زیادہ خوبصورتی نے زندگی کو مات دے دی

  میرا سیٹھی معروف اینکر پرسن نجم سیٹھی کی صاحبزادی ہیں اور گاہے گاہے نیویارک ٹائمز میں لکھتی رہتی ہیں، ان کی تازہ تحریر اردو ترجمہ کے ساتھ 'دنیا پاکستان' کے قارئین کے لیے پیش خدمت ہے (ادارہ)

meera sethi

گزشتہ جمعہ کی رات پاکستانی کی سب سے متنازعہ سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ کے ان کے بھائی نے غیرت کے نام پر بے دردی سے گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔ بہت سے پاکستانیوں کی طرح مجھے یہ واقعہ بہت خوفناک لگا لیکن مجھے اس واقعہ سے کوئی حیرانگی نہیں ہوئی۔ میں اکثر ان کی مزاحیہ اور بے معنی لیکن مزیدارویڈیو دیکھا کرتی تھی۔

قندیل کا اصل نام فوزیہ عظیم تھا۔ وہ ایک پنجابی گاوں کی طلاق یافتہ عورت تھی۔ ایک بار انہوں نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ میرا سر بہت دکھ رہا ہے۔ ان کا مقصد اپنے چاہنے والوں کی توجہ حاصل کرنا تھا۔ وہ اس مقصد میں کامیاب بھی ہوئیں۔

پھر انہوں نے مزید بولڈ سینز والی ویڈیوز دینا شروع کیا اور پاکستانی ٹیم کو ٹرافی جیتنے پر سٹرپ ٹیز کا وعدہ کیا۔ انہوں نے عمران خان سے شادی کرنے کا اظہار بھی کیا۔ وہ اکثر 'عمران کھان' کہا کرتی تھیں۔

پھچلے ماہ رمضان میں انہوں نے مفتی عبد القوی کے ساتھ اپنی تصاویر شئیر کیں جس میں انہوں نے مفتی صاحب کی ٹوپی سر پر پہن رکھی تھی۔ ہر دوسری چیز کی طرح وہ تصاویر بھی وائرل ہو گئیں۔ جس کی بڑی وجہ روئیت ہلال کمیٹی کے اہم ممبر اور مذہبی شخصیت کے ساتھ ایک سوشل میڈیا شخصیت کی تصویریں تھیں۔

janaza

ایک نیوز کانفرنس میں قندیل کے بھائی نے اعتراف کیا کہ انہوں نے قندیل کو قتل کیا کیونکہ ان کی سیکسی ویڈیوز ان کے خاندان کے لیے بدنامی کا باعث تھیں۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق یہ ایک غیرت کے نام  پر قتل تھا اگرچہ نہ تو قندیل کسی لڑکے کے ساتھ بھاگی تھی اور نہ ہی انہوں نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف شادی کی تھی۔

ان کا گناہ یہ تھا کہ وہ کھل کر اپنے آپ کو منوانا چاہتی تھیں۔ کچھ عرصہ قبل سےوہ اپنےآپ کو ایک آزاد خیال عورت کے طور پر متعارف کروا رہی تھیں۔  میڈیا رپورٹس کے مطابق قندیل کے قتل کے وقت ان کے والدین چھت پر تھے۔ قندیل کے والد نے بتایا کہ قندیل پورے خاندان کو مالی طور پر سپورٹ کرتی تھی۔ یہاں تک کہ وہ اس بھائی کی بھی مددگار تھی جس نے اسے مار ڈالا۔ پولیس نے قندیل کے ایک بھائی کو گرفتار کر لیا ہے اور دوسرے کی کھوج جاری ہے۔

جو لوگ ان کی ویڈیوز پر تنقید کرتے تھے انہیں قندیل کی موت پر اور بھی غصہ آیا۔ انہوں نے فیس بک پر لکھا کہ انہیں مر ہی جانا چاہیے تھا۔ کچھ لوگوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ ان کے خیال میں قندیل کے ناپسندیدہ حرکتوں کے باوجود انہیں سزا دینے کا حق صرف اللہ کو ہے نہ کہ کسی انسان کو۔ عورتوں نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی صرف اس بات پر قتل کا حق نہیں مل جاتا کہ وہ اسے ناپسند کرتا ہو۔

قندیل بہت دلیر عورت تھی۔ مجھے وہ اس لیے پسند تھی کہ وہ اپنے آپ کو منوانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھی اور اپنی مرضی کی مالک خود تھی۔ پاکستان میں ایکٹریس بننے کا مطلب اپنے آپ کو پورے طریقےسے خطرے میں ڈالنے کے برابر ہے۔ عورتوں کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا  ہوتا ہے۔ زرا سی چونک زندگی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ قندیل نے یہ حد پار کر لی اور اسے جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔

پاکستان نے ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا عزم کر رکھا ہے اور طالبان کے نظریہ اسلام کو پاکستانیوں نے مسترد کر دیا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی کہیں کہیں طالبان کی روایات پر ہی چلنے کے دلدادہ ہیں جس میں غیرت کے نام پر قتل جیسے اہم معاملات شامل ہیں۔ ہم سعودیہ میں عورتوں پر ڈرائیونگ پر پابندی پر تنقید کرتے ہیں لیکن موٹر بائیک چلانے والے عورتوں کو نفرت اور حقارت سے دیکھتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ طالبان کے بچیوں کو سکول نہ بھیجنے  کے فیصلے پر احتجاج کرتے ہیں لیکن بہت سے عوام ملالہ یوسف زئی پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں۔

قندیل نے اپنے خوبصورتی اور عزم سے ماڈرن پاکستان کے اصولوں کو چیلنج کیا۔ اپنے قتل سےدو دن قبل لیے گئے انٹرویو میں ایک کالر نے ان سے پوچھا کہ وہ اپنی شہرت کے ذریعہ پاکستان کے لیے کچھ اچھا کیوں نہیں کرتیں؟ انکا جواب تھا: میں کرنا چاہتی ہوں لیکن مجھے بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ میرے خلاف کئی کیسز درج ہیں۔ کئی تنازعات کا سامنا مجھے اکیلے کرنا پڑتا ہے۔ میرے بھائی میرے قتل کے درپے ہیں۔  اس اہم موقع پر کالر اور اینکر دونوں نے قندیل کے آخری جملے کو نظر انداز کر دیا اور کالر نے پھر انہیں کچھ اچھا کرنے کا مشورہ دیا۔

گرفتاری کے بعد ان کے بھائی کا کہنا تھا کہ اس نے خاندان کی عزت بچانے کے لیے صحیح قدم اٹھایا ہے۔ اب پاکستان ایسے بہت سے قاتلوں کی وجہ سے قابل فخر ملک بن گیا ہے۔

source:newyorktimes

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *