پاکستانیوں کی تقدیر سے نہ کھیلیں!

Photo Attaul Haq qasmi sb

ہمارے مثالی حکمران خلفائے راشدین ہیں تاہم ان دنوں ہم مغربی ملکوں کے حکمرانوں کو اپنے آئیڈیل کے طورپر پیش کرتے ہیں، ہم اس نوع کی خبریں اور تصویریں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں جن میں وہ پٹرول پمپ پر اپنی گاڑی میں خود پٹرول ڈلوا رہے ہوتے ہیں یا بغیر کسی سکیورٹی کے گھومتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ خدا نہ کرے وہاں کوئی وزیرستان بنے یا کسی وزیر اعظم اور چیف جسٹس کے بیٹے اغوا کئے جائیں، جہاں آئے روز بازاروں میں خواص و عوام کے چیتھڑے اڑتے دکھائی دیں، جہاں گلیاں اور بازار خون میں نہائے ہوئے ہوں، اگر خدانخواستہ کبھی ایسا ہو تو پھر وہاں کا کوئی حکمران اپنی کار میں پٹرول ڈلواتا نظر نہیں آئے گا۔ویسے بھی ہم لوگوں کی خوش فہمی ہے کہ مغربی ملکوں میں حکمرانوں کی سکیورٹی کا اہتمام نہیں کیا جاتا، یہ انتظام مکمل طور پر کیا جاتا ہے اس کا کچھ حصہ دکھائی دیتا ہے اور بہت سا حصہ (Invisible)دکھائی دینے والا نہیں ہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ وہاں حکمرانوں کی سکیورٹی تو کی جاتی ہے، ان کے شاہانہ پروٹول کا کوئی اہتمام نہیں ہوتا، ان کے قافلے میں بیسیوں گاڑیاں نہیں ہوتیں اور نہ ٹریفک میں زیادہ دیر رکاوٹ ڈالی جاتی ہے، ہمارے ہاں غیر معمولی سکیورٹی مجبوری ہے، مگر پروٹوکول ایک لعنت ہے جس کا جلد سے جلد خاتمہ ضروری ہے۔
اس میں قطعاً کوئی شبہ نہیں کہ خلفائے راشدین کا دور ایک مثالی دور تھا ، وہاں خلیفۂ وقت کھجور کے درخت کے نیچے اپنے بازو کو سرہانہ بنائے سستاتا ہوا بھی مل جاتا تھا، ہر کوئی ہر وقت ان سے ملاقات کرسکتا تھا، مگر ہوا یوں کہ دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ٹارگٹ کرکے شہید کیا گیا، تیسرے خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شہید ہوئےاور چوتھے خلفیہ راشد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بھی ٹارگٹ کرکے شہید کیا گیا، جس کے بعد ملوکیت کا آغاز ہوگیا اور اسلام میں کئی فتنوں نے بھی جنم لیا۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے سے پاکستان خوفناک مسائل سے دوچار چلا آرہا ہے، انہوں نے جن فتنوں کا بیج بویا تھا وہ فتنے آج تناور درخت کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ہمارے دانشوروں، تجزیہ کاروں اور کالم نگاروں کو چاہئے کہ وہ ان فتنوں کے خاتمے کے لئے اپنی عقل و دانش کو استعمال میں لائیں، وہ حکمرانوں، سیاست دانوں، فوج، عدلیہ اور دوسرے ریاستی اداروں کو اس منزل کی سمت لے جانے کی کوشش کریں جو پاکستان کو ایک فلاحی جمہوری ریاست کے قیام کی طرف لے جانے والی ہو۔ ہمیں اپنے قلم اور زبان کی طاقت کا غرور نہیں ہونا چاہیے، طاقت پر گھمنڈ نہ کرنے کا جو مشورہ ہم حکمرانوں کو دیتے ہیں وہ مشورہ اور اس پر عمل ہمارے اپنے لئے بھی ہونا چاہیے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم مثال حسینؓ کی دیتے اور بیعت یزید کے ہاتھ پر کرتے ہیں، ہم اپنی منزل مدینہ بتاتے ہیں اور ہمارا رخ کوفے کی طرف ہوتا ہے۔ ہم قارون پرتبرا بھیجتے ہیں اور خود قارون بننے کے لئے سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے ادب و ثقافت کے قبیلے میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو اپنے قلم کی حرمت کو ہر چیز پر فوقیت دیتے ہیں ۔!
پاکستانی قوم گوناگوں مسائل کا شکار ہے ان میں سے بہت سے مسائل جینوئن ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کے حل ہونے میں وقت لگتا ہے ہم میں سے کچھ لوگ ان مسائل کے حل کے لئے جمہوریت کو مستحکم کرنے کی بات نہیں کرتے بلکہ انہیں بنیاد بنا کر عوام الناس کو جمہوریت سے متنفر کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں ۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ ہمارے ہاں جمہوریت کو چلنےہی نہیں دیا جاتا کچھ اقتدار طلب رہنما یہ یقین کر بیٹھے ہیں کہ عوام انہیں کبھی برسراقتدار نہیں آنے دیں گے چنانچہ وہ ’’کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے ‘‘ کے اصول پر عمل پیرا ہوتے ہوئے افراتفری پھیلانے میں لگے رہتے ہیں اور یوں وہ صرف جمہوری حکومت نہیں بلکہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ خدا کے لئے پاکستان پر رحم کریں ، آپ اپنے بچوں کے لئے ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان چھوڑ کر جائیں، اپنی ’’طاقت‘‘ کے غلط استعمال سے ہم شاید اپنی ایک نسل کو پلائو قورمہ کھلا دیں لیکن خدارا آئندہ نسلوں کے مقدر میں فاقے نہ لکھیں۔
آخر میں اس عہد کے بہت خوبصورت شاعر سلیم کوثرکی کشمیر کے پس منظر میں لکھی ایک نظم ملاحظہ فرمائیں۔
ارض کشمیر تو
جنت آرزو
تیری خوشبو ،دھنک
آج بھی چار سو
جس طرف دیکھتے خون میں ڈوبی ہوئی تیری تصویر ہے
ایک عہد وفا دل پہ روز ازل ہی سے تحریر ہے
چل رہے ہیں کہ پیروں میں تیری محبت کی زنجیر ہے
وقت کے آئینے میں ترا عکس ہے
ایک تعبیر تو خواب کے روبرو
ارض کشمیر تو
امن عالم کے سب دعویداروں کا چہرہ دکھانے لگی
اب ہوا دربدر ہو کے تیری کہانی سنانے لگی
تیرے زخمی بدن سے رہائی کی مہکار آنے لگی
ہم ترے ساتھ تھے ہم ترے ساتھ ہیں
تو ہماری تمنائوں کی آبرو
ارض کشمیر تو
تیری خاطر اندھیروں سے لڑتے ہیں ہم روشنی کے لئے
جانثاری کی تاریخ لکھتے ہیں ہم زندگی کے لئے
گنبد وقت میں گونجتی ہے صدا مصطفیٰ کے لئے
جو ترے حسن کی نذر کرتے رہے
رائیگاں تو نہیں جائے گا وہ لہو
ارض کشمیر تو
جنت آرزو
تیری خوشبو دھنک
آج بھی چار سو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *