امریکا میں "کثیرالمنزلہ" کھیت تیاری کے مراحل میں

High Rise Farms

نیو جرسی -امریکی زرعی ادارہ ’’ایئرو فارمز‘‘ نیوآرک، نیوجرسی میں دنیا کا سب سے بڑا کثیر المنزلہ کھیت تعمیر کررہا ہے جو آئندہ چند ماہ میں پیداوار شروع کردے گا. یہ کثیر المنزلہ کھیت ایک پرانی اسٹیل مل کی جگہ تعمیر کیا جارہا ہے اور اس کا رقبہ 70 ہزار مربع فٹ (1.6 ایکڑ) ہے۔ اس میں کاشت کے لیے بنائی جانے والی الماریوں کی اونچائی 80 فٹ ہے اور توقع ہے کہ یہاں سے سالانہ 9 لاکھ  کلوگرام تک کی زرعی پیداوار حاصل ہوسکے گی؛ جو اسی رقبے کے روایتی کھیت کے مقابلے 75 گنا زیادہ ہوگی۔

اس سے بھی بڑھ کر وہ نظام ہیں جو اس کثیرالمنزلہ کھیت میں نصب کیے جارہے ہیں۔ مثلاً فصل اُگانے کے لیے دھوپ کے بجائے کم توانائی خرچ کرنے والی ایل ای ڈی روشنیاں، حشرات کش دواؤں سے پاک ماحول، پودوں کی جڑوں تک براہِ راست پانی پہنچانے والا آبپاشی کا خصوصی نظام جسے روایتی کھیتوں کے مقابلے میں 95 فیصد تک کم پانی درکار ہوتا ہے، اور ان سب امور پر نظر رکھنے والا ایک خودکار کمپیوٹر نظام وغیرہ۔

بچت کی غرض سے مختصر جسامت والی، ایسی خوردنی فصلوں کا انتخاب کیا گیا ہے جن کی گردو نواح کے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں زیادہ مانگ ہے۔ یہ فصلیں ری سائیکل کیے ہوئے پلاسٹک سے تیار کردہ چادروں پر اگائی جاتی ہیں جنہیں بار بار استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ضروری غذائی اجزا، پانی میں حل کیے جاتے ہیں اور پھوار کی شکل میں فصلوں پر براہِ راست برسادیئے جاتے ہیں۔ کثیرالمنزلہ کاشتکاری (Vertical Farming) کا تصور صدیوں پرانا ہے لیکن دورِ جدید میں اسے قابلِ عمل بنانے کی اوّلین کوششیں کولمبیا یونیورسٹی، امریکا کے سائنسدان ڈکسن ڈیسپومیئر نے 1999ء میں شروع کیں۔

ان کوششوں کا بنیادی مقصد کم سے کم اراضی استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنا تھا، خاص کر تیزی سے پھیلتے ہوئے شہروں میں سبزیوں کی بروقت اور کم خرچ فراہمی ممکن بنانے کے لیے۔ قبل ازیں برطانیہ، جرمنی، ہالینڈ اور چند ایک دوسرے یورپی ممالک کے علاوہ امریکا میں بھی کثیرالمنزلہ کھیت بنائے جاچکے ہیں۔ لیکن ایئروفارم کا مذکورہ کثیرالمنزلہ کھیت، اب تک اس نوعیت کا سب سے بڑا تجارتی کھیت ہوگا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *