صلیبی جنگوں کا احساس اور اسلام۔مغرب تنازعہ

MURSHEDایس۔ افتخار مرشد

انیسویں صدی کے مصلح جمال الدین افغانی(1838ء تا1897ء) نے لکھا، ’’ہر مسلمان بیمار ہے اور اس کا واحد علاج قرآن ہے۔‘‘ لیکن کچھ مغربی مصنفین کے نزدیک، بالخصوص آئرلینڈ کے سیاستدان، مؤرخ اور عالم کنور کروز او برین (1917ء تا 2008ء)کا کہنا ہے کہ ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔۔۔ مسلم معاشرہ بے حد مزاحمتی دکھائی دیتا ہے۔۔۔ یہ دوسروں کو قریب آنے سے روکتا ہے کیونکہ یہ ہے ہی روکنے یا دفع کرنے یا مزاحمت کرنے والا معاشرہ۔۔۔۔ایک مغربی باشندہ جو مسلم معاشرے کی تعریف کرنے کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ مغربی اقدارپر بھی ثابت قدم ہے، اسے مسلمان یا تو منافق کہتے ہیں یا جاہل کہتے ہیںیا تھوڑا تھوڑا دونوں۔‘‘ اس کی وفات پر گارڈین نے کہا کہ جارج برنارڈ شا کے بعد کنور کروز او برین شاید آئرلینڈ کاسب سے بڑا فسادی مصنف تھا۔‘‘
مسلمانوں کے متعلق ایسے تواہم 9/11کے بعد نئے سرے سے زندہ ہو گئے ہیں اور دہشتگردانہ تشددکی ایک مستقل لہر کا ارتکاب زیادہ تر ایک انتہاء پسندی کا پروگرام رکھنے والی اقلیت کی جانب سے کیا گیا جس نے اسلام قبول کر لیا۔نتیجتاًضابطۂ قرآنی کے عدم تشدد پر زور کو بہت کم سمجھا گیا اوراس غلط یقین کو پختہ کیا گیا کہ اسلام تشدد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ظلم کا ہدف ہونے کا احساس اور حقیقی یا تصوراتی احساسات شاید دہشت گردانہ کارروائیوں کے بار بار ارتکاب کی اہم وجوہات ہیں۔لیکن، اس کے ساتھ ساتھ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ عہد حاضر میں صرف مسلمانوں پر انتہاء پسندی کا الزام لگانا بھی غلط ہے۔
2005ء میں اپنی کتاب، ’’مقدس میلہ‘‘ میں وکٹوریہ کلارک لکھتی ہیں کہ’’ صیہونیت کے حامی عیسائی یقین رکھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتا ہوا تشددخیرو شرکی عظیم جنگ کا پہلے سے مقرر شدہ آغاز ہے ۔ اور یہ جنگ دراصل دنیا کے اختتام کا آغاز ہو گی، جیسا کہ یہ ہونا ہی ہے اور حضرت عیسیٰ زیتونوں کے پہاڑ پر دوبارہ نمودار ہوں گے اور پھر ان کے شاندار ہزار سالہ دور حکومت کا آغاز ہو گا۔ ‘‘
وہ ایک فلسطینی ریاست کی تخلیق کے تصور پر مبنی 2003ء کے امن روڈ میپ کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ خدا نے حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد سے عدہ کیا تھا کہ اولاد یعقوبؑ کو ’’عظیم دریائے نیل‘‘ سے لے کر’’ عراق کے دریائے فرات‘‘ تک ایک گھر ملے گا۔ اسرائیل کی دائیں بازو کی جماعت لی کُڈ پارٹی کا’’ عظیم تراسرائیل‘‘کا خواب امریکہ میں مقیم دائیں بازو کے عیسائیوں کی ایک معقول تعداد بھی دیکھتی ہے۔
ٹی وی کے متنازعہ صحافی جیری فالویل نے اعلان کیا ، ’’اسرائیل سے لڑائی کا آغاز، خدا سے لڑائی کا آغاز ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ تاریخ اور انجیل ثابت کرتے ہیں کہ خدا اقوام سے اسی طرح کا سلوک کرتا ہے جس طرح کا سلوک اقوام اسرائیل سے کرتی ہیں۔‘‘ اکتوبر2002ء میں فالویل نے سی بی ایس کے پرائم ٹائم میں 60منٹ ادھار لئے اور مزید کہا، ’’موسیٰؑ اور عیسیٰؑ نے محبت کی لیکن محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مختلف مثال قائم کی۔‘‘
اسلامی دنیا اور مغرب کے درمیان تناؤکی جڑیں تاریخ میں پوشیدہ ہیں اور بالخصوص جب مسلمان ایک خوفناک اور متحد عالمی قوت بن چکے تھے اور یورپ کے لئے ایک دانشمندانہ، نظریاتی اور سیاسی چیلنج کی حیثیت رکھتے تھے۔ عدم تشدد اور پرامن بقائے باہمی پر قرآن کے زور دینے کے باوجود،632ء میں پاک پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے 100برس کے اندر اسلام بڑی تیزی سے پھیلا۔ عرب افواج نے اسپین سے لے کر شمالی افریقہ کے پار سندھ کے کناروں تک ایک وسیع سلطنت قائم کی۔البتہ اس وسعت کا محرک مذہبی جوش سے زیادہ سیاسی اور علاقائی برتری کا حصول تھا۔ دراصل، بلندیوں کی جانب مسلمانوں کے سفر کے ابتدائی دنوں میں کسی کا عقیدہ بدلنے کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی۔ ہرچند کہ اسلامی سلطنت کا قیام، ان کی بلا اشتعال جارحیت کا نتیجہ تھا۔مسلمان مستقل طور پر اپنے مذہب کے لئے دوسروں کے دل میں پائی جانے والی نفرت کو تاریخ کی ایک بار بار دہرائی جانے والی حقیقت قرار دیتے رہتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ صلیبی جنگوں کے خاتمے کے ساتھ ہی مسلمانوں پر ہونے والا سیاسی اور فوجی تشدد ختم نہیں ہو گیا۔مسلمان ممالک کے علماء یقین رکھتے ہیں کہ صلیبی جنگیں لڑنے والوں کا اسلام مخالف رویہ ، مغرب میں پھیلنا جاری ہے۔1917ء میں یروشلم میں داخل ہوتے وقت، جنرل ایلنبائی نے ڈینگ ماری تھی کہ ’’صلیبی جنگیں اختتام پذیر ہوئیں۔‘‘
حتیٰ کہ اکیسویں صدی میں کچھ مغربی رہنمااپنے فیصلوں کی الہٰامیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ 9/11پر امریکہ کا فوری ردعمل ، دہشتگردی کے خلاف ایک ’’صلیبی جنگ‘‘ کے آغاز کا عہد تھا۔ کہاجاتا ہے کہ فلسطینی رہنما محمود عباس کے ساتھ 2005ء کے موسم خزاں میں ایک میٹنگ کے دوران ، صدر بش نے کہا تھا،’’مجھے خدا کی طرف سے ایک مشن کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ خدا مجھ سے کہتا ہے، ’جارج، جاؤ اور افغانستان میں ان دہشتگردں کے خلاف لڑو۔‘ اور میں نے ایسا ہی کیا،اور پھر خدا مجھ سے کہتا ہے، ’جارج، جاؤ اور عراق میں ظلم کا خاتمہ کر دو۔‘ اور میں نے کیا۔
مسلمانوں کے لئے صلیبی جنگیں ہر قسم کی جارحیت کے استعارے کی حیثیت رکھتی ہیں۔اس جارحیت نے تاریخ کے حالیہ برسوں میں مسلمانوں کے علاقوں کو اپنی کالونیوں میں بدلنے کی شکل اختیار کئے رکھی ہے۔ گزشتہ نصف صدی میں کہ جب سرد جنگ ختم ہوئی،اس دور میں 1945ء سے دیواربرلن گرنے تک، امریکہ کی زیر قیادت مغرب، مسلمان دنیا کے متعلق ایک مخصوص رویہ رکھتا ہے۔اس عرصے میں امریکہ اور مغرب نے ہمیشہ ان ممالک کی حمایت کی جو اس کے مقاصد کو فروغ دیتے ہیں، لیکن ان ممالک سے شدید بے گانہ رہے جہاں انہیں کمیونزم کو شکست دینے کی ضرورت نہ تھی۔
اب مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس صدیوں کی نیند سے بیدار ہو جائیں اور اپنے مذہب کی بنیادی صداقتوں کو از سر نو استوار کریں تاکہ ان مخالفین اور انتہاء پسندنظریات رکھنے والوں کو شکست دی جا سکے جو قرآن کی غلط تشریح کرتے ہیں۔بین الاقوامی برادری کو بھی چاہئے کہ وہ مسلمانوں کو دقیانوسی سمجھنا بند کر دے اور اسلام کے اس منشورکو سمجھے جو پر امن بقائے باہمی پر زور دیتا ہے۔ عہد حاضر میں عالمی امن اور سلامتی کو اولین خطرہ دہشتگردی کا لاحق ہے۔ یہ خطرہ اسلامی اور غیر اسلامی دنیاؤں کو باہمی تعاون کا معقول جواز فراہم کرتا ہے کیونکہ یہ دونوں ہی اس خطرے کا شکار ہیں اور صرف اسی طرح دہشتگردی کو ہرایا جا سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *