گاڑی کے دو ڈبے

ata ul haq qasmiراولپنڈی جانے کے لئے لاہور ریلوے اسٹیشن پر کھڑی ریل کار کے عمومی درجے میں جب میں نے داخل ہونے کی کوشش کی تو دروازے میں انسانوں کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے پایا۔ میں نے صرف چندگھنٹے پیشتر اپنی سیٹ بک کرائی تھی اور میرے سفارش کنندہ نے معذرت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس وقت صرف عمومی درجے میں ایک سیٹ دستیاب ہے اور وہ بھی بس یوں سمجھیں کہ صرف آپ کے لئے ہے اور اب میرے سامنے سیسہ پلائی ہوئی ایک دیوا ر تھی جسے چیر کر مجھے اپنی سیٹ تک جانا تھا۔ میں نے پائیدان پر بڑی مشکل سے پاؤں جمائے اور اپنے لئے راستہ بنانے کی خاطر اپنی داہنی کہنی دروازے میں کھڑے ایک قوی ہیکل شخص کے پیٹ میں گھونپ دی۔ اس نے لمحہ بھر کے لئے میری طرف دیکھا ا ور پھر بے نیازی سے سیٹی بجانے میں مشغول گیا۔ میری کہنی کی حیثیت غالباً ایک چیونٹی سے زیادہ نہیں تھی جواسے تھوڑی دیر کیلئے اپنے پیٹ پر رینگتی ہوئی محسوس ہوئی اور پھر وہ اس چیونٹی سے غافل ہو گیا۔اس آستانے سے مایوس ہو کر میں نے برابر والے در پر اپنا سر نیاز جھکا دیا۔ جہاں ایک نحیف سا انسان کھڑا سگریٹ کے کش لے رہا تھا مگر میری تمام تر قوتِ ایمانیکے باوجود وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی اِدھراُدھر نہ ہوا کیونکہ اس کے پیچھے انسانوں کا جم غفیر تھا جو ایک دوسرے میں کچھ ا س طرح دھنسے ہوئے تھے کہ کسی بڑے آپریشن ہی کے ذریعے انہیں علیحدہ کیاجاسکتا تھا۔ تنگ آ کر میں نے اپنا پاؤں پائیدان سے واپس پلیٹ فارم پر رکھ دیا اور ریلوے کی سفید وردی میں ملبوس بازو پر سرخ پٹی باندھے ہوئے ٹکٹ کنڈیکٹر کے پاس گیا اور کہا:

مجھے بتایا گیا تھا کہ ایئرکنڈیشنڈ بوگی میں کوئی سیٹ دستیاب نہیں ہے تاہم ممکن ہے اس دوران کسی مسافر نے اپنی سیٹ کینسل کرادی ہو اگر ایسا ہوا ہو تو براہ کرم یہ سیٹ مجھے بک کردیں۔اس پر چارٹ ہاتھ میں پکڑے ہوئے کنڈیکٹر نے مجھ پر ایک گہری نظرڈالی اور یہ اندازہ لگانے کے بعد کہ میں کوئی آسامی نہیں ہوں، اس نے بے رخی سے کہا:
گاڑی روانہ ہونے تک میں آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ آپ گوجرانوالہ اسٹیشن پر مجھ سے پتہ کریں۔اس اثنا میں گارڈ نے سیٹی بجائی اور پھر تھوڑی دیر بعدگاڑی پلیٹ فارم سے سرکنے لگی۔ میں دوڑ کر عمومی درجے کی بوگی کے پائیدان سے لٹک گیا۔ وہاں انسانوں کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار اسی طرح موجود تھی، قریب تھا کہ میرے ہاتھ سے ہینڈل چھوٹ جاتا مگر اس بار دروازے میں کھڑے اس قوی ہیکل شخص نے مجھے فوراً بازو سے اپنی طرف کھینچا اورپھر مجھے راستہ دینے کے لئے قدرے ترچھا ہو کر کھڑا ہوگیا لیکن اس دیوار کے آگے اور بہت سی دیواریں تھیں اور میں ان سب کو پھلانگتا ہوا بمشکل تمام اپنی سیٹ تک پہنچا۔اس جدوجہد میں سارا جسم پسینے میں نہا گیا تھا اور میری سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی.....!
یہ بوگی انجن کے بالکل ساتھ واقع تھی اور میری نشست سے ایک گز کیفاصلے پر جو دروازہ تھا وہ انجن کی طرف کھلتا تھا۔ یہ دروازہ تھوڑی دیر کے بعد خودبخودکھل جاتا اور سارا کمپارٹمنٹ ایک خوفناک شور سے گونج اٹھتا۔ اِدھر کھڑکی سے تیزدھوپ بھالے کی طرح میرے جسم میں اتر رہی تھی۔ اس پر طرّہ یہ کہ میرے برابر میں کھڑے مسافروں میں سے ایک نے خود کو سہارا دینے کے لئے اپنا ایک ہاتھ میری نشست کی ٹیک پر رکھا ہوا تھا۔ اس کے دوسرے ہاتھ میں گٹھڑی تھی جو میرے چہرے کے عین سامنے تھی اور یوں میں اپنا سر نہ پیچھے لے جاسکتا تھا نہ سیدھا رکھ سکتا تھا اور نہ اسے آگے کو لے جاسکتا تھا۔ میری زبان کاٹنے کی طرح خشک ہو رہی تھی مگرمیری رسائی باتھ روم میں لگے بیسن تک ممکن نہ تھی کہ یہ راستہ بھی انسانوں سے اٹا ہوا تھا۔ میری نشست سے ذرا فاصلے پر ایک پاگل صرف لنگوٹی باندھے کھڑا تھا۔ اس کی داڑھی بے ہنگم طور پر بڑھی ہوئی تھی۔ بال کھلے تھے اور اس کے بڑھے پیٹ پر میل کی تہیں جمی تھیں۔ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنے دونوں ہاتھ پہیوں کی طرح چلاتے ہوئے اور منہ سے چھک چھک کی آواز نکالتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا اور جب اسے رستہ نہ ملتا تو وہ منہ سے انجن کی طرح خوفناک چیخ مارتا۔گوجرانوالہ اسٹیشن پر میں کھڑکی کے راستے باہر کودا اور دوڑ کر کنڈیکٹر کے پاس گیا۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی کہا: میں نے ابھی چیک کیا ہے۔ آپ کو ایئرکنڈیشنڈ کمپارٹمنٹ میں سیٹ مل سکتی ہے آپ چل کر بیٹھیں۔ میں آ کر ٹکٹ کاٹتا ہوں۔
اسے اب غالباً گاہک کی امید نہ تھی تاہم میں نے یہ خوشخبری سن کر اپنی چال میں ایک وقار سا پیدا کیا اور یوں ہولے ہولے چلتا ہوا ایئرکنڈیشنڈ کمپارٹمنٹ میں داخل ہوگیا۔یہ کمپارٹمنٹ دودھیا روشنیوں اور دودھیا چہروں سے منور تھا۔ یہاں لوگ اس طرح اطمینان سے بیٹھے تھے جس طرح گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوں۔ یہاں دھوپ کی نوکیلی کرنوں اور حبس کا داخلہ ممنوع تھا۔ اس بدترین موسم میں بھی کمرے کی فضا میں ہلکی سی خنکی کا احساس پیدا ہو رہا تھا میں نے اپنی سیٹ تلاش کی اور پھر اسے پیچھے کی طرف سرکا کر نیم دراز ہو گیا۔ قریباً ڈیڑھ گھنٹے کی حبس بیجا سے رہائی کے بعد میں خود کو ایک عجیب عالم میں محسوس کر رہا تھا اور سرشاری کی ایک نامعلوم سی کیفیت میرے جسم میں سرایت کرتی جارہی تھی۔ ان لمحوں میں مجھے احساس ہوا کہ میں کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگنے والا ایک انسان نہیں بلکہ سچ مچ کا اشرف المخلوقات ہوں میں نے اپنی نشست کیساتھ لگی بیل (Bell) پر انگلی رکھ دی اور تھوڑی دیر بعد ایک باوردی ویٹر میرے پاس آ کر نیم ایستادہ ہو گیا۔ میں نے اسے یخ بستہ کوک گلاس میں لانے کا آرڈر دیا اور پھر کھڑکی کے بڑے بڑے شیشوں میں سے تیزی سے گزرتے ہوئے خوبصورت مناظر کو آنکھوں میں سموتے ہوئے میں نے کوک کی چسکیاں لینا شروع کردیں۔ گلاس میں برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے تیر رہے تھے جس سے گلاس کے باہر کی سطح نم آلودہ ہو رہی تھی۔
گجرات تک پہنچتے پہنچتے میرے اوسان مکمل طور پر بحال ہو چکے تھے چنانچہ کچھ دیر کے لئے گاڑی رکی تو پلیٹ فارم پراتر کر پھر وہی باوقار سی چال چلتاہوا اپنے پہلے ٹھکانے کی طرف گیا۔ میں یونہی اس کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہو گیاجہاں سے جھلسا دینے والی دھوپ ڈبے میں داخل ہو رہی تھی۔ یہاں ڈبے کے مکین پسینے میں ڈوبے ہوئے تھے پیاس کی شدت سے ان کی زبانیں باہر کو نکلی ہوئی تھیں اور ان کے سانس دھونکنی کی طرح چل رہے تھے۔ عورتیں، بچے اور بوڑھے چھت سے چپکے ہوئے سہارے کے ساتھ چمگادڑوں کی طرح لٹک رہے تھے۔ ان کے درمیان لنگوٹی میں ملبوس بے ہنگم داڑھی والا پاگل اپنے میلے ننگے پیٹ کے ساتھ کھڑا تھا۔ مجھے کھڑکی میں سے اس کا صرف نچلا دھڑ نظر آیا اور پھر مجھے اس کے منہ سے نکلتی ہوئی چھک چھک کی آواز سنائی دی اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے قدم بڑھائیاور جب اسے راستہ نہ ملا تو اس نے انجن کی طرح خوفناک چیخ ماری مگر اس ڈبے کا صرف یہی مسافرایسا تھا ورنہ باقی مسافر تو پہلے کی طرح اپنی چیخیں اپنے سینوں میں دبائے بیٹھے تھے!
(قند مکرر)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *