ڈاکٹر ذاکر نائیک تبلیغ کے قابل نہیں ہیں، مسلمان انہیں نہ سنیں۔۔۔ دارالعلوم

zakir-naik

مشہور انڈین سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک جن کا ایک فین بنگلہ دیش کیفے حملے میں ملوث پایا گیا ہے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہیں ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ ان کے نظریات کو سمجھا نہیں جاتا۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سنی مسلمان زیادہ تعداد میں موجود ہیں ڈاکٹر صاحب کا تھیولوجیکل عقیدہ کیا ہو سکتا ہے؟ سنی مسلمانوں کے مرکز دارالعلوم کے علما اور مفتی حضر ات کو بھی ڈاکٹر ذاکر ایکآنکھ نہیں بہاتے۔ ان کے نزدیک ڈاکٹر ذاکر کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ چار مستند امام میں سے کسی ایک کے مقلد نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے 2007 سے اب تک دارالعلوم سے ڈاکٹر ذاکر کے خلاف کئی فتوے صادر ہو چکے ہیں۔ دارالعلوم در اصل حنفی مسلک کا حامی ہے۔ مغربی ایشیا، مصر اور برصغیر کے زیادہ تر مسلمان اسی مسلک کے پابند ہیں۔ باقی تین مستند مسالک میں حنبلی، شافعی اور مالکی مسالک سرفہرست ہیں۔ اسلام میں کوئی پوپ یا ویٹیکن نہیں اس لیے زیادہ تر لوگ مذہب سیکھنے کے لیے الازہر یونیورسٹی یا دارالعلوم دیوبند کا رخ کرتےہیں۔  دارالعلوم نے اب تک ڈاکٹر ذاکر کے خلاف کئی فتاوی جاری کیے ہیں۔ عام طور پر ڈاکٹر ذاکر اپنے اسلام سے متعلق علم کے وجہ سے سامعین کے دل میں فوری گھر کر جاتے ہیں۔ وہ اپنے گفتگو کے لیے قران و حدیث سے حوالہ دینے میں زرہ بھر دقت محسوس نہیں کرتے۔ اس کے باوجود دارالعلوم کے فتاوای ڈاکٹر ذاکر نائیک کو غیر مقلد کہتے ہوئے ان کی تبلیغ کو مسترد کرتے ہیں۔ غیر مقلد ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو مذکورہ چار مسالک میں سے کسی ایک کے ساتھ منسلک نہیں رہتے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسلامیات کے پروفیسر اختر الواسع نے کہا: میں ڈاکٹر ذاکر کی متنازع اپروچ کو پسند نہیں کرتا۔ اسلام مکالمے کا مذہب ہے۔ ڈاکٹر  ذاکر سلفی خیالات کے عالم ہیں۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کو وہ تشدد اور جارحیت کا پرچار نہیں کرتے جیسا کہ اکثر ان پر الزام لگایا جاتا ہے۔ سلف ازم جارحیت پر مبنی ایک اسلامی نکتہ نظر کا نام ہے۔ دارالعلوم سے لیے گئے ایک فتوی نمبر 1541/1322=B/1429 میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر کے بہت سے بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایک غیر مقلد مبلغ ہیں۔ ان کی تقاریر قابل بھروسہ نہیں ہیں۔ ایک اور فتوی جس کا نمبر352=363/B ہے میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا علم غیر پختہ اور ناقابل اعتماد ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کی گفتگو نہ سنیں۔ دارالعلوم کے سابقہ طالب علم اور میرت الہدایہ مدرسہ کے بانی عبد الرحمان قاسمی کا کہنا ہے کہ "ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ ڈاکٹر صاحب کو قران کا کتنا علم ہے۔ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ کسی خاص مسلک کی پیروی نہیں کرتے۔" ڈاکٹر صاحب کی بہت سی تقاریر قرانی تعلیمات کے ساتھ ساتھ امریکہ مخالف بیانات کا مجموعہ ہیں۔ 2015 میں سعودی عرب سے سروس ٹو اسلام کا اعزاز حاصل کرتے وقت ڈاکٹر صاحب نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:"میں ان مسلمانوں کے خلاف ہوں جو بے گناہوں کو قتل کرتے ہیں۔ لیکن امریکہ جو کر رہا ہے وہ کیا ہے؟ " ڈاکٹر ذاکر نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ڈھاکہ حملہ کے ذمہ داروں کو اکسانے کی تردید کی ویڈیو اپ لوڈ کر رکھی ہے جس میں وہ کہتے ہیں:" 90 فیصد بنگلہ دیشی لوگ مجھے جانتے ہیں۔ یہ بات الگ ہے کہ حملہ کرنے والا میرا ایک فین تھا۔ لیکن یہ کہنا کہ میں نے اسے حملہ کرنے پر اکسایا ہے کہ وہ معصوموں کی جانیں لے لے، یہ بہت بھونڈا اور ناقابل قبول الزام ہے۔"2010 میں ایک برطانوی عدالت نے ڈاکٹر ذاکر نائیک پر پابندی کے حکومتی فیصلے کی توثیق کی۔ اس کیس میں کورٹ نے کچھ
ایسی تقاریر کو بطور حوالہ پیش کیا جن میں ڈاکٹر ذاکر القاعدہ کے موقف کے حق میں نظر آتے ہیں۔ ایک تقریر میں انہوں نے کہا:" اگر بن لادن ایک دہشت گرد کو ڈرا رہا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوں۔اگر وہ ایسا نہیں کر رہا تو میں اس کے خلاف ہوں۔ ہر مسلمان کو دہشت گرد ہونا چاہیے۔ اسامہ دہشت گرد ہے یا نہیں مجھے نہیں معلوم۔ اب آپ یہ مت کہنا شروع کر دیں کہ ڈاکٹر ذاکر اسامہ کا حمایتی ہے ۔ مجھے نہیں معلوم اسامہ کون ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔ میں صرف خبروں پر یقین کر کے اپنی رائے نہیں بناتا:۔"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *