ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

عاطفہ عثمانی
hum jo
مجھے یاد ہیں وہ دن جو ہماری امیدوں سے عبارت تھے اور وہ راتیں جو ان گنت خوابوں کی آماجگاہ تھیں۔ ذیادہ نہیں یہی کوئی بیس ایک برس پرانی بات ھو گی کہ وہ بچپن کی دنیا آج کی دنیا سے بالکل مختلف تھی۔ ان وقتوں میں آسمان کے ستارے بھی ہتھیلی کی پہنچ میں لگتے تھے اور چاند بھی دل کے بھیدوں کا ہمراز ہوا کرتا تھا ۔ میں نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہ انسانیت کی آفاقی قدروں سے شناسا ایک ایسی دنیا تھی جس میں انسانیت کی اساس بدرجہ ء اتم موجود تھی۔ ایسا نہیں کہ پوری دنیا امن و چین کے باغات میں محو استراحت تھی بلکہ یہ کہ دنیا میں موجود بڑے بڑے مسائل انسان کی روزمرہ زندگی پر اثرانداز نہیں ہوتے تھے ۔ نہ تو کبھی مذھب نہ ہی سیاست نہ ہی ہر لہظہ بنتی بگڑتی دنیا کے نظریاتی فلسفے موضوع ءسخن ہوے نہ ہی ایسے عناصر کسی تفریق یا عناد کا باعث ہوے۔ ایسے تمام ھمساے یا احباب جو غیر مسلک یا اقلیت سے تعلق رکھتے ان کے اور اپنے تہواروں پر تحائف کا تبادلہ ایک عام بات تھی ۔ مگر وقت بدل گیا اور دنیا بھی۔ ہر وہ چیز جو خوش کن، خوش رنگ اور دلربا تھی اس کو بدگمانی اور نفرت کی عفریت نے نگل لیا۔ ذہنوں کو بےیقینی اور شک کی دبیز دھند نے ڈھانپ دیا۔ اچانک سے مجھے معلوم ہوا کہ میرے مذھب میں مذھبیت ناکافی تھی۔ ہمارے رسوم و رواج ھندو تہذیب کے رنگ میں رنگے تھے۔ ھماری عقائد ملحدانہ توجیہات کے آینہ دار تھے۔ نہ صرف اتنا بلکہ روشن خیال مفکرین اب ہمیں یہ بھی سمجھا رھے ہیں ک کتابوں میں پڑھایا گیا نعرہ ء پاکستان ایک سازش ہے اور اقبال اور جناح کے پاکستان کا ایک اسلامی ریاست سے کوئی تعلق نہیں۔ دین و سیاست کو یکجا کرنا ملا کا فی سبیل اللہ فساد ہے۔ غرض کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ مگر اس سب میں میرا اور مجھ جیسے بہت سے لوگوں کا نقصان ہو گیا ھے۔ ہم سے ہر وہ سوچ ہر وہ نظریہ چھین لیا گیا ہے جو ھماری زندگی کی اساس اور محور تھا۔ بدلے میں ھمیں شک اور بےیقینی کی تند و تیز لہروں کی نظر کر دیا گیا ھے۔ مقام تاسف ہے ک آج کی دنیا میں سیاہ و سفید، پاک و ناپاک، کفر و ایمان کے لیے تو جگہ ہے مگر کسی سوال کرنے والے یا جواب ڈھونڈنے والے کے لیے دنیا تنگ پڑ چکی ہے۔ اور خواب دیکھنے والوں کا تو ذکر ہی کیا کہ خوں رنگ تعبیروں نے تو انکی نیندیں بھی تختۂ دار پر سجا دی ہیں۔
اپنا غم تھا گواہی تیرے حسن کی
دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم
ہم جو تاریک راہوں‌ میں‌ مارے گئے
نار سائی اگر اپنی تقدیر تھی
تیری الفت تو اپنی ہی تدبیر تھی
کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے
ہجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے
قتل گاہوں سے چن کر ہمارے عَلم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے
جن کی راہ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے
کر چلے جن کی خاطر جہاں‌گیر ہم
جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں‌ میں ‌مارے گئے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *