پراپرٹی اشرافیہ ۔ باقی لوگ کہاں جائیں؟

khalid mehmood rasool

چند ہفتے قبل کی بات ہے انگریزی اور اردو کے بڑے بڑے اخبارات میں کراچی کی سب سے بڑی ہاوسنگ اسکیم کی طرف سے ایک فرنٹ پیج اشتہار شائع ہوا۔ شہ سرخی کے مطابق ان کے ایک حالیہ منصوبے پر کامیابی کا ہُن کچھ یوں برسا کہ فقط تین سالوں میں اس منصوبے میں پلاٹس کی قیمتیں چار سو فی صد بڑھ چکی ہیں۔ اشتہار کا مقصد یہی سمجھ آیا کہ جو احباب شومئیِ قسمت سے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے رہ گئے اور تین سال میں چار گنا منافع کی لاٹری سے محروم رہ گئے، ان کے لیے ہاؤسنگ سوسائٹی اس دوران میں انتہائی پریشان رہی، دن کو چین نہ رات کو نیند۔ کئی مہینوں کی سوچ بچار اوربھاگ دوڑ کے بعد با لآخر ہاؤ سنگ سوسائٹی نے ان کے
لیے ایک اور بہتی گنگا اور منافع کے ایک اور زبردست چانس کا بندو بست کیا ہے۔ اس نئی گنگا میں نہانے کے لیے نئے سرمایہ کاروں کو کچھ خاص تردد نہیں کرنا۔ بس ہاؤسنگ سوسائٹی کے نئے منصوبے میں ٌ خصوصی رعایتی ٌ قیمتوں پر پلاٹ بک کروانا ہیں۔ اس کے بعد ان کی مرضی ہے کہ تین سال لمبی تان کو سو جائیں اور وقت مو عودہ پر اٹھ کر چار گنا منافع کے خواب کی تعبیر دیکھیں یا ادھر ادھر کے کاموں میں تین سال صرف کریں اور کھلی آنکھوں سے تعبیر کا انتظار کریں۔
اس اشتہار میں کیے گئے وعدے پر ہمیں حیرت ہوئی نہ اچنبھا۔ ہوا یوں کہ اس سے چند روز قبل ہم نے اپنے ایک رفیق کار سے ڈرتے ڈرتے مشورہ کیا کہ سر چھپانے کے لیے کچھ سرمایہ کاری کے لیے جمع جتھا کر رہے ہیں۔ سوچ رہے ہیں کہ دور پار کہیں چھوٹا موٹا پلاٹ لے لیں اور صبح شام اس علاقے کی ترقی کی دعائیں مانگیں۔ سنتے ہی افسردہ ہو گئے۔۔۔ ارے صاحب، آپ نے دیر کر دی۔ ہمارے ساتھی شفیق صاحب نے گذشتہ سال فلاں سوسائٹی میں سات مرلے کا پلاٹ پینتیس لاکھ میں لیا تھا۔ ایک سال بعد ان انہیں پچپن لا کھ روپے آفر ہوئے، انہوں نے نہیں بیچا۔ ہم نے ان کی تشفی کے لیے گذارش کی کہ ہم کسی کو یاد رکھنے اور بھول جانے میں ایسی ہی کاہلی کے ساتھ جوان اور ادھیڑ عمر ہوئے ہیں۔ لہذا وہ فکر نہ کریں۔ البتہ اب بتائیں کہ کیا کریں۔ انہوں نے دوسرا سوال کیا کہ آپ کا ٹارگٹ کیا ہے؟ یعنی سرمایہ کاری کتنی کرنی مقصود ہے؟ ہم نے اگلے چند مہینے کی ممکنہ بچت جوڑ کر انہیں بتلایا کہ پچیس تیس لاکھ تک بندو بست کر لیں گے۔ سن کر ہماری تنگ دامنی پر مسکرائے اور بولے، اس سے تو کچھ بھی نہیں آئے گا۔ بڑی سوسائیٹیوں کو تو بھول جائیں۔ ذرا ہلکی سوسائیٹیوں میں البتہ کوشش کی جا سکتی ہے لیکن وہ بھی پانچ مرلے کا پلاٹ۔ دس مرلے کا خواب چھوڑ دیں۔
پہلے اپنے آپ پر ہنسی اور غصہ آتا تھا، اب نہیں آتا۔ ان کی گفتگو سن کر ہمیں چند ماہ قبل کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ لاہور ڈیفنس میں ایک دوست کے ہاں گئے۔ کافی مدت بعد ملاقات ہو رہی تھی۔ دو کنال کے گھر میں سامان بکھرا پڑا تھا۔ پوچھا ، گھر بدل رہے ہیں کیا؟ بولے ، نہیں ، گھر بنائے آٹھ سال ہو گئے تھے۔ بیوی بچے مصر تھے کہ اسے ذرا ٹھیک ٹھاک کریں، نئے ٹرینڈ کے مطابق۔ باتوں باتوں میں گھر کو ٹھیک ٹھاک کرنے کا تخمینہ معلوم ہوا تو اپنی ٌ مبینہٌ سرمایہ کاری ٹارگٹ پر شرم سی آئی۔ ہمت اور اعتماد بحال کرتے ہوئے ان سے پوچھا ، آج کل کیا ہو رہا ہے۔ بولے، ہانگ کانگ آفس تو بیٹا اور مینیجر چلارہے ہیں۔ میں زیادہ تر ادھر ہی ہوتا ہوں۔ فون اور ای میلز سے ہی اس دفتر پر کنٹرول رکھتا ہوں۔ ہم نے پوچھا ، تو یہاں کیا شغل رہتا ہے۔ بولے، کچھ خاص نہیں۔ کچھ تھوڑا بہت پراپرٹی کا کا م کر لیتا ہوں۔ مہینے میں آٹھ دس فائیلیں خرید لیں، آٹھ دس بیچ لیں۔ اللہ کا کرم ہے دال روٹی چل رہی ہے۔ ہم نے دل ہی دل میں ان کی دال روٹی کا حساب لگایا۔ دس فائیلوں کی اوسط سے ایک سال میں ایک سو بیس پلاٹ ، ایک پلاٹ کی اوسط قیمت کروڑ روپے سے زائد۔ ہمارے حساب کتاب سے پہلے ہی بولے۔ بس پچھلا سال ذرا ٹھیک نہیں گیا۔ دراصل میں نے پلاٹ ذرا جلدی بیچ دیے لیکن اس کے بعد قیمتیں شوں کر کے اوپر گئیں۔ سمجھیں سو ا دو کروڑ روپے کا نقصان ہو گیا۔ ہم نے حسبِ توفیق ان سے ہمدردی کی اور راستہ ناپنے میں ہی عافیت جانی۔
امارت اور سفید پوشی میں بڑھتی ہوئی خلیج کے ایسے ہولناک مظاہراکثر دیکھتے ہیں تو بعض اوقات دل دھڑکنا بھول جاتا ہے۔ گذشتہ سال ہم نے اپنی کتاب گوشوارہ کی کمپوزنگ ایک صاحب سے کروائی۔ بھلے آدمی تھے۔ رزق حلال کے لیے دو دو ملازمتیں کرتے۔ دن میں ایک پبلشر کے ہاں اور رات کی شفٹ ایک اخبار میں۔ کرائے کے گھر میں زندگی گذر گئی۔ سالوں پیٹ کاٹ کاٹ کر جو جمع جتھا کیا اس سے ایک پلاٹ چند سال قبل خرید رکھا تھا۔ اب وہ سوسائٹی قدرے آباد ہو گئی تھی۔ اس دوران مالک مکان نے انہیں نوٹس دے دیا۔ اپنے پلاٹ کا تخمینہ لگوایا تو معلوم ہوا تیرہ لاکھ میں فروخت ہو سکتا ہے۔ دو لاکھ مزید پکڑ ڈھکڑ کر ایک معمولی علاقے میں مکان ڈھونڈنے نکلے تو اندازہ ہوا کہ اڑھائی مرلے کا مکان بھی بیس لاکھ سے کم دستیاب نہیں۔ ان کی پریشانی کلیجہ شاق کیے دیتی۔ کمپوزنگ کرتے کرتے اکثر رک جاتے؛ کمال ہو گیا، یعنی پندرہ لاکھ میں اڑھائی مرلے کا مکان بھی نہیں مل سکتا۔ غریب آدمی کدھر جائے؟
غریب کدھر جائے؟ متوسط طبقے کے سفید پوش کدھر جائیں؟ ان کی سننے کا کسی کے پاس وقت ہے نہ کسی کو ضرورت۔ صوبائی حکومتوں نے آہستہ آہستہ اپنے آپ کو ہاوسنگ مہیا کرنے کے بکھیڑے سے علیحدہ کر لیا ہے۔ نجی سیکٹر دن دو گنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک ہاؤسنگ سوسائٹی وجود میں آ رہی ہے۔ اخبارات ان سوسائٹیوں کے اشتہارات سے بھرے ہوئے ہیں۔ بلکہ دوبئی اور آسٹریلیا تک کے نامے مقامی سرمایہ کاروں کے نام آتے رہتے ہیں۔ بلیک اکونومی جو اس وقت فارمل اکونومی کا ساٹھ فی صد کے لگ بھگ ہے، اس کا زیادہ تر سرمایہ رئیل اسٹیٹ میں کھپایا گیا ہے۔ منافع کی حیران کن شرح نے سرمایہ کاروں کو اور کہیں کا نہیں چھوڑا۔ انڈسٹری اور تجارت میں سالانہ شرح نمو بمشکل چار سے چھ فی صد سالانہ ہے۔ بنک ڈیپازٹ سے قدرے بہتر منافع غنیمت جانا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے سالانہ دس سے پندرہ فی صد منافع معقول سمجھا جاتا ہے۔ اسٹاک ایکسچینج کی منافع بخش کمپنیوں کی بیلنس شیٹس میں زیادہ تر کمپنیوں کی شرح منافع اس کے لگ بھگ ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پراپرٹی میں اسقدر زبردست منافع کی موجودگی میں کوئی صنعت اور تجارت میں کیوں سر کھپائے ؟ اسی لیے حیرت نہیں ہوتی کہ اسٹاک ایکسچینج میں شاید ہی کوئی کمپنی گذشتہ ایک سال میں رجسٹر ہوئی ہو لیکن پراپرٹی میں ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔
وفاقی حکومت کو اچانک یاد آیا ہے کہ پراپرٹی بزنس سے لوگ اربوں کما رہے ہیں لیکن خزانے کو پھوٹی کوڑی بھی نہیں دیتے۔ اس بار بجٹ میں حکومت نے پراپرٹی کی مالیت کے تخمینے کے نظام میں تبدیلی کر دی ہے اور خرید و فروخت پر گین ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ پراپرٹی سے منسلک سرمایہ کارپریشان ہیں۔حکومت نے اس ہفتے رئیل اسٹیٹ کے نمائیندوں اور بلڈرز سے مذاکرات کیے ہیں۔ طے پایا کہ تیرہ رکنی کمیٹی بنائی جائے جو پراپرٹی کی مالیت جانچنے کے نئے نظام کے ایسے خدوخال بنائے جس سے ان کی ٌ دال روٹی ٌ بھی چلتی رہے اور حکومت کا دال دلیا بھی ہو جائے۔ حکومت نے چند بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنیوں اور بلڈرز کے خلاف تین سو ارب سے زائد ٹیکس چھپانے کی تحقیقات کا سامان تیار کر کھا ہے۔ اس لیے ہمیں امید ہے کہ حکومت اور رئیل اسٹیٹ کمپنیوں اور بلڈرز کے درمیان بقائے باہمی کے اصولوں کے مطابق سمجھوتہ ہو ہی جائے گا۔
البتہ ہم اس سوچ میں غلطاں ہیں کہ سفید پوش اور غریب طبقے کے لوگوں کا کیا بنے گا؟ پلاٹ کی قیمتیں پہلے ہی دسترس سے باہر ہیں۔ اس پر مستزاد مکان بنانے کی لاگت بھی آسمان کے ہم پلہ ہے۔ شہر وں کے جنگل پھیل رہے ہیں لیکن اس کے باسیوں کویہاں سر چھپانے کی جگہ ملنا مشکل تر ہو گیا ہے۔ سرائیکی کے نہایت خوب صورت اور حقیقت پرست شاعر احمد خان طارق یاد آئے۔۔۔
کوئی ایجھا کال ہے روہی تے برسات ادھوری لگدی اے
تونڑیں طارق چن دی چوڈویں اے ساکوں رات ادھوری لگدی اے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *