چوتھی غلطی معاف نہیں ہو گی

Photo Attaul Haq qasmi sbمیں ان دنوں اپنے ٹی وی چینلز کے بعض عظیم تجزیہ کاروں کے تجزیوں سے محروم چلا آ رہا ہوں، اس کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ اس محرومی کی واحد وجہ یہ ہے کہ مجھے ان کے تجزیے منہ زبانی یاد ہو چکے ہیں، مثلاً یہی کہ پاکستان میں جمہوریت نہیں اور چونکہ جمہوریت نہیں چنانچہ فوج پر لازم ہے کہ وہ آگے بڑھے اور پاکستانی عوام کو اعلیٰ جمہوریت کے برکات و ثمرات سے بہرہ ور کرے وہ یہ بات اتنے کرخت لہجے میں نہیں کہتے جتنے کرخت لہجے میں، میں نے کہی ہے کہ آخر وہ دس جماعتیں پاس ہیں اور ڈائریکٹ حوالدارہیں البتہ ان کی گفتگو کا مفہوم یہی ہوتا ہے جیسا کہ میں نے ابھی عرض کیا کہ میں ان عظیم تجزیہ کاروں اور بعض اسی سطح کے عظیم کالم نگاروں کے فرمودات سے محروم ہوں تاہم مجھے اندازہ ہے کہ ترکی میں فوج کی ناکام بغاوت کے بعد ان کے دلوں پر کیا قیامت گزر رہی ہو گی، ان کی خواہش ترکی میں مارشل لاء لگوانے کی نہیں یہ تو پاکستان میں مارشل لاء چاہتے ہیں اور ترکی میں کامیابی پاکستان میں کامیابی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی مگر افسوس ہماری فوج ان کے مسلسل اکسانے کے باوجود اپنے فرائض آئینی حدود تک مرکوز رکھے ہوئے ہے ان لوگوں کی بے چینی کا اندازہ آپ ان کے ان ٹویٹر سے لگائیں جب ترکی میں فوج کی بغاوت کی خبریں آنا شروع ہوئیں خوشی سے ان کی باچھیں کھل گئیں اور فیس بک پر ان کے یہ ٹویٹر نظر آئے ۔
اردوان پاکستان میں پناہ لے گا
اردوان کا وقت ختم ہو گیا
ایک انگریزی اخبار کی سرخی EARD-GONE لیکن ہوا یہ کہ ان کے سارے خواب دھرے کے دھرے رہ گئے، ترک عوام مزاحمت پر اتر آئے اور اخباری سرخیوں کے مطابق لوگوں نے ٹینکوں کے سامنے سینے تان لئے جانیں دیکر فوجی ٹولے کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا اور جمہوریت کے خلاف سازش ناکام بنا دی ۔ترک عوام نے ہتھیار ڈالنے والے فوجیوں کی پٹائی کی۔ اعلیٰ افسران سمیت تین ہزار فوجی گرفتار کر لئے ان میں سے آٹھ ہیلی کاپٹر کے ذریعے یونان بھاگ گئے جنہیں یونانی حکومت نے گرفتار کر لیا وغیرہ وغیرہ ،اس سارے معاملے میں سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ ترکی کی اپوزیشن جماعتیں جو بجا طور پر طیب اردوان کے خلاف محاذ بنائے ہوئے تھیں وہ سب کی سب منتخب جمہوری حکومت کے ساتھ آن کھڑی ہوئیں اور سوشل میڈیا جس پر اردوان کی بہت گت بنائی جاتی تھی وہاں باغی فوجوں کی وہ گت بنائی گئی کہ انہیں برسوں یاد رہے گی خود پاکستان کا سوشل میڈیا بھی اب میدان میں اتر آیا ہے اور وہاں مارشل لاء کے حق میں حیلے بہانوں سے مہم چلانے والوں پر پھبتیاں کسی جا رہی ہیں چند پھبتیاں:۔
بینرز تو ہمارے ہاں لگے تھے شوخی ترکی کی فوج ہو گئی !
مارشل لاء کہیں اور لگانے کو کہا گیا تھا فرشتہ غلطی سے ترکی میں گھس گیا!
ترکی میں ناکام بغاوت پر لال حویلی میں پانچ روزہ سوگ کا اعلان...شیخ رشید کا منہ سرنگوں رہے گا !
مورخ لکھے گا کہ جب عالمی لیڈر ترکی میں ممکنہ مارشل لاء کی مذمت کر رہے تھے تب انگلی کا پجاری مذمتی بیان سے اس طرح ہچکچا رہا تھا جیسے تیسرا نکاح ماننے سے !
پاکستانیو!انقلاب ٹینکوں کے سامنے لیٹنے سے آتا ہے سڑکوں پر ناچ گانے سے نہیں!
پاکستان میں جب بھی مارشل لاء آیا کرپٹ سیاست دان ،کرپٹ صحافی اور کرپٹ جج پکے پھل کی طرح جرنیلوں کی جھولی میں جاگرے! مگر اب کے نہیں گریں گے !
تاہم مجھے آخری بات سے اتفاق نہیں اول تو ان شااللہ پاکستان میں مارشل لاء نہیں لگے گا صرف عمران خان اور طاہر القادری حکومت پر دباؤ کے لئے استعمال ہوتے رہیں گے اور کچھ تنخواہ دار عظیم تجزیہ نگار اور کالم نگار عوام میں موجودہ منتخب حکومت کیخلاف بے چینی پھیلانے میں لگے رہیں گے اور اس حکومت کے اچھے کاموں کو بھی غلط رنگ دینے کی کوشش میں ہر طرح کا اوچھا اور گندہ ذریعہ استعمال کریں گے ، البتہ ضمیر فروش ہر دور میں موجود ہوتے ہیں اور وہ خیر مقدم کے لئے ہمہ وقت تیار دکھائی دیتے ہیں۔ ان ضمیر فروشوں کے پیچھے کون ہوتا ہے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے مگر پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ ملک میں جتنے بڑے بڑے فلاحی اور ترقیاتی منصوبے شروع کئے گئے ہیں اگر یہ حکومت اپنے آئینی دور میں ان منصوبوں کی تکمیل میں کامیاب ہو گئی تو عوام اگلی ٹرم میں بھی انہی کو خدمت کا موقع دیں گے اور انگلی کے منتظر کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا بلکہ کسی بھی صورت میں کسی کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آئے گا۔ہم سب صرف ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اور کسی بھیانک صورتحال میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھے بھی تو یہ ہاتھ قبولیت کے بغیر نیچے آن گریں گے۔غلطی عموماً ایک بار معاف ہوتی ہے ، بار بار نہیں ہوتی!ہماری غلطیاں تو تین بار معاف ہو چکی ہیں !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *