گھوڑے اور گدھے میں ایک بحث!

Photo Attaul Haq qasmi sbایک دفعہ جنگل میں گھوڑے اورگدھے کی بحث ہوئی۔ گھوڑے نے کہا آسمان کا رنگ نیلا ہے جبکہ گدھے کاکہنا تھا کہ آسمان کا لا ہے۔ گھوڑے نے کہا چلو اپنے باشاہ کے پاس چلتے ہیں۔ دونوں شیر کے پاس پہنچے اور تمام قصہ سنایا۔ شیر نے سب کچھ سننے کے بعد کہا کہ گھوڑے کو جیل میں ڈال دیا جائے۔ گھوڑے نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہ سلامت! یہ کیسا انصاف ہے کہ صحیح بھی میں ہوں اور جیل بھی مجھی کو بھیجا جارہا ہے!بادشاہ نے کہا بات صحیح یا غلط کی نہیں، تمہارا قصور یہ ہے کہ تم نے ایک گدھے سے بحث کیوں کی؟دراصل اس کیفیت سے ہم میں سے اکثر لوگوں کو اکثر گزرنا پڑتا ہے۔ ہر شخص کے اپنے نظریات ہوتے ہیں، میں بھی کچھ معاملات میں اپنی رائے رکھتاہوں۔ چنانچہ دوستوں کے درمیان اکثر ان مسائل کے حوالے سے بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ کبھی کبھار دوران بحث طرفین کے لہجوں میں تلخی بھی آ جاتی ہے مگر اس کے باوجود یہ احساس کبھی نہیں ہوا کہ کسی غلط مقام پر تقریر ہو رہی ہے۔ البتہ جونہی مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں بحث کسی گدھے سے کر رہا ہوں اسی وقت اس گدھے سے اجازت طلب کرلیتا ہوں۔گزشتہ دنوں ایک دوست میرے پاس آئے اور بولے یار! یہ مسلم لیگ (ن) والے کیا ڈرامے کرتے رہتے ہیں۔ انہیں سمجھانے والا کوئی نہیں؟ میں نے کہا ضرور ہوں گے مگر معاملہ کیا ہے؟ فرمایا یہ جو انہوں نے وزیراعظم کے بائی پاس کا ڈرامہ کیاہے، اس کی کیا ضرورت تھی؟ مجھے ان صاحب کی بات کچھ سمجھ نہیں آئی۔پوچھا آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ ۔ کہا یہی کہ بائی پاس وغیرہ کچھ نہیں ہوا۔ موصوف جیسے ہٹے کٹے گئے تھے ویسے ہی واپس آگئے ہیں! میں نے عرض کی اور یہ جو دنیابھر کے صدور اوروزرائے اعظم نے ان کی صحت کے لئے دعائیہ پیغامات بھیجے ہیں؟پاکستانی سیاست دانوں بمعہ عمران خان نے ان کی صحت کاملہ کی عا کی ہے اور ہسپتال کے ڈاکٹروں نے جنہوں نے ان کے چاربائی پاس کئے اور رپورٹس جاری کیں، یہ سب کیا ہے؟ کہنے لگے سب ڈرامہ ہے۔ سرے سے کوئی بائی پاس ہی نہیں ہوا! اس پر مجھے فوراً سمجھ آگئی کہ میری گفتگو اللہ تعالیٰ کی کس مخلوق سے ہو رہی ہے چنانچہ میں نے ان سے اجازت طلب کی، مجھے خدشہ تھا کہ اگر میں نے گفتگو مزید جاری رکھی تو یہ مخلوق کہیں مجھے دولتّی نہ جھاڑ دے!
ہمارے ہاں ان دنوں اس قماش کے تجزیہ نگار خاصی تعدادمیں پائے جارہے ہیں۔ بعض تو ٹیلیویژن پر بھی ہنہناتے نظرآتے ہیں۔ ان کے لہجے حتمی ہوتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ انہوں نے فرام ہارسز ماؤتھ سنا ہے۔ واضح رہے یہاں ہارس محاورے کی حرمت برقرار رکھنے کے لئے لکھنا پڑا ہے ورنہ ان کی صحبت اپنے ہم جنسوں ہی کے ساتھ ہوتی ہے۔ ابھی گزشتہ روز ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ فوج کو ملک پر قبضہ کرنیکی دعوت دینے ولااشتہار پورے ملک کے کونے کونے میں خود حکومت لگوا دیا ہے۔ مجھے حیرت ہوئی جب میں نے یہ بات چودھری اعتزاز احسن جیسے معقول شخص کی زبان سے بھی سنی۔ چودھری صاحب کو کچھ عرصے سے کچھ ہو گیا ہے۔ میری دعا ہے اللہ تعالیٰ انہیں جلد سے جلد صحت کاملہ عطا فرمائے اور وہ دوبارہ دانشوروں میں شمار ہوسکیں۔ جب ہمارے سیاستدان بھی محض اپنی سیاست چمکانے کے لئے ایسی باتیں کرنے لگیں تو سمجھ لیں وہ سیاستدان نہیں رہے کہ ایسی باتوں سے سیاست چمکتی نہیں سیاست بجھتے ہوئے دیئے کی طرح جھپکے مارنے لگتی ہے۔
ایک شیر بہت بوڑھا ہو گیا۔ ایک لومڑی اس کی جاننے والی تھی۔ بوڑھے شیرنے اسے ایک دن بلایا اور کہا تم جانتی ہو میں شکار کے قابل نہیں رہا۔ تمہاری مہربانی اگر تم کوئی جانور گھیر گھار کر میرے پاس لاؤ۔ میں اس کے شکار میں سے تمہیں بھی حصہ دوں گا۔ لومڑی مان گئی۔ مگر کہا کہ گدھے کا مغز تم مجھے دو گے۔ مجھے مغز بہت مزیدار لگتا ہے۔ شیر راضی ہو گیا چنانچہ لومڑی ایک گدھے کے پاس گئی اور کہا جنگل کا شیر بوڑھا ہو گیاہے۔ تمہارا قد کاٹھ، تمہاری آواز بہت رعب دار ہے۔ وہ چاہتاہے کہ تمہیں اپنا جانشین نامزدکرے۔ گدھا مان گیا اور شیر کے پاس چلا آیا۔ وہ جونہی شیر کے قریب پہنچا شیر نے اس پر حملہ کردیا مگر صرف اس کا ایک کان اس کے دانتوں تلے آیا جس پر گدھا بھاگ نکلا۔ لومڑی دوسرے دن پھر اس کے پاس گئی اور کہا تم گدھے کے گدھے ہی رہے۔ بادشاہ سلامت نے تمہاری جانشینی کااعلان اور ضروری ہدایات تمہارے کان میں کہنا تھیں کہ فی الحال وہ اسے راز رکھنا چاہتے ہیں مگر تم اتنے بیوقوف ہو کہ وہاں سے بھاگ نکلے۔ اب چلو میرے ساتھ اور دھیان سے بادشاہ سلامت کی بات سننا۔ گدھا لومڑی کی باتو ں میں آ کر اس کے ساتھ چل پڑا۔ جونہی وہ شیر کے قریب پہنچا اس بار اس نے اپنے جبڑے سیدھے گدھے کی گردن میں گاڑے اور اس کا تیا پانچا کر ڈالا۔ معاہدے کے مطابق لومڑی نے شیر سے کہا کہ اب مجھے اس کا مغز دے دو! جس پر شیر نے ہنس کر جواب دیا اگر اس کے سر میں مغز ہوتا تو ایک دفعہ دھوکہ کھانے کے بعد یہ دوسری دفعہ ادھر کا رخ کرسکتا تھا؟
سو ان دنوں بہت سے گدھے ہمارے اردگرد نظر آتے ہیں اور سیاسی معاملات پر اپنی پرمغز رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ ان سے بحث نہ کیا کریں ورنہ انجام اس گھوڑے والا ہی ہوگا۔ جس کا ذکر میں نے کالم کے شروع میں کیا تھا!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *