Site icon DUNYA PAKISTAN

وزن کم کرنے کے بارے میں پانچ مغالطے

Share

چھٹیوں میں خوراک کا خیال رکھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ ڈنر، الوداعی کھانے، لنچ۔۔۔ کیلوریز سے بھرپور مزیدار کھانوں کی دعوتیں، اور نجانے کیا کیا۔

وزن کم کرنے کے بارے میں بہت سے مشورے دیے جاتے ہیں۔ اپنا خیال رکھنے کی خواہش کے باعث، ہم صحیح اور غلط معلومات کے درمیان فرق نہیں کر سکتے اور اسی لیے ہم کھانے پینے کی ایسی عادات اپنا لیتے ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں۔

ایسی ہی غلط معلومات سے بچنے کے لیے ہم یہاں ایسے پانچ مغالطے شیئر کر رہے ہیں جنھیں بہت سے افراد سچ مانتے ہیں۔

1 – وزن کم کرنے کا واحد طریقہ باقاعدگی سے سخت ورزش کرنا ہے

یہ تو بالکل ہی غلط ہے۔ زندگی میں چھوٹی چھوٹی ایسی تبدیلیاں لا کر، جن پر آپ باقاعدگی سے عمل کر سکیں، وزن کم کیا جا سکتا ہے۔

اس کا مطلب ہے زیادہ متحرک ہونا۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے مطابق ایک عام بالغ شخص کے لیے ہفتے میں کم از کم 150 منٹ کی جسمانی سرگرمی ضروری ہے۔ یہ سرگرمی تیز تیز چلنا یا سائیکل چلانا بھی ہو سکتی ہے۔

مختصراً یہ کہ آپ جتنی کیلوریز کھا رہے ہیں اس سے زیادہ آپ کو جلانی ہیں۔

2 – وزن کم کرنے کے لیے کاربو ہائیڈریٹس سے بچیں

نوے اور 2000 کی دہائی میں کم کاربز والی غذائیں بہت مشہور تھیں لیکن اب زیادہ لوگ انھیں پسند نہیں کرتے۔

لیکن اگر انھیں صحیح مقدار میں متوازن غذا میں شامل کیا جائے تو یہ وزن بڑھانے کا سبب نہیں بنتیں جب تک آپ اس میں مکھن اور کریم وغیرہ شامل نہ کریں۔

اناج اور براؤن چاول یا رئی سے بنی ڈبل روٹی جیسے کاربوہائیڈریٹس کھانا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔

اور آلو کھاتے ہوئے کوشش کریں کہ ان کا چھلکا نہ اتاریں تاکہ آپ کی خوراک میں فائبر کی مقدار برقرار رہے۔

3 – کچھ خاص غذائیں چربی جلانے میں مدد دیتی ہیں اور آپ کا ہاضمہ بڑھاتی ہیں

کچھ پرہیزی کھانوں میں انگور، لال مرچ یا سرکہ کے استعمال کا مشورہ اس بنا پر دیا جاتا ہے کہ یہ چربی ختم کرتی ہیں اس لیے وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔

میو کلینک (ایک امریکی غیر منافع بخش تنظیم جو کلینیکل پریکٹس، تعلیم اور تحقیق کے لیے وقف ہے) کے مطابق کسی کھانے سے آپ کی چربی نہیں جلتی، ہاں اتنا ضرور ہوتا ہے کہ آپ کا وزن کم ہونے لگتا ہے یا آپ کا ہاضمہ تیز ہو جاتا ہے اور بالآخر آپ کا وزن متاثر ہوتا ہے۔

میو کلینک کی ویب سائٹ کے مطابق ایسی غذاؤں میں، جیسا کہ اوپر بیان کی گئی ہیں، ہمارے جسم کے لیے ضروری غذائی اجزا کی کمی ہوتی ہے۔

اور اس طرح کی پابندیوں اور ان چیزوں کو استعمال کر کے کم ہونے والا وزن یہ سب چھوڑتے ہی ایک بار پھر بڑھ جاتا ہے۔

4 – ’کم چربی‘ یا ’چربی سے پاک‘ کا لیبل لگی غذائیں ہمیشہ صحت مند متبادل ہوتی ہیں

ڈبوں میں بند خوراک کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ان میں مصنوعی ذائقے شامل کیے جاتے ہیں تاکہ چربی کو کم کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ذائقوں کی کمی کی تلافی کی جا سکے۔

دوسری طرف میو کلینک کا کہنا ہے کہ چربی ہمیں پیٹ بھرے ہونے کا احساس دلاتی ہے جس سے ہمیں کافی دیر تک بھوک نہیں لگتی۔

’کیلوریز کم کرنے کے لیے چربی سے پاک خوراک کا انتخاب الٹا پڑ سکتا ہے کیونکہ اس کے فوراً بعد ہی ہمارا سنیکس کھانے کو دل کرتا ہے۔‘

5 – کھانوں کے بیچ سنیکس نہ کھانے سے آپ کا وزن کم ہو سکتا ہے

وزن کم کرنے میں سنیکس مسئلہ نہیں ہیں لیکن یہ بات اہم ہے کہ یہ سنیکس کس قسم کے ہیں۔

بہت سے لوگوں کو جسم میں توانائی کی سطح برقرار رکھنے کے لیے کھانوں کے درمیان کچھ کھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔

این ایچ ایس کی تجویز ہے کہ شوگر، نمک اور چربی سے بھرپور چپس، چاکلیٹ اور دوسرے سنیکس کھانے سے بہتر ہے فروٹ اور سبزیاں کھائیں۔

Exit mobile version