سبزہء پامال سے تو وجہء بربادی نہ پوچھ ۔۔۔۔۔!

غلام مصطفی میرانی 

ghulam mustafa mirani

ھمارے ایک عالم فاضل  دوست، جو نہ صرف آسمان علم و ادب کے درخشندہ  ستارے ہیں بلکہ اللہ رب العزت  نے انہیں شعور اور آگہی کی رشک آور دولت سے مالامال فرما رکھا ھے۔ بیان و زبان پر حاصل دسترس کو دیکھ کر اگر یہ کہا جائے کہ، یاران ھمسفر کے درمیان وہ مربی اور منابع کے مقام پر فائز ہیں تو  بے جا نہ ھو گا۔ بذلہ سنجی کے پیرائے میں جب اصلاحی اور فلاحی امور پر رھنمائ کرتے ھیں تو قاری تحریر کی لطافت میں کھو جاتا ھے اور کبھی کبھی "گمراہ" بھی ھو جاتا ھے ۔ کسی کج رو ادارے کی اصلاح مطلوب ھو یا منحنی مزاج فرد کی "حجامت" مقصود ،  ایسی درگت بنائیں گے کہ چھٹی کا دودھ یاد آ جائیگا۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے، ملکی حالات پر مضطرب،  وہ سماج اور سیاستدانوں کو جھنجھوڑ رھے ہیں اور انہیں ممکنہ خدشات سے ھوشیار کرنے میں مستغرق نظر آتے ہیں۔ کبھی پیار کے پیرھن میں رہ کر فہمائش و تلقین۔۔۔۔اور کبھی آھنی انداز سے زجروتوبیخ ۔۔۔۔۔۔ آنکھ میں بلائنڈ سپاٹ کی شناخت سے لے کر مطلعء سیاست پر امڈتے سیاہ بادلوں کے ادراک تک، بلا کی دور اندیشی اور کمال کی دیدہ وری پائ جاتی ھے ، خطرات کو بھانپتے ھوئے، تکرار سے تنبیہی تحریروں پر گامزن ہیں۔ اپنے حالیہ فکرانگیز کالموں کے ذریعے، 1971  سے اب تک جاری سیاسی ڈنڈ پیل ، کھینچاتانی اور اکھاڑ بچھاڑ  کے باعث وقوع پزیر حالات و عواقب کی نقشہ کشی کرتے ہوئے بار بار خبردار کیا اور  تفصیلات میں مذکور حوادث اور سوانح سے سبق سیکھنے کا احساس دلایا۔  بلا مبالغہ یہ ایک درد دل رکھنے والے محب وطن دانشور کا وجدان گیان ھے جو لائق توقیر اور متقاضیء تائید ھے اور انہی نصائح کی تعمیل میں ھی قومی قسمت کے سفینے کی فلاح اور بقا کا راز مضمر ھے مگر خو گر حمد ھے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے ، بصد احترام التماس ھے کہ جس طرح سارے دریاوءں کا رخ ایک ہی سمت یعنی جانب سمندر رھتا ھے اسی طرح ممدوح محترم کی، سیاسی سوال پر،  بیشتر تحریروں، تجزیوں اور تبصروں کا بہاوء اور جھکاوء بھی یکرخا محسوس ھوتا  ھے۔ جبکہ ان کے مقام و مرتبہ سے وابستہ امنگیں اور فکرودانش سے کشید کرنے والی حسرتیں بےلاگ اور روح پرور افکار کی توقعات باندھے ہوئے ہیں۔ انصاف کا تقاضا بھی یہی ھے کہ اتنے بڑے حجم کی تقلید کو ،  ذاتی پسند و ناپسند سے ماورا ہو کر، ابدیت سے معمور سچائ اور سلسال کی راہ دکھائ جائے ۔  نجانے کبھی کبھی صورتحال اس توقع سے علی الرغم کیوں محسوس ہوتی ھے مثلا" محولہ تاریخی تلخیوں کے تناظر کا تذکرہ کرتے ہوئے انکی تنقید کا زیادہ رخ خارجی عوامل کیطرف نظر آتا ھے۔ سیاستدانوں کے اندرونی انداز و اطوار  اور اعمال و ارتکاب پر توجہ سے زیادہ، سوانح کے نتیجے میں جنم لینے والےکرداروں پر ذمہ داری کا ملبہ ڈال دیا جاتا ھے، یہ طرز تکلم اور ریت روایت اور بھی بہت سے دوستوں کی تحریروں سے جھلکتی محسوس ھوتی ھے جو سیاستدانوں کو معصوم و مجبور جبکہ رد عمل میں ظہور پانے والے کرداروں کو بازیگر یا طالع آزما قرار دیتے ہیں۔ جبکہ تاریخی تناظر کے حقائق بالکل مختلف ہیں۔ ملک کے معتدل معیار مدبیرین کا خیال ھے کہ بہت سارے قومی سوانح کے پس منظر میں کار فرما اصل وجوہات سیاستدانوں کی بے اعتدالیاں،  کرپشن اور خود غرضیوں کے لا متناھی سلسلوں کا پایا جانا ھے مثلا" کل کے کالم میں جن واقعات کیطرف اشارہ کیا گیا ھے، ان کو ہی لے لیتے ہیں۔ ایوب خان کی مداخلت سے پہلے اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد، ھمارے سیاستدانوں کی سرگرمیوں ، سازشوں اور مناقشوں کا منظر کیسی شکل اختیار کر چکا تھا تھا ؟  اسی طرح 1971 کا سانحہ بنیادی طور پر کس کی ھٹ دھرمی کا رد عمل تھا  اور کون تھا جو اقلیت کے بل بوتے پر اکثریت کے جذبات سے کھیل رہا تھا ؟ نیوکلیئر پیش رفت میں بھٹو مرحوم کے مبتدیانہ کردار میں کوئ کلام نہیں مگر 1977 میں برپا ھونے والی ملک گیر تحریک سے پہلے قومی انتخابات میں عریاں دھاندلی کس نے کی کہ پورا ملک الحذر الاماں پکار اٹھا ؟ کیا اس منصوبہ بندی کے پیچھے  کسنجر کا ہاتھ تھا یا فوج نے یوں کرنے کو کہا تھا ؟  کچھ عرصہ قبل ایک کالم میں  ممدوح محترم نے نظام مصطفےا کی تحریک کو بھی عالمی سازش قرار دے ڈالا، محض اس آرزو سے  کہ پی پی پی کی نفسیات میں، موجودہ  حکومت کیلئے نرم گوشہ پیدا کیا جائےاور دھرنا ایام کیطرح اب بھی نام نہاد " مشترکہ قوت" کا بھرم بنام جمہوریت  باقی رکھا جائے۔ نظام مصطفے' کی  تحریک میں شامل تمام لوگوں کی جدوجہد  (بشمول خود) کو کسی بیرونی سازش یا منصوبہ بندی کا کھیل قرار دینا اور اب اس پر کف افسوس ملنا سراسر زیادتی اور تاریخی تکذیب ھے۔ ضیاالحق مرحوم کے سانحہ کا ذکر کیا۔ انہوں نے تو خود پیشین گوئ کر دی تھی کہ ملک اور امت مسلمہ کی  سربلندی کا جو علم میں نے اٹھایا ھے مگر مچھ مجھے زندہ نہیں رھنے دیں گے۔ افسوس ھے کہ حقائق سے انجان، آج کی نسل ضیاالحق کے کردار کو صرف بھٹو مرحوم سے اختلاف تک محدود رکھ کر دیکھتی ھے ورنہ اس زمانہ میں شمال سے سفید ہاتھی کی یلغار نے جن خوفناک چیلنجز کو  جنم دیا تھا ۔ اضطرار کے آغاز سے سپر پاور کی پسپائ اور  پھر پارہ پارہ ہونے تک ضیاالحق کے کردار سے کون انکار کر سکتا ھے۔! اسی اثنا میں سکھوں کی بیداری، تامل کی بغاوت نے بھارت کو ھلا کر رکھ دیا اور کشمیر کا مسلہ آسمان کی بلندیوں کو چھوتا ھوا پوری دنیا کیلئے مرجعء توجہ بن گیا ، ان تمام سرگرمیوں کے پس منظر میں کون تھا۔؟ پھر وہ وقت یاد کریں جب پاکستان مغربی محاذ پر روس سے نبرد آزما تھا تو مکار و موقع شناس ھندو بنیئے نے مشرقی باوءنڈری پر فوجیں اتار دیں، نوبت بہ اینجا رسید کہ پاک و ھند کی مسلح افواج آمنے سامنے استادہ، جنگ کیلئے بگل بجنے کی منتظر تھیں۔ دھونس و دباوء کی اس بے چین کیفیت میں، کون تھا جو کرکٹ میچ دیکھنے کے بہانے عازم انڈیا ھوا اور  بن بلائے وھاں جا پہنچا ۔ راجیو گاندھی کے کان میں پھونک ماری تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی ہی رہ گئیں کہ " اسلام آباد میری واپسی تک، انڈین افواج کو باوءنڈری لائن سے پیچھے نہ ھٹایا گیا تو اسے اعلان ایٹمی جنگ سمجھیں جس میں پاکستان شائد نہ رھے مگر یاد رکھنا کہ ھندوستان میں ایک بھی ھندو باقی نہیں بچے گا کیونکہ دنیا کے  کونے کھدرے میں  جب تک ایک بھی مسلم موجود ھے، پاکستان کیلئے لڑے گا۔۔۔۔۔"۔ آج  یہ باتیں بظاھر افسانہ لگتی ھیں مگر زمانہ گواہ ہے کہ اس وقت پاکستان کا پھریرا پوری دنیا میں بالعموم اور مسلم ممالک میں باالخصوص ، بڑی  آن بان شان سے لہرا رہاتھا۔ تب تک بھارت، پاکستان کی نیوکلیئر مقاصد میں مکمل تیاری سے بے خبر تھا۔    مدوجزر کے اسی دور میں، ضیاءالحق مرحوم  نے ایک طرف تین اسلامی ملکوں کی کنفیڈریشن پر کام شروع کیا تو دوسری سمت اسلامی ممالک میں باھم اتحاد و یگانگت کیلئے ایک موثر مہم چلا دی  جس سے امریکہ اور یورپ میں بھونچال آگیا۔ پوری امت مسلمہ کی متفقہ طاقت کے خواب دیکھنے والےضیاءالحق نے، جب اپنے خلاف بڑی طاقتوں کے تیور بدلتے دیکھے تو خود ہی اپنے انجام کو بھانپ لیا تھا مگر ملک و ملت کے مفاد پر کبھی سرنگوں نہ ھوا۔  عالمی سطح پر جارحیتوں، اویزشوں، سازشوں اور چیلنجوں کے لحاظ سے یہ ایک منفرد نوعیت کا دور تھا۔۔۔اب  ذرا ملک کے اگلے سیاسی ادوار کیطرف چلتے ہیں۔۔۔۔۔چھانگا مانگا  ، مری اور ایبٹ آباد کے پیکیجز کی سیاست کا دور شروع ھوا۔ بولیاں لگ رھی تھیں اور بورے بھرے جا رھے تھے۔ بریف کیس گنتی سےنہیں، تولنے پر اٹھائے جاتے تھے ۔ جمہوریت کی گاڑی پر سوار اور قوم کا بار امانت اٹھا کر آنے والے انسان نما حیوانوں نے گھوڑے گدھوں کا روپ دھار کر بدکنا اور بکنا شروع کر دیا۔ خرید و فروخت کی کھلی منڈی سج گئ تھی۔۔۔دھن دھندھوں کی مہیب  دھند میں نہ کوئ بیرونی مداخلت دکھائ دیتی تھی اور نہ فوج کا ڈنڈا۔۔۔۔۔ھوس زر کا ضمیر فروش عفریت دندنا رہا تھا۔ بدنام زمانہ سیاسی کشمکش کے اس دور میں  یہ سارے مکروہ داوء پیچ ھمارے سیاستدان ہی آزما رھے تھے۔ یاد ھے وہ کون لوگ تھے ؟ اقتدار اور اختلاف کی مسندوں پر متمکن آج کے ھیروز اور اس دور کے سالار کارواں اور مصاحبین !!!
آیئں، اب ذرا بعد کے دنوں کو یاد کرتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کا آفتاب اقتدار نصف النہار پر دمک رہا تھا اور سردار فاروق احمد خان لغاری صدر پاکستان تھے۔ وھی فاروق احمد خان ، جس کے سر پر دستار فضیلت رکھ کر بی بی، بابے، ببو،  ببر، سب تفاخر کے جذبوں میں جھوم رھے تھے اور استکبار سے پھولے نہیں سما تے تھے کہ منصب صدارت پر فائز کیا جانے والا جیالا تہجدگزار اور مسٹر کلین مین ھے۔ آنے والے ایام  میں بھی مادام نے مدارات کو ملحوظ رکھا اور زبان تخاطب میں ھمیشہ مقام محترم سے نوازا۔  چنانچہ جب بھی ان سے ھمکلام ھوتیں، تالف و تکریم سے مکلف اور اپنائیت سے مشکبار انداز میں فاروق بھائ ، فاروق بھائ   کہہ کر پکارتیں۔۔۔۔۔۔۔۔پھر کیا ھوا ؟ دھیرے دھیرے حالات ابتر ھونا شروع ھوئے۔ ملک، معیشت اور معاشرے پر "شب دیجور" نے سائے پھیلا دیئے۔ فسطائیت کے گھپ اندھیرے میں کرپشن ، قحط ، قانون شکنی اور قنوطیت کا عریاں رقص شروع ھو گیا ۔ مدھوش میکدے کے جام و مینا چھلکنے لگے تو قانون قدرت کے فطری رد عمل نے آلیا۔۔۔۔۔اسی فاروق بھائ  نے اپنے ھی ہاتھوں سے، اپنی حکومت کو چلتا کیا اور وطن عزیز میں ایک اور انقلاب نے کروٹ لے لی۔۔۔!  آیا اس اقدام پر لغاری صاحب کو امریکہ نے اکسایا تھا یا افواج پاکستان نے ؟ نہیں ، وہ خود ہی اپنے منصوبے کے موجد و معمل تھے بلکہ بعد کے انکشافات نے تو یہ بھی واضح کر دیا کہ اپنے آئینی اختیارات کے تحت، فوج سے تعاون کی درخواست صدر صاحب نے خود ھی کی تھی اور غایت انقلاب کا ' بیانیہ ' جمہوری حکومت کی لامحدود کرپشن  وضع ہوا تھا۔۔! قوم سے صدارتی خطاب کے دوران ، الزامات کے شمار وشواھد کی طویل فہرست کو ایک طرف رکھیں ،  اس واقعہ سے چند ایام  پہلے، آپ اپنے  اور دیگر معتدل مزاج اخبار نویسوں کے کالم، تجزیئے اور تبصرے ملاحظہ فرما لیں۔ سب کچھ ذھن میں لوٹ آئیگا بشرطیکہ نگاہ میں بلائنڈ سپاٹ مانع نہ آئیں۔۔۔۔۔۔۔!
بدلتے زمانے اور کروٹیں لیتے حالات کے ساتھ ساتھ اب آپ آگے بڑھیں اور اگلے دور کے قصے کارستانیاں یاد کریں ۔
غلام اسحاق خان، معاملات اور حب الوطنی کے حوالہ سے کیسا انسان تھا ؟ زمانہ دیانت اور پارسائ کی قسمیں اٹھاتا ھے مگر مرد درویش کی نوازشریف صاحب سے نہ بن پائ۔ اسحاق خان کے خطاب اور ان دنوں کی سلگتی خبروں کو یہاں دھرانے کی ضرورت نہیں مگر اس حقیقت میں کیا شک ھے کہ سیاسی دھینگا مشتی میں نہ امریکہ ملوث تھا اور نہ ہی فوج للچائی تھی بلکہ چوب بدست سپہ سالار فوج تو متحارب صدر اور وزیر اعظم کو مصالحت و مفاھمت کی طرف ہانک رہا تھا۔۔۔۔وہ سارا کھیل تماشا قوم کہاں بھولی ھے !
چلیں تاریخ کا ورق الٹتے ہیں اور  عجوبوں کے اگلے دور میں داخل ھوتے ہیں۔۔۔!
طالع آزمائ اور شوق فرمائی نے بیٹھے بیٹھے ذائقہ بدلی کیطرف راغب کیا تو ایک عالی مزاج آرمی چیف کے کیرئر کو قربان گاہ میں  سولی پہ لٹکا ڈالا گیا۔ متبادل کے طور پر، نظر انتخاب منگلا چھاوءنی میں جناب پرویز مشرف پہ جا ٹھہری جن کے  ظہور کا پس منظر نہ تو امریکہ تھا اور نہ ھی فوج ۔ بہر کیف ایک طویل سیاہ دور کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا جو اپنے تولد سے تخت نشینی تک، صرف اور صرف محترم میاں محمد نواز شریف کی شوق وشغف سے لبریز لغزشوں کا ماحصل تھا، سو مکافات عمل کا سب سا پہلا نشانہ بھی میاں صاحب ہی بنے۔  دور خرافات کے اگلے آٹھ نو سال کے وبال کا ذمہ دار کون کون تھا ؟ کوئ غیرمرئ مخلوق نہیی ، نام نہاد سیاستدانوں کے انبوہ در انبوہ ہی تھےجو مشرف صاحب کے "حسن و جمال" کی ثناخوانی کرتے اور انکے "کارناموں" پر رطب اللساں نظر آتے تھے، یہاں تک کہ اس کا منحوس مکا بھی انہیں " ید بیضا " سے کیا کم نظر آتا تھا۔ ھر ٹیڑھے ترچھے اقدام اور جہول جلادی حرکت میں اس کے دست و بازو بن گئے اور اپنا الو سیدھا کرنے کیلیئے قوم کو الو بناتے رھے۔ مشرفی دور اقتدار کے بحر نوازشات میں، مفاد پرستوں کے اس ٹولے نے جی بھر کر اشنان کیا، انتخابات میں جھرلو اور خزانے پہ جھاڑو پھیرنے میں کوئ کسر نہ چھوڑی۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
اس طرح مختلف ادوار کے بطن  سے جنم لینے والے متنوع سورماوءں کی روح فرسا داستانیں اور  سارقین وطن کے دلشکن لچھن  !! ایک دراز  کوفتہ کہانی ھے، کہاں تک سنو گے، کہاں تک سنائیں !!!
آج بھی جو حالات ہیں، چنداں مختلف نہیں،  معمولی تفریق سے یکساں ہیں۔ وھی رنگ ڈھنگ اور ویسی ھی چال ڈھال ۔ جناب کی طرح ، خاکسار کی خواھش بھی یہی ھے کہ سسٹم زمین بوس نہ ھونے پائے اور اغلب یقین ھے کہ ھر معتدل اور غیر متعصب شہری،جو بھی مبینہ "بلائنڈ سپاٹ" سے مبرا ھو گا یہی آرزو کرے گا۔ ملک عزیز،  مسلم جمہور کی بیمثال جدوجہد کا ثمر ھے اور جمہوریت ہی اسکی بقا، ارتقا اور خوشحالی کیلئے ٹھوس ضمانت ھے مگر شفاف،  مصلح ، معتبر ، منصف اور معتدل مزاج قیادت کے ساتھ جو نہایت ہی دیانتدار ، بےلوث ، سادہ اور جفاکش ھو۔ جنکی بود و ماند سے بے داغ ماضی، صاف ستھر ے حال اور چراغ مستقبل کے آثار آشکارا ھوں، نہ کہ کراں تا کراں ڈاکوں کی فوج ظفر موج، جو معیشت کو مفلوج اور ملک کو تاراج کر کے چھوڑے۔ یہی کچھ اب تک ھوتا آ یا ھے۔ انہتر سال پہلے آذادی کی صبح تاباں سے آج اندھیروں میں ڈوبتی شام تک، سارا قومی سفر افسردگیوں سے معمور ھے۔ مقتدرین متمول اور ملک مفلوک ھو گیا۔  اس لیئے  "موجود و غائب" پر متعین "کراما' کاتیبین" قصہء زمین، برسر زمین چکانا چاھتے ہیں اور  "محشر" کی  یہ گھڑی دور نہیں،  قریب آن پہنچی ھے ۔ کسی ایک فرد یا گروہ کیلیئے نہیں، سب کیلیئے۔۔۔۔۔ حال و سابق حکمرانوں اور ان کے کلہم کارندوں کیلیئے، خواہ سویلئن ھیں یا فوج کے کندھوں پر بیٹھ کر قدم اٹھانے والے قابضین قلمرو۔۔۔سب کو احتساب کی یکساں کسوٹی پر کسنے کا وقت آ رہا ھے۔ کلیئرنس کی سند پل صراط کے امتحان سے مشروط ھوتی نظر آ رھی ھے۔  آواز خلق اور صدائے وقت کو کون دبا سکتا ھے۔ ابلتی ھنڈیا میں کھولتے پانی کی طرح لوگ بپھر چکے ہیں اور یہ حرارت کہیں اور سے نہیں، آپ کے میڈیا سے سلگتی آگ نے پہنچائی ھے۔ ھماری سوچ اور عوامی کھوج میں کاہ اور کوہ کی نسبت کا سا فاصلہ ھے۔ عوام قومی خزانہ پر پھیرے جانے والے سہاگوں اور سرگزشت کا حساب مانگتے ہیں جناب بلاول کی آیئندہ تاج پوشی سے قبل دبئ، یورپ، سرے محل اور سوئس بنک کے اسرار  تک دسترس کے طلبگار ہیں۔ اسی طرح قوم محترم میاں نواز شریف صاحب اور مصاحبین و اقارب کو بھی احتساب کے مقیاس و معیار سے ماورا نہیں دیکھنا چاھتی اور نہ اثاثوں کے اخفا یا اظہار میں کذب پر معافی دینے کیلیئے تیار ھے۔ جناب میاں صاحب، اگر صاف ھیں، تو جراءت کے ساتھ آگے بڑھیں اور سینہ تان کر صفائ پیش کردیں۔وقت بگٹٹ رواں دواں ھے۔  تاخیر، تقصیر کی علامت اور تادیب کا پیش خیمہ ثابت ھو سکتی ھے۔
پبلک کی پہچان اور ژرف نگاہی، جناب عمران خان کی "کہکشاں" پر بھی کمندیں ڈال چکی ھے۔ شاھینوں کی صحبت میں زاغ و زغن کا وجود چھپائے نہیں چھپایا جا سکتا۔ مسٹر مکرم کو ٹھگوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ھوگا ورنہ اپنی "عاقبت" مخدوش کر بیٹھیں گے۔ جی ہاں ! قدرت اور فطرت کا تقاضا یہی ھے کہ احتساب سب کیلئے۔ جہاں پناھوں کیلئے بھی اور پناہ دھندگان سمیت پناہگیروں کیلئے بھی۔۔۔! لہذا خان صاحب کو گھر کی اصلاح سے خود ھی پہل کرنی چاھیئے اور پناہ میں موجود، پرانے پاپیوں کو پل بھر میں  پرے نکال پھینکنا چاھیئے۔
رھی نظام کی نقاھت یا عوام کی نمائندگی تو سیاستدانوں اور " سہولت کاروں" کو فکر کی ھرگز ضرورت نہیں ، دیہی کہاوت ھے کہ ایک بیل کو چور بھگائے جارھے تھے، سرراہ کسی نے روکا اور ازراہ ھمدردی چونکا کہ
" بیل رے بیل !   تمہیں چور بھگائے جا رھے ہیں۔۔۔! "
" مجھے کیا فرق پڑتا ھے چور کا گھر ہو، یا کسی اور کا ، میرے نصیب میں سب کا کردار ایک جیسا ھے " بیل کا جواب تھا۔۔۔۔۔
جناب عالی ! جمہوریت ہو یا آمریت، فوج ھو یا کچھ اور ھو۔۔۔۔۔ھر دور میں عوام سے برتاوء بیل والا ھوتا رہا ھے، وہ بیزار ہیں، اور مختلف رنگوں کے ملبوسات میں موجود، خونخوار نما گھسے پٹے یکساں  نظام سے در اصل نجات چاھتے ہیں۔ بہت ھو چکی، آمریت کے آلام میں جمہوریت کی تسبیح کرتے کرتے اور جمہوریت کے جبر میں آمریت کو پکارتے پکارتے !!  انہتر سال اس حال میں گزر گئے کہ اب دامن میں اشک و آہ کے ماسوا کچھ نہیں رہا اور نہ ھی مستقبل قریب میں کچھ سجھائی دیتاھے۔۔۔۔۔!!!

اک عمر تھی جس کو کاٹ چلے ،  پر جانے  کیسا  جینا  تھا ؛
کچھ اپنوں سے کچھ غیروں سے، بس چوٹیں کھاتے بیت گئ !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *