کشمیر .. ظلم کے مدمقابل روشن چہرے

column kahani.noshi gillani

 اگر دُنیا کے منظر نامے پر نظر ڈالیں تو کہیں بھی سکون نہیں ۔۔ مشرق ہو یا مغرب شمال ہو یا جنوب ہر طرف ظلمتوں کا وحشی رقص جاری ہے۔۔ بریّریت کی ایسی ایسی بھیانک تصویریں اور خبریں سامنے آتی ہیں کہ آنکھیں ہی نہیں اُن میں بسی نیندیں بھی لہو رونے لگتی ہیں۔ شاید انسان اُس عہدِ نا مہربان سے گزر رہا ہے جس کے دن بد حال اور راتیں رتجگوں کی ماری ہوئی ہیں ۔ کسی ہونی کی اذیت اور اَن ہونی کا خوف پوری سانس بھی نہیں لینے دیتا ۔ بغور جایٔزہ لیں تو مشرق ہو یا مغرب ، شمال ہو یا جنوب کہیں امن نہیں ..فلسطین میں لاشیں بچھا دی گئیں ، عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گیٔ ، شام کو خون میں نہلا دیا گیا.. وادئ کشمیر کی صورتِ حال بھی سامنے ہے کہ وہاں انسانی حقوق کی پامالی کی ایسی وحشیانہ تاریخ لکھی جا رہی ہے جس کو بیان کرنے کے لیٔے نہ الفاظ ہیں نہ حوصلہ ! گو نقشہٴ ارض دیکھیں توانسان کے وجود میں آتے ہی ایک تسلسل نظر آتا ہے جنگوں کا ۔۔ مگر اب یہ ساری جنگیں محض بارود سے ہی نہیں لڑی جاتیں ۔ اس لئے کہ انسانی ذہن نے تعلیم و تکنیک کے حصول کے ساتھ جہاں شب و روز کو سہولتوں سے آراستہ کیا ہے وہیں اپنی توانایٔیوں کو منفی بنیادوں پر استعمال کرنے میں بھی مہارت حاصل کر لی ہے ۔ اسی لیٔے اب ہتھیار تو بہت بعد میں اُٹھائے جاتے ہیں ،پہلے تو اقتصادی ، ثقافتی اور مذہبی حملے کرکے اہم فتوحات حاصل کر لی جاتی ہیں ۔ جس کے لیٔے اور بہت سے ذرایٔع کے ساتھ ساتھ عموماً این جی اوز، الیکٹرانک میڈیا، پیپر میڈیا اور اب سوشل میڈیا اس غیر اعلانیہ جنگی منصوبہ بندی میں اہم محاذوں کا کام کرتے ہیں۔ اگر ہم برّصغیر کی تاریخ کی مثال دیں تو جان لیں گے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی بھی تو ایک طرح کی ’این،جی،او‘ ہی تھی۔ جس نے پہلے اقتصادی انقلاب کا نعرہ لگایا ، پھر مشرقی علوم و تعلیم کا سہارا لے کر ثقافتی اثر و رسوخ حاصل کیا اور آخرِ کار سیاسی میدان کو اپنا اکھاڑہ بنا لیا۔ خطّہ کوئ بھی ہو اِن بیرونی استحصالی طاقتوں کو اپنے مفادات کے حصول کے لئے ، اہلِ سیاست یوں بھی بہت مرغوب ہوتے ہیں کیونکہ ان کے سینوں میں احساس نامی کوئی شے نہیں ہوتی. اگرچہ عوامی نمایٔندوں ذکر کے ساتھ اس لفظ ’مرغوب‘ کا استعمال کوئی اتنا موزوں تو نہیں لیکن فی زمانہ ہر طرف جس طرح کی '' سیاست گردی'' برپا ہے اس کے بعد کوئ بہتر اصطلاح لانا ممکن نہیں.. آخر ہم بھی بندہ بشر ہیں ، چاروں طرف جلتے ہوئے الاؤ کے درمیان کھڑے ہو کر گلاب لکھنے سے تو رہے۔ جس آشوب زدہ دور میں ہم صبح و شام کر رہے ہیں ، اس پر جھنگ کے شاعر رام ریاض کا ایک شعر یاد آ گیا ،

شب کے محبوس کو سونے کی اجازت بھی نہیں

آنکھ لگتی ہے تو دیوار سے سَر لگتا ہے

تین روز پہلے کی بات ہی لیجئے ۔۔ گھر کا تالہ کھول کر اندر داخل ہوتے ہی ٹی وی آن کیا تو کشمیر میں ہونے والے ظلم کی ایک اور کہانی نے اعصاب کو شل کرکے رکھ دیا۔ ۔ ایک اور نوجوان رہنما کی شہادت.. ساتھ ہی کئی نہتے کشمیریوں اور ایک خاتون کے قتل ، جو ظاہر ہے فورسز کی براہِ راست فائرنگ کے باعث ہوئے. دل بُری طرح سے دہل گیا ۔ جیسا کہ کسی بُری خبر کو سُن کر انسان کا پہلا ردعمل بے یقینی ہی ہوتا ہے۔ ۔ ہونٹوں سے بے ساختہ دعا نکلتی ہے کہ یہ خبر غلط ہو لیکن قتل و غارت گری کی یہ سب خبریں سچ نکلیں.... جانے کب کشمیر کی مٹی کی سُنی جاۓ گی۔ کب اس کی بیٹیاں خود کو محفوظ تصّورکر سکیں گی، کب اس کے بیٹے چوپالوں میں بیٹھ کر آزادی کے گیت گا سکیں گے۔ جب سے یہ جدوجہدِ آزادی شروع ہوئی ہے اتنے لوگ شہید ہو چکے ہیں کہ شمار کرنے کو اک عمر چاہیٔے اور جو کھو گئے ہیں اُن کے منتظر وجود اپنی سانسوں کا بوجھ اُٹھاۓ ہوئے چند زندہ ہیں اور بیشتر مر چکے۔۔ اپنے عزیز کا کفن دیکھ کر تو دل کو رتّی بھر تسّلی مل جاتی ہے مگر کسی کے لوٹ آنے کا انتظار آنکھوں میں لے کر دُنیا سے رخصت ہونے والوں کی تو روحیں بھی بے چین رہتی ہوں گی ۔ ۔ جب سوال، ملال میں بدل جایٔیں تو بے قراری مقدر بن جاتی ہے ۔ وہ طبقات جو نشانہ بن رہے ہیں اُن پر تو زندگی تنگ ہے ہی مگر جبر کرنے والی قوتیں بھی کہاں پُرسکون ہیں. یہ کوئی فلسفہ نہیں حقیقت ہے کہ خبطِ عظمت کا شکار رہنا ایک بے حد الجھا دینے والا عمل ہے خواہ وہ ذاتی سطح پر ہو یا اجتماعی سطح پر۔ ظلم کرنے کے عمل کے پس منظر میں خوف ہی تو کار فرما ہوتا ہے ۔۔ مظلوم کے طاقت ور ہو جانے کا خوف ۔۔ بلکہ شدید خوف۔ لیکن یاد رہے کہ ظلم کے جتنے چہرے ہوتے ہیں اس کے ردِّ عمل کے بھی اتنے ہی چہرے ہوتے ہیں .. سیاہ ظلم کے مدِ مقابل روشن چہرے ! جن سے وادی کشمیر کے کوچہ و بازار ، سلاسل و دار سجے ہیں !!!

ایک نظم .. وادی کشمیر

ضمیرِ عالمِ انسانیت خبر ہے تجھے !

شرار و شعلہ کی زَد میں ہے وادیٔ کشمیر تجھے خبر ہے

کہ جنّت نشان یہ وادی لہو لہو ہوئی جاتی ہے

دستِ قاتل سے جہاں پہ روشنی خوشبو بکھیرتی تھی

کبھی وہاں پہ خاک ہوئی جا رہی ہے

آزادی یہ پھول اُگاتی زمیں اور یہ گیت گاتی زمیں

وفا سے اور محبت سے مسکراتی زمیں

یہ جس کے خواب بھی روشن، نگاہ بھی روشن یہ دلفریب

دلآویز، دلربا منظر گُزرنے والوں کے دل میں اُترتے جاتے ہیں

ضمیرِ عالمِ انسانیت خبر ہے تجھے !

کہ منظروں میں جو منظر ہیں بُجھتے جاتے ہیں

یہ پُھول سُوکھتے اور خواب مرتے جاتے ہیں

تجھے خبر ہے کہ جنّت نشان یہ وادی لہو لہو ہوئی جاتی ہے

دستِ قاتل سے یہ دستِ قتلِ وفا جتنا بڑھتا جائے گا

تِرے وقار کی گردن تلک بھی آۓ گا

ضمیرِ عالمِ انسانیت خبر ہے تجھے !

شرار و شعلہ کی زَد میں ہے وادیٔ کشمیر

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *