موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس

roqaya gazal...

’’میں تعلیم حاصل نہ کر سکا مگر میں نے مارکس اور لینن کی کتابیں پڑھی ہیں ،میں نے کربلا والوں کی زندگی کو پڑھا ہے ،میں نے ابوذر غفاری کی تاریخ پڑھی ہے اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اصل جنگ ظالم اور مظلوم کی ہے ،حاکم اور محکوم کی ہے ‘‘۔یہ الفاظ ہیں فخر پاکستان ،محسن انسانیت ،پیکر صبر و استقلال ،شانِ عظمت انسان ،مثل ایثار ،شان فقر ،افتخار آدمیت جناب عبدالستار ایدھی مرحوم کے جنھوں نے ذات پات ،رنگ و نسل ،تعصب ،ذاتی نفاق ،فرقہ پرستی ،ظاہری شان و شوکت اورفانی جاہ و جلال سے ماورا ہو کر اپنی زندگی گزاری حالانکہ وہ چاہتے تو شاہانہ طرز ندگی کو اپنا سکتے تھے مگر ان کے ہاں خدمت انسانیت کو فوقیت حاصل تھی یہی وجہ ہے کہ کم سنی میں ہی خود کو فلاحی و رفاعی کاموں کی طرف مائل کر دیا چونکہ اس کے لیے سرمایہ درکار تھااس لیے سخت مشقت کی اور ساتھ ہی ساتھ مدد کے لیے عوامی اپیل کی وہ کہتے تھے کہ ’’یہ میری نیت نہیں تھی کہ میں کسی کے پاس جا کر مانگوں ،بلکہ میں چاہتا تھا کہ قوم کو دینے والا بناؤں ،پھر میں نے فٹ پاتھوں پر کھڑا رہ کر بھیک مانگی ،تھوڑی ملی ،لیکن ٹھیک ملی جلد ہی بقول شاعر لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا ‘‘مگر خواب کی تعبیر پائی تو فقر کو فخرپر ترجیح دی اور واشگاف الفاظ میں کہا کہ’’ میرا مذہب انسانیت ہے جس کا ہر مذہب پیغام دیتا ہے اور میں انسانوں کے لیے جینا پسند کرتا ہوں‘‘ ۔۔بلاشبہ
فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ
اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ جب سے دنیا تہذیب و تمدن کی طرف بڑھی ہے بے شمار عظیم لوگ اپنے قدو قامت اور نام و منصب کی وجہ سے کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں ان میں سلاطین اور فاتحین بھی ہیں ،حکماء اور فلاسفر بھی ہیں،شعراء اور علماء بھی ہیں ،اہل زر اور اہل ہنر بھی ہیں لیکن یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ شہنشاہوں کی شان و شوکت کے ان کی حکومتوں میں ڈنکے تو بجے مگر انسانی عظمت کو نا قابل یقین چرکے لگے فاتحین نے ملک در ملک فتح کئے مگر دلوں کو فتح کرنے میں ناکام رہے ،فلاسفر فلسفیانہ موشگافیاں تو کرتے رہے مگرحقیقت کی زمین مسائل سے پر رہی اور وہ انسانیت کو ذلت کی پستیوں سے مکمل طور پر نکالنے میں ناکام رہے یعنی محض الفاظ سازی میں مشغول رہے اور کردار سازی میں زیادہ کامیاب نہ ہوسکے،حکما نے دقیق نقطے تو نکالے مگر ان کی روشنی میں درست سمتیں متعین نہ کر سکے بے شمار اہل زر خزانوں کے مالک تو بنے مگراکثر کسی غریب کی دل جوئی نہ کر سکے اصحاب ہنر کی ساری کوششیں اپنی ذات کے لیے ہی تھیں دوسرے لوگ ان سے مستفید کسی حد تک ہی ہو سکے یہ طے ہے کہ روز اول سے ہی اکثر اوقات انسان اپنے لیے جیتا ہے اور اپنا وقت پورا کر کے تہہ خاک چلا جاتا ہے بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کے لیے جیتے ہیں اور ایسے ہی انسانوں میں ایک عبدالستار ایدھی بھی تھے جو اب ہم میں نہیں رہے انا للہ وانا الیہ راجعون عبد الستار ایدھی مرحوم کچھ زیادہ پڑھے لکھے تھے یا نہیں مگر یوں لگتا ہے کہ وہ اپنے نام اور کام سے بخوبی آگاہ تھے اللہ کے بندوں کی ستر پوشی کرتے پوری زندگی گزار دی چاہے وہ کفن سے ہو یا لباس سے ہو ،خوراک سے ہو یا تعلیم و تربیت سے ہو ااس پر نہ کبھی فخر کیا اور نہ ان کے ظاہری و عملی قول و فعل سے ایسا محسوس ہوا کہ وہ کوئی احسان جتلا رہے ہیں اس شان فقر کا کیا کہنا کہ نہ برانڈڈ گاڑیاں ،نہ پروٹوکول ،نہ قیمتی پوشاکیں ،نہ سینکڑوں انواع و اقسام کے پکوان اور نہ زبان پر تفاخر کا نشان ۔۔ صد افسوس کہ افتخار آدمیت کا آخری باب بند ہوا بریں اثنا ان کا متبادل بھی کوئی نہیں ہے ۔کیا ستم ہے جس طرف نگاہ جائے نفرت ،تعصب اور فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے والے دکھائی دیتے ہیں مگرآگ بجھانے والا دور دور تک کوئی نظر نہیں آتا کوئی ہے ایسا مسیحا۔۔؟ جو کسی تعلق کے بغیربے گورو کفن گلی سڑی بد بو دار لاوارث لاشوں کواٹھائے اور کفن پہنائے ، کچرے کے ڈھیر پر پڑے گناہوں کو اپنائے ،اپنا نام دیکر سینے سے لگائے اور سکھ کا جھولا جھلائے ،گھر سے بھاگی یا بھٹکی ہوئی بیٹیوں کو چادر پہنائے اورعزت سے رخصت کرے ،بھوک گھٹن اور غربت سے مارے بھوکوں کو اس نیت سے کھانا کھلائے کہ اسے صرف ان کی بھوک مٹانی ہے نہ کہ شہرت بنانی ہے ،ننگ بدن کی ستر پوشی کرے مگر خود دو جوڑوں میں زیست گزاردے ،دوسروں کی اولادوں کو ماں اورباپ دونوں کا پیار بھی دے اور اچھی تعلیم و تربیت سے بھی مالا مال کرے مگر خود بیماری میں بھی یہ تہیہ کر لے کہ اپنے ملک میں ہی رہے گا بیرون ملک جا کر اپنا اعلاج نہیں کروائے گا کیونکہ اس جیسے کروڑوں لوگ اسی ملک میں اعلاج کرواتے ہیں تو وہ بھی تو انھی جیسا انسان ہے اس نفسا نفسی کے دور میں ایسا انسان ،اس جیسے اچھے اعمال ہم کہاں سے لائیں گے ۔یہاں تو کوئی توبہ توبہ کرے ،کوئی تھو تھو کرے ،کوئی دامن بچا کر چلے اور کوئی بچ کر گزر جائے ۔۔آہ ۔۔!بلاشبہ موت سے کس کو رستگاری ہے ۔۔آج وہ کل ہماری باری ہے، بے شک موت برحق ہے مگر آج ہم نے وہ گوہر نایاب کھو دیا ہے لگتا ہے جس کا خسارہ رہتی دنیا تک پورا نہ ہو سکے گا۔
اس کی مسیحائی کی گواہی اور کیا ہوگی کہ ایک رات جب ڈاکو ؤں نے اندھیرے میں انھیں لوٹ لیا اور روشنی میں پہچانا تو اپنے ساتھیوں کویہ کہہ کر سارا سامان لوٹا دیا کہ اوئے! ’’یہ عبدالستار ایدھی ہیں جب تم لاوارث پولیس مقابلے میں مارے جاؤگے اور تمہارے سگے بھی تمہیں پہچاننے سے انکار کر دیں گے تو یہی وہ انسان ہے جو انسانیت کیلئے آگے بڑھے گا اور تمہاری تدفین کرے گا ‘‘جس کی عظمت کا اعتراف لٹیرے بھی کریں اور جس کی وفات پر پورا ملک ،چاہے وہ کسی بھی مذہب یا فرقے سے منسلک ہو رو رہا ہو اور ہر زبان پر اس کے لیے دعا ہو اس روح کی قسمت کا کیا کہنا جو پرواز ہوتے ہی جنت کے باغوں میں پہنچ گئی ہوگی اللہ رب العزت ایسی دنیاوی اور اخروی کامیابی سب کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔آج ہمیں ایسے ہی مسیحاؤں کی اشد ضرورت ہے جو ذات کے خول میں قید نہ ہوں بلکہ حقیقتاً محسن انسانیت ہوں کہ وطن عزیز میں بہت اندھیرا ہے کہتے ہیں عبد الستار ایدھی نے آنکھیں عطیہ کر دیں ۔۔نہیں وہ آنکھوں سے محروم قوم کو بینائی دے گئے ہیں انھوں نے جاتے جاتے اپنا ویژن، نظریہ قوم کو عطاکر دیا ہے کہ طبقاتی استحصال پر مبنی نظام کا اب خاتمہ ہوجانا چاہیئے مگر بات سمجھنے کی ہے اور اسے نہ صرف عام آدمی کو سمجھنا ہوگا بلکہ خاص طور پر ہمارے حکمران اور بالا دست طبقے کو سمجھنا چاہیئے کہ
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آتے ہیں مرنے کے لیے
رہا مسئلہ انسانی زندگی میں دینی اعمال کی اس کمی بیشی کا کہ جانے والا مسلمان ہونے کے ناطے کس حد تک عبادات میں فکر مند رہا تھا تو یہ موضوع ایک کلمہ گو اور ایسی اچھی مہربان سیرت رکھنے والے عظیم انسان کے بارے ویسے ہی مناسب نہیں کہ اللہ رحیم و مہربان اور معاف کرنے والا ہے بظاہر تو ان کی صورت و سیرت واضح طور پر ایک اچھے مسلمان کی طرح تھی اور نبی ؐ نے فرمایا تھا کہ ’’تم میں سے بہترین وہ ہیں جو دوسروں کے لیے نفع بخش ہیں ‘‘تو اس لحاظ سے بھی وہ واقعی بہترین انسان تھے کہ ان کی ذات گرامی سے ایک زمانہ مستفید ہوا اور ان کے قائم کردہ ادارے ان کے لیے صدقہ جاریہ بن کر رہینگے اللہ تبارک و تعالیٰ مرحوم کی مغفرت کرے ،درجات بلند فرمائے اور ہر کسی کو ان کے نقش قدم پر چل کر خدمت انسانی کی توفیق بخشے ۔۔!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *