فون ہیکِنگ کیس: برطانوی وزیر اعظم کے سابق دست راست مجرم قرار

coulsonبرطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے سابق میڈیا چیف اینڈی کولسن فون ہیکنگ میں ملوث قرار دے دئیے گئے لیکن رپرٹ مرڈچ کی ایڈی ربیکا برووکس، نیوز آف ورلڈ کی جانب سے شروع کردہ اپنے ڈرامائی ٹرائل سے بری ہو گئیں۔
کیمرون نے کولسن کواپنے ایڈی کے عہدے پر فائز رکھنے پر ٹیلی ویژن پرآکر قوم سے معافی مانگی ہے اور بتایا ہے کہ نیوز کارپوریشن کے مالک مرڈچ کو توہین آمیز انداز میں سنڈے ٹیبلوئیڈ بند کرنے پر مجبور کئے جانے کے تقریباً تین برس بعد یہ سکینڈل ان کے لئے بے حد مہلک ثابت ہوا ہے۔
لندن کے اولڈ بیلی کورٹ کی جیوری نے آٹھ روز کی سوچ بچار اور تقریباً آٹھ ماہ کی مفصل گواہیوں کے بعد اپنے فیصلے جاری کر دئیے ہیں، جنہیں ’’اس صدی کا مقدمہ‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
آتشیں بالوں والی جذباتی برووکس، جو کہ مرڈچ کے برطانوی اخبار کے شعبے کی سابق سربراہ ہیں، کو اس وقت عدالت میں موجود ایک نرس کو سہارا دینا پڑا جب عدالت کی جانب سے انہیں وائس میلز کو منقطع کرنے اور کہانیوں کے لئے سرکاری اہلکاروں کو رشوت دینے کی سازش کرنے کے الزامات سے بری کیا گیا۔
لیکن برووکس کے سابق محبوب اور نیوز آف دی ورلڈ میں بطور ایڈیٹر، ان کے جانشین، کولسن فون ہیکنگ میں ملوث ثابت ہونے کے بعد جیل بھیج دئیے گئے ہیں۔ جیوری ابھی بھی برووکس اور اخبار کے دسویں رائل ایڈیٹر کلائیو گڈ مین کے خلاف مزید الزامات کا جائزہ لے رہی ہے ۔
برووکس اور کولسن،دونوں کی عمریں 46برس ہیں اور وہ اخبار میں کام کرنے کے دوران کئی برس سے شادی کے بغیر باہمی تعلقات رکھتے رہے ہیں۔یہ ان کے حالیہ سکینڈل کا ایک اور رخ ہے جومقدمہ شروع ہونے کے بعد سامنے آیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *