسم کا کوئی حصہ دان کر دینا مشیتِ الہی کا مذاق اڑانا نہیں؟ ایدھی لال رنگ کیوں پسند کرتا تھا؟ اس نے احمدیوں سے ایوارڈ لینا کیوں گوارا کیا؟ اس نے بھارتی لڑکی گیتا کے لیے اس کے کمرے میں پوجا پاٹ کا اہتمام کیوں کیا؟ کیا وہ باچا خان کا پیرو کار تھا؟ کیا ایدھی زیادہ عظیم ہے کہ مولانا فضل الرحمان؟
برا نہ منائیے گا، ہم میں سے بہت سے لوگ پستی کے جس درجے تک جا پہنچے ہیں اس کے بعد ہم سب کو اپنا ڈی این اے میپ بنوانے کی اشد ضرورت ہے۔
اس سے کم ازکم یہ ضرور معلوم ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے کتنوں کا نسبی قارورہ طائف میں پتھر مارنے والوں، مسجدِ کوفہ میں حجاج بن یوسف کی تقریر سن کر دبے پاؤں کھسک جانے والوں، سرِ بازار منصور حلاج کا تماشا دیکھنے والوں، ہلاکو خان کے مقرر کردہ بغداد کے وائسرائے کے نام کا خطبہ پڑھنے والوں، سرمد کی موت کے فیصلے پر دستخط کرنے والوں اور اس کا سر دیکھ کر تالیاں پیٹنے والوں، سراج الدولہ، ٹیپو سلطان اور بہادر شاہ ظفر کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والوں، اقبال اور جناح کو کافر سمجھنے والوں سے جا ملتا ہے۔
اس ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد کسی سے کوئی بھی شکایت بلاجواز ہوگی۔
ایدھی کی سب سے مستند سوانح حیات تہمینہ درانی نے لکھی۔ اس کا ٹائٹل ہے ایدھی: آ مرر ٹو دی بلائنڈ یعنی ایدھی : اندھوں کے لیے آئینہ
کیا خوب ٹائٹل ہے سبحان اللہ ۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *