برداشت اور قوتِ برداشت !

1 LOGO 1ڈاکٹر اظہرؔ وحید

فصلِ گل ہو یا فصلِ دل ۔۔۔ جس کی برداشت زیادہ ہوتی ہے ‘ وہ فصل بارآور بھی زیادہ ہوتی ہے ۔برداشت کاتعلق قوت سے ہے اور قوت کا تعلق برداشت سے!! برداشت ایک تخلیقی قوت ہے۔ قوتِ برداشت حسن کو عدم سے وجود میں لاتی ہے اور عدم برداشت وجودِ حسن کو سوئے عدم لے جاتی ہے ۔برداشت ترتیب کا باعث ہے اور ترتیب جب اپنے حسنِ ترتیب کو پہنچتی ہے تو حسن کہلاتی ہے۔عدم برداشت ایک داخلی انتشار ہے۔جس طرح بڑھاپے میں عناصر میں انتشار رونما ہوجانے سے زندگی کا دیا مدھم پڑھنے لگتا ہے ‘ اسی طرح اگر خیال میں انتشار واقع ہوجائے تو ہماری معنوی زندگی روشنی دینے سے انکار کر دیتی ہے ۔بہرحال انتشار وجود میں ہو یا خیال میں ‘ زندگی کی لَو مدھم پڑجانے کی علامت ہے۔ برداشت مخفی کو ظہور میں لاتی ہے۔ درحقیقت باطن میں موجود بے پایاں حسن کو پردۂ ظاہر پر لانے کی موجد قوت کانام برداشت ہے۔
برداشت دانائی کا پیش خیمہ ہے۔ جب ہم برداشت کے خیمے میں داخل ہوتے ہیں تو ہمیں توقف اور تفکر کا موقع ملتا ہے۔ تفکر کی خوبی یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنی خامیوں پرمتفکر ہوتاہے۔ جب تک اپنی خامیاں نظر میں رہیں‘ اِنسان غرور کے پھندے میں نہیں پھنستا۔ اپنی کوتاہیاں پیشِ نظرہوں تو دوسروں کو معاف کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ ہمیں دوسروں کے عمل سے زیادہ اُن کی نیت پر غصہ آتا ہے ۔۔۔ حالانکہ دوسروں کی نیت اُن کے متعلق ہمارا ایک گمان ہی تو ہوتا ہے۔۔۔ اور ہمارا گمان ہمارے اختیار میں ہے۔گمان اچھا بھی قائم کیا جاسکتا ہے۔ نیت کے بھید تو دلوں کے بھید جاننے والا ہی بہترجانتا ہے۔ ایک چھوٹی سی برداشت‘ بڑی دانائی دے کر جاتی ہے۔کسی معاشرے میں قوتِ برداشت کا ہونا اُس کے تہذیب یافتہ ہونے کی علامت ہے اور عدم برداشت جہالت کی نشانیوں میں سے ہے۔ انسانی تہذیب کی ساری تاریخ بس ایک قوتِ برداشت کی بتدریج ترویج سے عبارت ہے۔
آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا ۔۔۔ اس لیے اِس کی طینت میں عاجزی کو دخل ہے ۔ابنِ آدم جب تک انکسار میں رہتا ہے ‘ اپنی فطری جوہر کے قریب رہتا ہے ‘ عافیت میں رہتا ہے۔ جب آگ بگولا ہوتا ہے ‘اپنی طینت سے بغاوت کا مرتکب ہوتا ہے ۔ مٹی کا و صف ‘ جو اِسے آگ سے ممتا ز کرتا ہے ‘ وہ اس کی قوتِ برداشت ہے۔ زمین کی قوتِ نمو ‘ اِس کی قو تِ برداشت کے سبب ہے۔ یہ زمین کی کشادگی ہے کہ بدبودار کو ڈھانپ لیتی ہے اور خوشبودار پیدا کیے چلے جاتی ہے ۔بس صفتِ بوترابی یہی ہے کہ زمین کے بیٹے بھی دوسروں کے بدبود ار رویے اپنی برداشت کی عبامیں چھپا لیں ۔۔۔بدلہ نہ لیں ۔۔۔ بلکہ بدبو کے بدل میں خوشبو دار رویوں کو فضا میں درد کے سورج کی طرح اُچھال دیں۔ بہشت سماوی سے نکل کر آنے والوں پر لازم ہے کہ اپنے جنت زار رویوں سے یہاں بہشتِ ارضی پیدا کریں۔ ظاہر ہے ‘بہشتی دروازہ زمین پر نصب ہوتا ہے۔
اِخلاقیات کے تمام سَوتے برداشت سے پھوٹتے ہیں۔اِلٰہیات اخلاقیات کے بغیر محض ایک فلسفہ ہے۔ گویا دین کو فلسفے سے نکال کر عمل میں داخل کرنے والی قوت ‘ قوتِ برداشت ہے۔ اخلاقیات کا سارا نصاب اپنی انا کی تیز دھار تلوار کو برداشت کی نیام میں رکھنے پر مشتمل ہے۔ جس کی اَنا طاقتور ہوتی ہے‘ اُس کیلئے برداشت ایک کڑاا متحان ہے۔ عاجزی کی گدڑی پہننے والے برداشت کی کڑوی گولی دانت پیسے بغیر نگل لیتے ہیں، نتیجہ یہ کہ شفا یاب ہوجاتے ہیں۔ اِس کے برعکس اَناکی کلف والے جاڑجٹ میں ملبوس لوگ خود کوگلیوں بازاروں میں کتنا بھی مہذب ظاہر کریں ‘ جب انسانی معاملات کے آنگن میں آنکلتے ہیں تو یکدم ننگے ہوجاتے ہیں۔
برداشت ایک خالصتاً دینی جذبہ ہے۔ اگر اِسے دین سے ہٹ کر پروموٹ کیا جائے تو self-imrovement اور selfishness میں فرق نہیں رہتا۔ صرف اپنے فائدے کیلئے اخلاقیات کا سبق سیکھا جائے تو نفاق اور diplomatic tactics کے ہنرکے سوا اور کیاہے ۔ اِخلاق اور نفاق میں فرق صرف اخلاص کا ہے۔اِخلاص اپنے مفاد اور مزاج کی نفی کا نام ہے۔ اِخلاص صرف فی سبیل اللہ ہوتا ہے۔۔۔ ا و ر اللہ ایک ذات کا نام ہے ‘ کسی سائینسی اور اخلاقی مجوعۂ قوانین کا نام نہیں۔ وہ مقدس ذات اپنے مزاج یعنی پسند اور ناپسند کی خبر جس ذات کے ذریعے مخلوق کو دیتی ہے ‘ وہ ذات مخبرِصادق ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔مکّے کی گلیوں میں کوڑا پھینکنے والی بڑھیا کی خبر گیری سے لے کر طائف کی وادی میں لہو سے وضوکرنے کے بعد اہلِ طائف کے حق میں دعا کرنے تک ۔۔۔سارا سفر اخلاق کا سفر ہے۔۔۔ اور یہ سفر برداشت کی سواری پر طے ہوتا ہے۔ صلحِ حدیبیہ سے فتحِ مکہ تک‘ سارے معرکے دراصل قوتِ برداشت کے معرکے ہیں۔
ایک مسلمان کیلئے برداشت کا سبق لینا اور اِس پر عمل کر نا کس قدر آسان ہے۔ بس کچھ دیر کیلئے تفکر کے خیمے میں داخل ہونے کی ضرورت ہے۔آخرہم عبادت کس لیے کرتے ہیں ؟۔۔۔ اپنے رب کا تقرب حاصل کرنے کیلئے !۔۔۔ اگرہم معاملات میں تھوڑی سی برداشت پیداکر لیں تو ہماری عبادت کی ریاضت آسان ہو سکتی ہے۔ ایک مسلمان کی معراج یہ ہے کہ وہ اللہ کے حبیب ﷺ کے قریب ہوجائے۔۔۔ اور آپ ﷺ معلمِ اخلاق ہیں۔ غور طلب بات ہے ‘ متعلم اگر تعلیمِ اخلاق کو پسِ پشت ڈال دے تو معلمِ اخلاق ؐ کی قربت کیسے حاصل کرسکتا ہے ۔قرب ‘درحقیقت معنوی قربت ہوتی ہے ۔۔۔ وگرنہ ظاہری سنگت تو سنگ و خشت کو بھی حاصل ہو تی ہے ۔ ہم ایک چھوٹا سا کام کیوں نہیں کر لیتے ۔۔۔کسی مسلمان کو اپنے سے کم درجے کا مسلمان سمجھنا چھوڑ دیں۔ ایمان دل کا معاملہ ہے اور دل کو دلیل سے ثابت نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔ پھرہم کسی کے بے ایمان یا کم ایمان ہونے کی دلیل آخر کیسے ڈھونڈ لیتے ہیں؟ کسی مسلمان کو غیر مسلمان سمجھنا چھوڑ دیں تو ہم سب مسلمان ہیں۔ ہمارے دل میں اِسلام کی خدمت کرنے کا جذبہ ٹھاٹھیں مارتا ہے۔۔۔ الحمد للہ ! اچھا جذبہ ہے ۔۔۔ بس اس جذبے کو گوندھنے میں اگرذرا سی برداشت کا نمک ڈال لیا جائے تو لنگر خوب بٹے گا۔۔۔ سب کو کفایت کرے گا۔اِسلام کی خدمت دراصل مسلمانوں کی خدمت ہے۔۔۔ فلسفۂ اِسلام کی تشریح‘ اِسلام کی خدمت نہیں۔۔۔ تشریحِ اسلام تو ہماری اپنی اپنی فہم ہے ۔۔۔ کسی کی کم۔۔۔ کسی کی زیادہ ! ہم کیا کرتے ہیں ؟ اپنی ذاتی فہم کی بنیاد پردوسروں کی فہمائش کرتے رہتے ہیں۔ اخلاقی کلیے خود احتسابی کیلئے دیئے جاتے ہیں‘ دوسروں کا احتساب کرنے کیلئے نہیں۔ اخلاقیات کے اصول اپنی پیمائش کیلئے مقرر کیے جاتے ہیں ۔۔۔ دینی اصول اس لیے نہیں پڑھائے جاتے کہ اِن اصولوں کا فٹا پکڑ کرہم دوسروں کے اسلام کا قد ماپتے پھریں۔۔۔ ہم پہلے قد ماپتے ہیں۔۔۔ پھر گردن !!
دین ایک دسترخوان ہے۔۔۔ اور جس ذات نے یہ مائدۂ خیال بچھایا ہے‘ اُس کا اوڑھنا بچھونارحمت ہے ۔۔۔ وہ ذات رحمت اللعالمین ﷺ ہے۔ ہم سب اُن کے بچھائے ہوے دسترخوان پر بطور مہمان مدعو ہیں۔ ایک مہمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ دوسرے مہمانوں کو دسترخوان سے اُٹھا ئے۔
برداشت کا تعلق صبر کے ساتھ ہے۔ برداشت اور صبر کے راستے کا مسافر ایک درجے کا شہید ہوتا ہے۔۔۔وہ شہادت دیتا ہے کہ کوئی ذات موجود ہے جس کی خاطر وہ سب کچھ برداشت کر رہا ہے ۔۔۔ جس کی معیت پانے کیلئے وہ صبر کررہاہے ۔۔۔ کہ اِنّ اللّٰہ مع الصّابرین
قانونِ قدرت ہے کہ کسی خطے میں مرض بعد میں پیدا ہوتا ہے اور اس کی شفا پہلے پیداکر دی جاتی ہے۔۔۔ یعنی درد سے پہلے دوا پیدا کرنا اصولِ فطرت ہے۔ ہمارے ملک میںآج تعصب اور تشدد کی وباپھوٹ چکی ہے لیکن مشیت الٰہیہ اسِ وبا کا سدّ باب کرنے کیلئے فکرِ واصف ؒ کی صورت میں دو دہایاں قبل ہی ایک دوا پیدا کرچکی ہے ۔۔۔اور یہ دواآج کے طلب اور تقاضوں کے مطابق پہلے ہی کیپسولییٹڈفارم form capsulated میں ہے۔ یہ محض عقیدت کی بات نہیں بلکہ حقیقت کی بات ہے کہ اس وقت قوم کو اِسی دوا کی ضرورت ہے۔۔۔ ان نسخۂ ہائے شفا سے فائدہ اٹھا کرشفا یاب ہونا چاہیے ۔ فی زمانہ یہ واحد فکری نسخہ ہے کہ ہر مکتبہ فکر اور فقر کیلئے یکساں طورپرتجویز کیا جاسکتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اقوالِ واصف ؒ ایک طرف جامعہ نعیمیہ سے لیکر جامعہ اشرفیہ اور جامعہ المنتظرکے طلباء میں اور دوسری طرف جامعہ پنجاب سے لیکر بیکن ہاؤس اورلمز یونیورسٹی کے نوجوانوں ‘ سب میں یکساں طور پر مقبول ہیں۔ اس وقت اہلِ پاکستان میں ’’اتحاد ،تنظیم اور یقین ‘‘ کا ایک ’’ولولہ تازہ‘‘ پیدا کرنے کیلئے اور مختلف مکتبہ ہائے فکر کو متحد اور متفق رکھنے کیلئے فکرِ واصف ؒ ایک نظریاتی اساس کا کام دے سکتا ہے۔ اہلِ پاکستان!کلامِ واصف ؒ کی صورت میں ہمارے پاس ایک طرف روحانی سطح پر ’’نہج البلاغہ ‘‘ کی بازگشت ہے اور دوسری طرف فکرِ قائدؒ اور فکرِ اقبالؒ کی آسان نثر میں نشرِ ثانیہ ہے ۔۔۔ اسے نشاۃِ ثانیہ کیلئے استعمال کیا جائے۔ نابغہ ہستیوں کاوجود کسی ملک اور معاشرے کیلئے پروردگار کی نعمتوں میں سے ایک نعمت اوراحسان کی طرح ہوتا ہے۔ضرورت‘ اِس نعمتِ پروردگار سے فائدہ اُٹھانے کی ہے۔ اللہ نہ کرے ‘ ہم اپنے پانی ، زمین اور موسم جیسی نعمتوں کی طرح اِس نعمت کی بھی ناقدری کے مرتکب ٹھہریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *