ذیابیطس سے بچنا ہے تو یہ تحقیق پڑھ لیں

55

اخروٹ کھانے کی عادت بلڈ شوگر لیول کو کم کرنے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو سے تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ ٹفٹس یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اخروٹ، سورج مکھی کے بیج، سویا بین، مچھلی اور سبزیوں کے تیل وغیرہ کے استعمال سے ذیابیطس جیسے مرض سے بچا جاسکتا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اجناس، چینی اور حیوانی چربی کے متبادل کے طور پر اخروٹ وغیرہ کا استعمال معمول بنالینا صحت مند زندگی کی کنجی ثابت ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران 4600 افراد کو مختلف اجزاءپر مشتمل کھانوں کو فراہم کیا گیا جن میں چربی اور کاربوہائیڈریٹس کا خیال رکھا گیا۔ ان غذاﺅں کے میٹابولک صحت یعنی بلڈ شوگر، انسولین، انسولین کی مزاحمت اور حساسیت پر اثرات کو دیکھا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ اخروٹ اور دیگر بیجوں پر مشتمل فیٹ یا چربی کے بلڈ گلوکوز کی سطح پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ محققین کا کہنا تھا کہ روزانہ کچھ مقدار میں اخروٹ کھانے کو عادت بنالینے سے ذیابیطس جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہونے کے خطرے میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔ یہ تحقیق طبی جریدے جرنل پلوس میڈیسین میں شائع ہوئی۔ اس سے قبل گزشتہ سال کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ روزانہ دو اخروٹ کھانا امراض قلب سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق اخروٹ میں ایسے پروٹینز، وٹامنز، مرلز اور فیٹس ہوتے ہیں جو جسم میں کولیسٹرول لیول کو کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں جس سے دل کے دورے کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ نتائج سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ نٹس جیسے اخروٹ خون کی شریانوں سے متعلق امراض کے خطرات کو کم کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اخروٹ کو کھانے سے کولیسٹرول ، گلیسرول، ایل ڈی ایل کولیسٹرول اور اے پی او بی کی سطح میں کمی آتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *